ہوا کے واسطے اک کام چھوڑ آیا ہوں
ہوا کے واسطے اک کام چھوڑ آیا ہوں دیا جلا کے سر شام چھوڑ آیا ہوں کبھی نصیب ہو فرصت تو اس کو پڑھ لینا وہ ایک خط جو ترے نام چھوڑ آیا ہوں ہوائے دشت و بیاباں بھی مجھ سے برہم ہے میں اپنے گھر کے در و بام چھوڑ آیا ہوں کوئی چراغ سر رہ گزر نہیں نہ سہی میں نقش پا کو بہر گام چھوڑ آیا ہوں ابھی ...