قومی زبان

تری رحمتوں کا طالب مجھے آس تیرے در سے

تری رحمتوں کا طالب مجھے آس تیرے در سے یہ قدم بہک نہ جائے مری مفلسی کے ڈر سے ہے تونگروں کا میلہ تو غریب ہے اکیلا ترا دل نہ ٹوٹ جائے تو ابھی نہ جا ادھر سے کئی جام خالی کرکے وہ ابھی بھی ہوش میں ہیں میں نشہ میں ہوں قسم سے میں نے پی جو لی نظر سے اسے خوف نے کنارے پہ پہنچنے نہ دیا ...

مزید پڑھیے

سب منافق ہی نظر آتے ہیں باطل کے سوا

سب منافق ہی نظر آتے ہیں باطل کے سوا ہیں سبھی شاد مرے قتل پہ قاتل کے سوا اشک آنکھوں سے گناہوں کی ندامت میں بہے تب بھنور سے نہ کہیں پہنچا میں ساحل کے سوا خواب دیکھو ہے ترقی کی ضمانت بے شک سب کو تعبیر مگر ملتی ہے کاہل کے سوا مسلکی جھگڑے فروعی یہ مسائل کو لئے آگ عالم ہی لگاتے ہیں یہ ...

مزید پڑھیے

مصیبت کے بھنور میں بھی شناور وہ سنبھلتا ہے

مصیبت کے بھنور میں بھی شناور وہ سنبھلتا ہے یقیں ہو جس کو خود پر وہ تلاطم سے نکلتا ہے ہتھیلی کی لکیروں سے نجومی کی ہی باتوں سے نکما اور کاہل تو خوشی سے بس اچھلتا ہے وفا کی راہ میں ہمدم غریبی ہو گئی حائل تجھے پانے کی خواہش میں مرا تو دل مچلتا ہے ہواؤں سے نہ گھبراؤ چراغوں کو جلانے ...

مزید پڑھیے

ملا قطرہ تو کرتے کیوں شکایت تم مقدر کی

ملا قطرہ تو کرتے کیوں شکایت تم مقدر کی گلہ قسمت کا ہے پھر کیوں نہ کوشش کی سمندر کی بڑے اخلاق والی ان کی اولاد نرینہ ہے شریعت کے تمسخر میں زباں چلتی ہے دختر کی اگر ہے خاکساری تو بلندی پر قدم ہوں گے جگہ فرعون حاصل کر نہیں سکتا سکندر کی خدا پر ہو یقیں کامل اگر انساں نہ ہو ...

مزید پڑھیے

تھم گئی وقت کی رفتار ترے کوچے میں

تھم گئی وقت کی رفتار ترے کوچے میں ایسے ثابت ہوا سیار ترے کوچے میں منظر بام سر دید نہیں کھلتا ہے کچھ ہے نا دیدہ کا اسرار ترے کوچے میں ہر طلب گار کو ہے حاصل گفتار سکوت نہ ہے انکار نہ اقرار ترے کوچے میں آئینہ شام کا روشن رخ مہتاب سے کر عکس چمکے تو ہو دیدار ترے کوچے میں وصلت کار ...

مزید پڑھیے

محمل ہے مطلوب نہ لیلیٰ مانگتا ہے

محمل ہے مطلوب نہ لیلیٰ مانگتا ہے چاک گریباں قیس تو صحرا مانگتا ہے ہجر سر ویرانۂ جاں بھی مہر بلب وصل گلی کوچوں میں چرچا مانگتا ہے اس آئینہ خانے کا ہر رقص کناں اپنے سامنے اپنا تماشا مانگتا ہے ناامیدی لاکھ قفس ایجاد کرے طائر دل پرواز تمنا مانگتا ہے عمر بتاتا ہے امروز میں اور ...

مزید پڑھیے

ڈھونڈھتا ہوں روز و شب کون سے جہاں میں ہے

ڈھونڈھتا ہوں روز و شب کون سے جہاں میں ہے اک مکاں کہ روشن سا بستیٔ گماں میں ہے سست رو مسافر کی قسمتوں پہ کیا رونا تیز چلنے والا بھی دشت بے اماں میں ہے خوش بہت نہ ہو سن کر ساحلوں کا آوازہ اک فصیل پانی کی اور درمیاں میں ہے لوٹنے نہیں دیتا یہ طلسم رستوں کا جانتا ہوں میں ورنہ سکھ بہت ...

مزید پڑھیے

رہ رہے ہیں مکیں شبوں کے

رہ رہے ہیں مکیں شبوں کے کیا ہوئے ڈھیر سورجوں کے آنکھ میں خواب منجمد ہیں رنگ برساؤ حوصلوں کے خون سے طے کئے گئے ہیں راستے زرد موسموں کے مقتلوں سے اٹھائے میں نے پھول سے جسم دوستوں کے اے زمیں تیری عظمتوں میں بہہ گئے شہر واہموں کے

مزید پڑھیے

دشوار ہے اب راستا آسان سے آگے

دشوار ہے اب راستا آسان سے آگے رکھ عمر کہن پچھلا قدم دھیان سے آگے اٹکا ہوا سورج ہے اسی ایک سبق پر بڑھتا نہیں دن رات کی گردان سے آگے قسمت کی خرابی ہے کہ جاتا ہوں غلط سمت پڑتا ہے بیابان بیابان سے آگے پہنچا تو نہیں میں در وصلت پہ مگر ہاں سنتا ہوں کہیں ہے شب ہجران سے آگے نہ تخت نہ ...

مزید پڑھیے

اتنا طلسم یاد کے چقماق میں رہا

اتنا طلسم یاد کے چقماق میں رہا روشن چراغ دور کسی طاق میں رہا مخفی بھی تھا وصال کا وہ باب مختصر کچھ دل بھی محو ہجر کے اسباق میں رہا صحرا کے اشتراک پہ راضی تھے سب فریق محمل کا جو فساد تھا عشاق میں رہا مفقود ہو گیا ہے سیاق و سباق سے جو حرف عمر سیکڑوں اوراق میں رہا میں تھا کہ جس کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4394 سے 6203