قومی زبان

ہم تم جب بھی پیار کریں گے جان و دل صدقے ہوں گے

ہم تم جب بھی پیار کریں گے جان و دل صدقے ہوں گے روحوں کی خوشبو میں ہوں گی باہوں کے گجرے ہوں گے پیشروو تم بیت چکے اب ہم لوگوں کی باری ہے زندانوں کے در تو وا ہوں ہم آگے آگے ہوں گے گمنامی کی گلیوں میں تاریخ کہاں تک پہنچے گی ایک تمہی سقراط نہیں ہو اور بہت گزرے ہوں گے حسن اگر زنجیر کیا ...

مزید پڑھیے

قافلہ اترا صحرا میں اور پیش وہی منظر آئے

قافلہ اترا صحرا میں اور پیش وہی منظر آئے راکھ اڑی خیمہ گاہوں کی خون میں لتھڑے سر آئے گلیوں میں گھمسان کا رن ہے معرکہ دست بدست ہے یاں جسے بھی خود پر ناز بہت ہو آنگن سے باہر آئے اک آسیب سا لہراتا ہے بستی کی شہ راہوں پر شام ڈھلے جو گھر سے نکلے لوٹ کے پھر نہیں گھر آئے دنوں مہینوں ...

مزید پڑھیے

گلی سے اپنی اٹھاتا ہے وہ بہانے سے

گلی سے اپنی اٹھاتا ہے وہ بہانے سے میں بے خبر رہوں دنیا کے آنے جانے سے کبھی کبھی تو غنیمت ہے یاد رفتہ کی بٹھا نہ روز لگا کے اسے سرہانے سے عجیب شخص تھا میں بھی بھلا نہیں پایا کیا نہ اس نے بھی انکار یاد آنے سے اٹھا رکھی ہے کسی نے کمان سورج کی گرا رہا ہے مرے رات دن نشانے سے کوئی سبب ...

مزید پڑھیے

پھیلا عجب غبار ہے آئینہ گاہ میں

پھیلا عجب غبار ہے آئینہ گاہ میں مشکل ہے خود کو ڈھونڈھنا عکس تباہ میں جل بجھ چکا ہے خواہش ناکام سے وجود پرچھائیں پھر رہی ہے مکان سیاہ میں میں وہ اجل نصیب کہ قاتل ہوں اپنا آپ ہوتا ہوں روز قتل کسی قتل گاہ میں رکھا گیا ہوں عزت و توقیر کا اسیر باندھا گیا ہے سر کو غرور کلاہ ...

مزید پڑھیے

چہار سمت کہیں دائیں بائیں لگتی ہیں

چہار سمت کہیں دائیں بائیں لگتی ہیں سکوت توڑنا ہو تو صدائیں لگتی ہیں بزرگ ایسے بھلائی کے پیڑ ہیں جن پر اگر ثمر نہ لگے تو دعائیں لگتی ہیں کہ ان کے ہونے سے گھر بھی چہکنے لگتا ہے مجھے تو بیٹیاں بھی فاختائیں لگتی ہیں بتایا جائے اگر دل کا درد روکنا ہو تو ایک ماہ میں کتنی دوائیں لگتی ...

مزید پڑھیے

پہلے بنتی ہی نہ تھی بات سو اب بنتی ہے

پہلے بنتی ہی نہ تھی بات سو اب بنتی ہے آج کل ان کے تصور سے غضب بنتی ہے چلئے چل کر کہیں ڈھونڈے کوئی اجڑی ہوئی رات اپنی ان چاند ستاروں سے تو کب بنتی ہے نفس جب روح پہ حاوی ہو تو پھر وحشت میں تشنگی دیکھیے قربت کا سبب بنتی ہے سرمئی شام میں سورج کا لہو مل جائے تب کہیں جا کے مری جان یہ شب ...

مزید پڑھیے

آج سن لی ہے مرے احباب نے میری غزل

آج سن لی ہے مرے احباب نے میری غزل آج اپنی منزل مقصود پر پہنچی غزل جب سنائی آپ نے تو با ادب سن لی غزل اور جب کوشاں ہوا تو بے دھڑک کہہ دی غزل یہ لب و رخسار یہ چہرا تیرا پر نور سا تجھ کو کیا دیکھا لگا جیسے کوئی دیکھی غزل کل جو دیکھی تھی غزل تو دل کی دھڑکن رک گئی آج جو دیکھی غزل تو بن ...

مزید پڑھیے

آگے جو ہوگا وہ ہوگا خیر کر آیا ہوں میں

آگے جو ہوگا وہ ہوگا خیر کر آیا ہوں میں جو زبر بنتے تھے ان کو زیر کر آیا ہوں میں ہاں بہت مشکل تو ہے لیکن یہ نا ممکن نہیں درد کی طغیانیوں میں تیر کر آیا ہوں میں مر گیا ہے کوئی مجھ میں اس پہ مٹی ڈالیے اپنی ساری خواہشوں کو ڈھیر کر آیا ہوں میں درد وحشت رنج و غم تنہائیاں شام الم جو مجھے ...

مزید پڑھیے

اک آفتاب کا رنگ ایک ماہتاب کا رنگ

اک آفتاب کا رنگ ایک ماہتاب کا رنگ ملا کے ڈھالا گیا ہے ترے شباب کا رنگ نمایاں جسم ہے اور شوخ ہے نقاب کا رنگ بدل رہا ہے زمانے میں اب حجاب کا رنگ ملی نظر جو مری دفعتاً سر محفل حیا سے رخ پہ تیرے آ گیا گلاب کا رنگ نکل پڑے ہیں جو جگنو لئے ہوئے قندیل اتر گیا ہے تبھی سے اس آفتاب کا ...

مزید پڑھیے

بدن کی قبر میں خوابوں کی لاش ہے میں ہوں

بدن کی قبر میں خوابوں کی لاش ہے میں ہوں قدم قدم پہ ہی فکر معاش ہے میں ہوں زمانے بھر میں تو یہ راز فاش ہے میں ہوں مگر مجھے تو مری ہی تلاش ہے میں ہوں ہر ایک ضرب نئے تجربے اکیرے ہے حیات ہے کہ کوئی سنگ تراش ہے میں ہوں لگیں گی بولیاں جنت کی اب سر بازار بکے گی خلد بریں اف وناش ہے میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4395 سے 6203