قومی زبان

دنیا سبب شورش غم پوچھ رہی ہے

دنیا سبب شورش غم پوچھ رہی ہے اک مہر خموشی ہے کہ ہونٹوں پہ لگی ہے کچھ اور زیادہ اثر تشنہ لبی ہے جب سے تری آنکھوں سے چھلکتی ہوئی پی ہے اس جبر کا اے اہل جہاں نام کوئی ہے کلفت میں بھی آرام ہے غم میں بھی خوشی ہے ارباب چمن اپنی بہاروں سے یہ پوچھیں دامان گل و غنچہ میں کیوں آگ لگی ہے اے ...

مزید پڑھیے

وحشت آثار و سکوں سوز نظاروں کے سوا

وحشت آثار و سکوں سوز نظاروں کے سوا اور سب کچھ ہے گلستاں میں بہاروں کے سوا اب نہ بے باک نگاہی ہے نہ گستاخ لبی چند سہمے ہوئے مبہم سے اشاروں کے سوا ساقیا کوئی نہیں مجرم مے خانہ یہاں تیرے کم ظرف و نظر بادہ گساروں کے سوا حسرتیں ان میں ابھی دفن ہیں انسانوں کی نام کیا دیجیے سینوں کو ...

مزید پڑھیے

تمام شہر کو حیران کرنے والا ہوں

تمام شہر کو حیران کرنے والا ہوں میں اپنی موت کا اعلان کرنے والا ہوں میں جانتا ہوں کہ ہے فائدہ انہیں مجھ سے وہ سوچتے ہیں کہ نقصان کرنے والا ہوں ارادہ کر لیا اب تجھ کو بھول جانے کا میں خود کو بے سر و سامان کرنے والا ہوں سجا رہا ہوں وفاؤں سے دامن قرطاس اور اس کے پیار کو عنوان کرنے ...

مزید پڑھیے

توقیر اندھیروں کی بڑھا دی گئی شاید

توقیر اندھیروں کی بڑھا دی گئی شاید اک شمع جو روشن تھی بجھا دی گئی شاید پھر در بدری ہونے لگی اس کا مقدر پھر شوق کے شعلوں کو ہوا دی گئی شاید موہوم نظر آتا ہے اب جوش ملاقات کچھ گرمیٔ احساس گھٹا دی گئی شاید اس بار بھی شعلوں نے مچا ڈالی تباہی اس بار بھی شعلوں کو ہوا دی گئی ...

مزید پڑھیے

منتشر ہر شے قرینے سے سجا دی جائے گی

منتشر ہر شے قرینے سے سجا دی جائے گی یا مرے کمرے کی شخصیت مٹا دی جائے گی ساتھ رکھئے کام آئے گا بہت نام خدا خوف گر جاگا تو پھر کس کو صدا دی جائے گی آگ بھڑکے گی ہوا پا کر بڑا سچ یہ نہیں سچ بڑا یہ ہے کہ شعلوں کو ہوا دی جائے گی بے ٹھکانہ یوں کیا جائے گا اک جلتا چراغ طاقچے میں موم کی ...

مزید پڑھیے

غیظ کا سورج تھا سر پر سچ کو سچ کہتا تو کون

غیظ کا سورج تھا سر پر سچ کو سچ کہتا تو کون راس آتا کس کو محشر سچ کو سچ کہتا تو کون سب نے پڑھ رکھا تھا سچ کی جیت ہوتی ہے مگر تھا بھروسہ کس کو سچ پر سچ کو سچ کہتا تو کون مان رکھتا کون وش کا کون اپناتا صلیب کوئی عیسیٰ تھا نہ شنکر سچ کو سچ کہتا تو کون تھا کسی کا بھی نہ مقصد سچ کو ...

مزید پڑھیے

حادثوں کا سلسلہ منظر بہ منظر جم گیا

حادثوں کا سلسلہ منظر بہ منظر جم گیا ہر کسی کے دھڑ پہ اک فرعون کا سر جم گیا خاک کی کشتی تلے سونے کا ساغر جم گیا دیدۂ بے خواب میں خواب سکندر جم گیا موسموں کے بیچ کی دوری کا اندازہ لگاؤ بہہ گئے پربت پگھل کر اور سمندر جم گیا لڑکھڑا کر گر پڑی اونچی عمارت دفعتاً دفعتاً تعمیر کی کرسی ...

مزید پڑھیے

ڈھونڈ سایہ نہ شجر آگے بھی

ڈھونڈ سایہ نہ شجر آگے بھی طے جو کرنا ہے سفر آگے بھی یوں ہی شمشیروں کو للکارے گا رہ گیا دھڑ پہ جو سر آگے بھی دور تک نام نہیں سائے کا ہیں تو پیچھے بھی شجر آگے بھی کیوں ستم گر کو ستم گر بولو زندہ رہنا ہے اگر آگے بھی روکتا کون سفر کس دل سے تھی مرادوں کی ڈگر آگے بھی دائرے ٹوٹ نہ پائے ...

مزید پڑھیے

فضائے شام ضیائے سحر اسی سے ملی

فضائے شام ضیائے سحر اسی سے ملی کشش حیات کو المختصر اسی سے ملی اسی سے مجھ کو ملا اشتیاق منزل کا مرے سفر کو فضائے سفر اسی سے ملی بلند مرتبۂ مشت خاک اسی نے کیا تمام فہم و ذکا و نظر اسی سے ملی غرور خود پہ جسے جس قدر بھی ہو لیکن ملی جسے بھی متاع ہنر اسی سے ملی اسی نے ظلمت گم گشتگی کو ...

مزید پڑھیے

بزم تنہائی میں عکس شعلہ پیکر تھا کوئی

بزم تنہائی میں عکس شعلہ پیکر تھا کوئی یا ہمارے سامنے یادوں کا لشکر تھا کوئی قربتوں کے گھاٹ پر سوکھی ندی ثابت ہوا فاصلوں کے دشت میں گہرا سمندر تھا کوئی اس کی ساری التجائیں حکم ٹھہرائی گئیں جس گھڑی دیکھا گیا جامے سے باہر تھا کوئی دیوتا ہے اب وہی مندر کے آسن پر جما ٹھوکریں کھاتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4428 سے 6203