قومی زبان

ہوا کے واسطے اک کام چھوڑ آیا ہوں

ہوا کے واسطے اک کام چھوڑ آیا ہوں دیا جلا کے سر شام چھوڑ آیا ہوں کبھی نصیب ہو فرصت تو اس کو پڑھ لینا وہ ایک خط جو ترے نام چھوڑ آیا ہوں ہوائے دشت و بیاباں بھی مجھ سے برہم ہے میں اپنے گھر کے در و بام چھوڑ آیا ہوں کوئی چراغ سر رہ گزر نہیں نہ سہی میں نقش پا کو بہر گام چھوڑ آیا ہوں ابھی ...

مزید پڑھیے

سائے میں آبلوں کی جلن اور بڑھ گئی

سائے میں آبلوں کی جلن اور بڑھ گئی تھک کر جو بیٹھے ہم تو تھکن اور بڑھ گئی کل اس قدر تھا حبس ہمارے مکان میں سنکی ہوا ذرا تو گھٹن اور بڑھ گئی کانٹوں کی گفتگو سے خلش دل میں کم نہ تھی پھولوں کے تذکرے سے چبھن اور بڑھ گئی یہ باغباں ہمارے لہو کا کمال ہے نیرنگئ بہار چمن اور بڑھ گئی یہ ...

مزید پڑھیے

ظالم سے مصطفیٰ کا عمل چاہتے ہیں لوگ

ظالم سے مصطفیٰ کا عمل چاہتے ہیں لوگ سوکھے ہوئے درخت سے پھل چاہتے ہیں لوگ کافی ہے جن کے واسطے چھوٹا سا اک مکاں پوچھے کوئی تو شیش محل چاہتے ہیں لوگ سائے کی مانگتے ہیں ردا آفتاب سے پتھر سے آئنے کا بدل چاہتے ہیں لوگ کب تک کسی کی زلف پریشاں کا تذکرہ کچھ اپنی الجھنوں کا بھی حل چاہتے ...

مزید پڑھیے

نقش بر آب ہو گیا ہوں میں

نقش بر آب ہو گیا ہوں میں کتنا کم یاب ہو گیا ہوں میں جھریاں کہہ رہی ہیں چہرے کی خشک تالاب ہو گیا ہوں میں کیا کروں گا میں اب خوشی لے کر غم سے سیراب ہو گیا ہوں میں یاد رکھتا نہیں مجھے کوئی عرصۂ خواب ہو گیا ہوں میں اس قدر بار غم اٹھایا ہے جھک کے محراب ہو گیا ہوں میں اک مسیحا کی ...

مزید پڑھیے

رنگ موسم کے ساتھ لائے ہیں

رنگ موسم کے ساتھ لائے ہیں یہ پرندے کہاں سے آئے ہیں بیٹھ جاتے ہیں راہ رو تھک کر کتنے ہمت شکن یہ سائے ہیں دھوپ اپنی زمین ہے اپنی پیڑ اپنے نہیں پرائے ہیں اپنے احباب کی خوشی کے لئے بلا ارادہ بھی مسکرائے ہیں دشمنوں کو قریب سے دیکھا دوستوں کے فریب کھائے ہیں ہم نے توڑا ہے ظلمتوں کا ...

مزید پڑھیے

مٹ گیا غم ترے تکلم سے

مٹ گیا غم ترے تکلم سے لب ہوئے آشنا تبسم سے کس کے نقش قدم ہیں راہوں میں جگمگاتے ہیں ماہ و انجم سے ہے زمانہ بڑا زمانہ شناس کبھی مجھ سے گلا کبھی تم سے ناخدا بھی ملا تو ایسا ملا آشنا جو نہیں تلاطم سے اس نے آ کر مزاج پوچھ لیا ہم تو بیٹھے ہوئے تھے گم صم سے ناخدا نے ڈبو دیا ان کو وہ ...

مزید پڑھیے

اسے یہ حق ہے کہ وہ مجھ سے اختلاف کرے

اسے یہ حق ہے کہ وہ مجھ سے اختلاف کرے مگر وجود کا میرے بھی اعتراف کرے اسے تو اپنی بھی صورت نظر نہیں آتی وہ اپنے شیشۂ دل کی تو گرد صاف کرے کیا جو اس نے مرے ساتھ نا مناسب تھا معاف کر دیا میں نے خدا معاف کرے وہ شخص جو کسی مسجد میں جا نہیں سکتا تو اپنے گھر میں ہی کچھ روز اعتکاف کرے وہ ...

مزید پڑھیے

ان کتابوں میں بند اجالے ہیں

آدمی کا وقار علم سے ہے زندگی کی بہار علم سے ہے علم سے بہرہ ور جو ہوتے ہیں نیکیاں وہ زمیں میں بوتے ہیں علم ہے روشنی چراغ ہے علم دل کی دھڑکن ہے اور دماغ ہے علم ہیں جو علم کتاب سے محروم ان کو دنیا میں کچھ نہیں معلوم ان کا جینا بھی ہے کوئی جینا آنکھ تو ہے مگر ہیں نا بینا جہل ظلمت ہے ...

مزید پڑھیے

نظام فکر نے بدلا ہی تھا سوال کا رنگ

نظام فکر نے بدلا ہی تھا سوال کا رنگ جھلک اٹھا کئی چہروں سے انفعال کا رنگ نہ گل کدوں کو میسر نہ چاند تاروں کو ترے وصال کی خوشبو ترے جمال کا رنگ ذرا سی دیر کو چہرے دمک تو جاتے ہیں خوشی کا رنگ ہو یا ہو غم و ملال کا رنگ زمانہ اپنی کہانی سنا رہا تھا ہمیں ابھر گیا مگر آغاز میں مآل کا ...

مزید پڑھیے

ناسزا عالم امکاں میں سزا لگتا ہے

ناسزا عالم امکاں میں سزا لگتا ہے ناروا بھی کسی موقع پہ روا لگتا ہے یوں تو گلشن میں ہیں سب مدعیٔ یک رنگی باوجود اس کے ہر اک رنگ جدا لگتا ہے کبھی دشمن تو کبھی دوست کبھی کچھ بھی نہیں مجھے خود بھی نہیں معلوم وہ کیا لگتا ہے اس کی باتوں میں ہیں انداز غلط سمتوں کے ہو نہ ہو یہ تو کوئی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4427 سے 6203