قومی زبان

اس دشت بے اماں میں اترنا مجھے بھی ہے

اس دشت بے اماں میں اترنا مجھے بھی ہے پاس اس دل حزیں کا تو ورنہ مجھے بھی ہے دنیا حسین تر ہے مگر اے مرے خدا بھیجا ہے تو نے اور گزرنا مجھے بھی ہے فرصت ملی تو ترک کروں گا تعلقات یہ کام ایک بار تو کرنا مجھے بھی ہے اس نے بھی ایک آن نظر آنا ہے ضرور اس بھیڑ میں کہیں سے ابھرنا مجھے بھی ...

مزید پڑھیے

تپتی زمیں پہ پاؤں نہ دھر اب بھی لوٹ جا

تپتی زمیں پہ پاؤں نہ دھر اب بھی لوٹ جا کیوں ہو رہا ہے خاک بہ سر اب بھی لوٹ جا اب تک کھلے ہوئے ہیں صداقت کے راستے بند ہو نہ جائیں وقت کے در اب بھی لوٹ جا اترا نہ تو نوشتۂ دیوار پڑھ بھی لے دار و رسن کی بات نہ کر اب بھی لوٹ جا آنکھوں کے بادبان سے ویرانیاں بھی دیکھ کس درجہ لٹ چکا ہے یہ ...

مزید پڑھیے

تب ہزاروں اندھیروں سے

اک روشنی کی کرن پھوٹ کر سرد ویران کمرے کے تاریک دیوار و در سے الجھنے لگی اور کمرے میں پھرتے ہوئے سینکڑوں زرد ذرے بلبلاتے سسکتے ہوئے میری جانب بڑھے میں نے اپنی شہادت کی انگلی اٹھائی زرد ذروں سے گویا ہوا دوستو آؤ بڑھتے چلیں روشنی کی طرح روشنی کی طرف روشنی جو ہماری تمناؤں کی پیاس ...

مزید پڑھیے

سوال سوال سیاہ کشکول

مدتوں سے خموشی کے بے انت ورنوں کی اندھی گپھا میں کھڑا وہ میری پتلیوں میں سوالوں کا نیزہ اتارے ہوئے پوچھتا ہے میں تیری تمنا میں اپنے لیے درد کے اک سیہ رو سمندر سے تنہائیوں کے سیہ سیپ لایا سکھ کے سارے دیئے اور مسرت کی مالاؤں کو توڑ کر دکھ کا ور میں نے مانگا کہ تو میری رکھشا کو ...

مزید پڑھیے

کالے موسموں کی آخری رات

تب ہزاروں اندھیروں سے اک روشنی کی کرن پھوٹ کر سرد ویران کمرے کے تاریک دیوار و در سے الجھنے لگی اور کمرے میں پھرتے ہوئے سیکڑوں زرد ذرے صداؤں کے آغوش پر بلبلاتے سسکتے ہوئے میری جانب بڑھے میں نے اپنی شہادت کی انگلی اٹھائی زرد ذروں سے گویا ہوا دوستو آؤ بڑھتے چلیں روشنی کی طرف روشنی ...

مزید پڑھیے

سوال سوال سیاہ کشکول

مدتوں سے خموشی کے بے انت ورنوں کی اندھی گپھا میں کھڑا وہ مری پتلیوں میں سوالوں کا نیزہ اتارے ہوئے پوچھتا ہے میں تیری تمنا میں اپنے لیے درد کے اک سیہ رو سمندر سے تنہائیوں کے سیہ سیپ لایا سکھ کے سارے دئے اور مسرت کی مالاؤں کو توڑ کر دکھ کا ور میں نے مانگا کہ تو میری رکھشا کو آئے مگر ...

مزید پڑھیے

زندہ رہنے کا اسم اعظم

پھر صدا تنگ و تاریک غاروں سے ابھری تا بہ حد نظر نیلگوں آسمانوں سے الجھی پھر صداؤں کے بے نور سے شامیانے مقید فضاؤں کا حصہ بنے اور بگولوں میں الجھا ہوا اک مسافر گرا زردیوں نے صداؤں کا پیچھا کیا پھر صداؤں کے اندھے کنویں سے زبانوں کے پر شور رہٹوں کی اک اک کڑی سامنے آ گئی تب کسی نے ...

مزید پڑھیے

ایسا کیوں ہے

مالک میرے بھاری پتھر ڈھونے والے بھوکے پیاسے سونے والے چپکے چپکے رونے والے ڈرتے ڈرتے جینے والے تیرے ہی بندے ہیں یا پھر ان کا کوئی اور خدا ہے مالک میرے ایسا کیوں ہے اک جنت کے وعدے پر تو پل پل دوزخ میں رکھتا ہے ایسا کیوں ہے اک روٹی کی خاطر بندہ سب کچھ گروی رکھ دیتا ہے اور اک بندہ سب ...

مزید پڑھیے

شہر بینا کے لوگ

دست شفقت کٹا اور ہوا میں معلق ہوا آنکھ جھپکی تو پلکوں پہ ٹھہری ہوئی خواہشیں دھول میں اٹ گئیں شہر بینا کی سڑکوں پہ نا بینا چلنے لگے ایک نادیدہ تلوار دل میں اترنے لگی پاؤں کی دھول زنجیر بن کر چھنکنے لگی اور قدم سبز رو خاک سے خوف کھانے لگے ذہن میں اجنبی سرزمیں کے خیالات آنے لگے سارے ...

مزید پڑھیے

خواب و تعبیر بے نشاں میں تھا

خواب و تعبیر بے نشاں میں تھا ایک روداد رائیگاں میں تھا دو طرف تھا ہجوم صدیوں کا ایک لمحہ سا درمیاں میں تھا بہتے پانی پہ جس کی تھی بنیاد خام مٹی کا وہ مکاں میں تھا میں وہاں ہوں جہاں نہیں کوئی کچھ نہیں تھا جہاں وہاں میں تھا صورت نقطۂ حباب اعجازؔ محرم بحر بیکراں میں تھا

مزید پڑھیے
صفحہ 4434 سے 6203