قومی زبان

سرخ موسم کی کہانی ہے پرانی ہو نہ ہو

سرخ موسم کی کہانی ہے پرانی ہو نہ ہو آسماں کا رنگ آگے آسمانی ہو نہ ہو خواب میں مجھ کو نظر آتی ہیں بھیگی سیپیاں آنکھ کھلنے پر تری آنکھوں میں پانی ہو نہ ہو ساتھ ہوتی ہے مرے ہر گام پر سنجیدگی ہو رہی ہے دور اب مجھ سے جوانی ہو نہ ہو ہر جگہ نکلے گی تیری بات مجھ کو دیکھ کر تذکرہ تیرا ...

مزید پڑھیے

درخت جاں پر عذاب رت تھی نہ برگ جاگے نہ پھول آئے

درخت جاں پر عذاب رت تھی نہ برگ جاگے نہ پھول آئے بہار وادی سے جتنے پنچھی ادھر کو آئے ملول آئے نشاط منزل نہیں تو ان کو کوئی سا اجر سفر ہی دے دو وہ رہ نورد رہ جنوں جو پہن کے راہوں کی دھول آئے وہ ساری خوشیاں جو اس نے چاہیں اٹھا کے جھولی میں اپنی رکھ لیں ہمارے حصے میں عذر آئے جواز آئے ...

مزید پڑھیے

ان اجڑی بستیوں کا کوئی تو نشاں رہے

ان اجڑی بستیوں کا کوئی تو نشاں رہے چولھے جلیں کہ گھر ہی جلیں پر دھواں رہے نیرو نے بنسری کی نئی تان چھیڑ دی اب روم کا نصیب فقط داستاں رہے پانی سمندروں کا نہ چھلنی سے ماپیے ایسا نہ ہو کہ سارا کیا رائیگاں رہے مجھ کو سپرد خاک کرو اس دعا کے ساتھ آنگن میں پھول کھلتے رہیں اور مکاں ...

مزید پڑھیے

تم ایسا کرنا کہ کوئی جگنو کوئی ستارہ سنبھال رکھنا

تم ایسا کرنا کہ کوئی جگنو کوئی ستارہ سنبھال رکھنا مرے اندھیروں کی فکر چھوڑو بس اپنے گھر کا خیال رکھنا اجاڑ موسم میں ریت دھرتی پہ فصل بوئی تھی چاندنی کی اب اس میں اگنے لگے اندھیرے تو کیسا جی میں ملال رکھنا دیار الفت میں اجنبی کو سفر ہے در پیش ظلمتوں کا کہیں وہ راہوں میں کھو نہ ...

مزید پڑھیے

ہنسی لبوں پہ سجائے اداس رہتا ہے

ہنسی لبوں پہ سجائے اداس رہتا ہے یہ کون ہے جو مرے گھر کے پاس رہتا ہے یہ اور بات کہ ملتا نہیں کوئی اس سے مگر وہ شخص سراپا سپاس رہتا ہے جہاں پہ ڈوب گیا میری آس کا سورج اسی جگہ وہ ستارہ شناس رہتا ہے گزر رہا ہوں میں سودا گروں کی بستی سے بدن پہ دیکھیے کب تک لباس رہتا ہے لکھی ہے کس نے ...

مزید پڑھیے

اب کرب کے طوفاں سے گزرنا ہی پڑے گا

اب کرب کے طوفاں سے گزرنا ہی پڑے گا سورج کو سمندر میں اترنا ہی پڑے گا فطرت کے تقاضے کبھی بدلے نہیں جاتے خوشبو ہے اگر وہ تو بکھرنا ہی پڑے گا پڑتی ہے تو پڑ جائے شکن اس کی جبیں پر سچائی کا اظہار تو کرنا ہی پڑے گا ہر شخص کو آئیں گے نظر رنگ سحر کے خورشید کی کرنوں کو بکھرنا ہی پڑے ...

مزید پڑھیے

حفظ گل کے لئے رکھتے جو نگہباں کچھ اور

حفظ گل کے لئے رکھتے جو نگہباں کچھ اور ہو گیا پھولوں سے محروم گلستاں کچھ اور لٹ کے سہمے ہوئے پودوں نے یہ سرگوشی کی اب نگہبانوں پہ رکھیں گے نگہباں کچھ اور شہر دل کچھ تو سجا لیں کہ بھرم رہ جائے حسن‌ فاتح کو ہیں تاراج کے ارماں کچھ اور وقت ہر سانس کے بدلے میں پسینہ مانگے دل یہ چاہے ...

مزید پڑھیے

کیڑے

مرے کپڑوں کو کیڑے کھا گئے تو میں نے یہ سوچا مرے ننگے بدن کا بھی یہی انجام ہونا ہے مگر یہ جان کر میں کتنا خوش ہوں کتنا آسودہ کہ میری روح میرا ذہن اور افکار و احساسات ہیں محفوظ کیڑوں سے مجھے ان کا خیال آتا ہے جن کی روح کو اور ذہن کو چاٹا ہے کیڑوں نے چھپانا چاہتے ہیں جو لباس فاخرہ میں ...

مزید پڑھیے

زندگی اک سزا لگے ہے مجھے

زندگی اک سزا لگے ہے مجھے جب سے تو بے وفا لگے ہے مجھے تجھ میں خود کو تلاش کرتا ہوں تو مرا آئینہ لگے ہے مجھے ناصح کم نگاہ کا کردار عشق میں اب برا لگے ہے مجھے اپنی آواز سے بھی ڈرتا ہوں ساز دل بھی سزا لگے ہے مجھے انتہا ہے یہ بد نصیبی کی ہر دعا بد دعا لگے ہے مجھے عاشقی جرم تو نہیں ...

مزید پڑھیے

کیا خبر تھی ایک دن یہ حادثہ ہو جائے گا

کیا خبر تھی ایک دن یہ حادثہ ہو جائے گا عمر بھر چاہا جسے وہ بے وفا ہو جائے گا ہو اگر عزم مصمم خواہش منزل کے ساتھ راہ کا پتھر بھی اک دن رہ نما ہو جائے گا اس قدر بڑھنے لگی ہے ہر طرف آلودگی سانس لینا آدمی کا مسئلہ ہو جائے گا زندگی بھر ساتھ چلنے کی جو کھاتا ہے قسم دیکھنا وہ راستے ہی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4429 سے 6203