قومی زبان

یوں نہ مل مجھ سے خفا ہو جیسے

یوں نہ مل مجھ سے خفا ہو جیسے ساتھ چل موج صبا ہو جیسے لوگ یوں دیکھ کے ہنس دیتے ہیں تو مجھے بھول گیا ہو جیسے عشق کو شرک کی حد تک نہ بڑھا یوں نہ مل ہم سے خدا ہو جیسے موت بھی آئی تو اس ناز کے ساتھ مجھ پہ احسان کیا ہو جیسے ایسے انجان بنے بیٹھے ہو تم کو کچھ بھی نہ پتا ہو جیسے ہچکیاں ...

مزید پڑھیے

بخش دی حال زبوں نے جلوہ سامانی مجھے

بخش دی حال زبوں نے جلوہ سامانی مجھے کاش مل جائے زمانے کی پریشانی مجھے اے نگاہ دوست اے سرمایہ دار بے خودی ہوش آتا ہے تو ہوتی ہے پریشانی مجھے کھل چکا ہاں کھل چکا دل پر ترا رنگیں فریب دے نہ دھوکا اے طلسم ہستی فانی مجھے پھر نہ ثابت ہو کہیں ننگ بیاباں جسم راز سوچ کر کرنا جنوں مائل ...

مزید پڑھیے

ہم سے الفت جتائی جاتی ہے

ہم سے الفت جتائی جاتی ہے بے قراری بڑھائی جاتی ہے دیکھ کر ان کے لب پہ خندۂ نور نیند سی غم کو آئی جاتی ہے غم الفت کے کارخانے میں زندگی جگمگائی جاتی ہے ان کی چشم کرم پہ ناز نہ کر یوں بھی ہستی مٹائی جاتی ہے بزم میں دیکھ رنگ آمد دوست روشنی تھرتھرائی جاتی ہے دیکھ اے دل وہ اٹھ رہی ہے ...

مزید پڑھیے

اپنی رسوائی کا احساس تو اب کچھ بھی نہیں

اپنی رسوائی کا احساس تو اب کچھ بھی نہیں ہونٹ ہی سن ہیں خموشی کا سبب کچھ بھی نہیں یہ اجالوں کے جزیرے یہ سرابوں کے دیار سحر‌ و افسوں کے سوا جشن طرب کچھ بھی نہیں بہہ گئے وقت کے سیلاب میں جسموں کے سہاگ اب نہ وہ چشم نہ رخسار نہ لب کچھ بھی نہیں ریزہ ریزہ ہے کسی خواب‌ زر افشاں کا ...

مزید پڑھیے

دل کی رغبت ہے جب آپ ہی کی طرف

دل کی رغبت ہے جب آپ ہی کی طرف کس لیے آنکھ اٹھتی کسی کی طرف کیسی الجھن ہے بازی گہہ شوق میں ہم ہیں ان کی طرف وہ کسی کی طرف صرف اشک و تبسم میں الجھے رہے ہم نے دیکھا نہیں زندگی کی طرف ہم جو غول بیاباں سے واقف نہیں چل دیے دور کی روشنی کی طرف دیر و کعبہ سے پیاسی جبینیں لیے آ گئے ہم تری ...

مزید پڑھیے

آنکھ میں آنسو ہیں احساس مسرت دل میں ہے

آنکھ میں آنسو ہیں احساس مسرت دل میں ہے ایک فردوس نظارہ آپ کی محفل میں ہے ہر جفا تیری مناسب ہر ستم تیرا درست اب وہی میری تمنا ہے جو تیرے دل میں ہے جب بجز محبوب ہو جاتی ہے اوجھل کائنات اک مقام ایسا بھی جذب شوق کی منزل میں ہے فصل گل میں بے تحاشا ہنسنے والو ہوشیار اضطراب دل کا پہلو ...

مزید پڑھیے

توبہ کی نازشوں پہ ستم ڈھا کے پی گیا

توبہ کی نازشوں پہ ستم ڈھا کے پی گیا ''پی''! اس نے جب کہا تو میں گھبرا کے پی گیا دل ہی تو ہے اٹھائے کہاں تک غم و الم میں روز کے ملال سے اکتا کے پی گیا تھیں لاکھ گرچہ محشر و مرقد کی الجھنیں گتھی کو ضبط شوق کی سلجھا کے پی گیا مے خانۂ بہار میں مدت کا تشنہ لب ساقی خطا معاف! خطا کھا کے پی ...

مزید پڑھیے

موسم سے رنگ و بو ہیں خفا دیکھتے چلو

موسم سے رنگ و بو ہیں خفا دیکھتے چلو یہ کیا چلی چمن میں ہوا دیکھتے چلو انبار ہر طرف ہیں اندھیروں کے یہ درست شاید نہیں ہو آب بقا دیکھتے چلو تسکین سنبل و گل و لالہ کے واسطے کیا دے رہی ہے باد صبا دیکھتے چلو جتنے تھے جاں نثار چمن بعد صبح نو کچھ اجر بھی کسی کو ملا دیکھتے چلو اصنام زر ...

مزید پڑھیے

خشک دریا پڑا ہے خواہش کا

خشک دریا پڑا ہے خواہش کا خواب دیکھا تھا ہم نے بارش کا مستقل دل جلائے رکھتا ہے ہے یہ موسم ہوا کی سازش کا اس سے کہنے کو تو بہت کچھ ہے وقت ملتا نہیں گزارش کا کوئی اس سے تو کچھ نہیں کہتا بو رہا ہے جو بیچ رنجش کا پا بہ زنجیر چل رہے ہیں جو ہم یہ بھی پہلو ہے اک نمائش کا پھول کل تھے تو ...

مزید پڑھیے

کتنے باہوش ہو گئے ہم لوگ

کتنے باہوش ہو گئے ہم لوگ خود فراموش ہو گئے ہم لوگ جس نے چاہا ہمیں اذیت دی اور خاموش ہو گئے ہم لوگ دل کی آواز بھی نہیں سنتے کیا گراں گوش ہو گئے ہم لوگ ہم کو دنیا نے پارسا سمجھا جب خطا کوش ہو گئے ہم لوگ پی گئے جھڑکیاں بھی ساقی کی کیا بلانوش ہو گئے ہم لوگ اس طرح پی رہے ہیں خون ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4426 سے 6203