قومی زبان

شیشے کا بلب

وہ شیشے کا بلب اور کوئی اس کے اندر بہت ہانپتا گول دیواروں کو جلدی جلدی کھرچتا پھسلتا ہے گرتا ہے اٹھتا ہے فوراً مسلسل کھرچتے ہی جاتا ہے لیکن اسے ڈر ہے سر پر لٹکتا ہوا دھاتی لچھا کہیں جل اٹھا تو اسے بھون دے گا مگر اتنی وحشت میں اس کو خبر کیا کہ لچھا سلامت نہ اب برقی رو اس کے تاروں ...

مزید پڑھیے

غلام گردش

خوشی عدم کے کسی جھروکے کی اوٹ سے جھانکتی نظر کا فریب کوئی طویل بے رحم راستوں پر سراب کوئی تمام شب جگنوؤں کو چننے کا خواب کوئی خوشی وہ رہ رہ کے چند لمحوں کو سانس لیتا حباب کوئی اداس تاروں کو چھیڑتی انگلیوں کے زخموں سے اٹھتے سر کے خیال میں گم رباب کوئی خوشی کہ میزان کے جزیروں سے ...

مزید پڑھیے

زمستاں

سخت سفاک خود میں سمٹ کر چٹختی ہوئی برف اور منجمد جسم و جاں رات جذبوں کی قبروں پہ کتبے کے مانند اٹکی ہوئی ہاتھ کھرچے ہوئے سانس اکھڑی ہوئی لفظ گویا سماعت کے پردے سے ٹکرا کے چپکے ہوئے برف پر چار و نا چار، پیروں کی جمتی ہوئی انگلیاں ہڈیوں کی دراڑوں میں گھستی ہوا خون تک راہ پانے کی ...

مزید پڑھیے

سیلاب کے بعد

پانی اچھا خاصہ گلے تک آ پہنچا تھا اچھی خاصی ڈوب گئی تھی ساری بستی اچھا خاصہ اک سیلاب تھا پانی اترا بھیگے جسم پہ چپکے کپڑوں اور خاشاک کا منظر ابھرا پانی کیا اترا تنہائی ابھر آئی ہے وہ جو نہیں تھا وہ بھی جیسے سیل رواں کے ساتھ گیا ہو گلیوں میں بے جان بدن ہیں یا سناٹا تیر رہا ہے

مزید پڑھیے

ہمیں تو ساحل دریا کی پیاس ہونا تھا

ہمیں تو ساحل دریا کی پیاس ہونا تھا سکوت ہجر کا اک غم شناس ہونا تھا کھلا ہے اس طرح اب کے نئی رتوں کا بھرم زمیں کو اتنا کہاں بے لباس ہونا تھا انہیں بھی وقت نے پتھر بنا دیا جن کو ہمارے عہد کا آدم شناس ہونا تھا پہن کے مجھ کو ایک روز تمنا کا لباس لہو لہو کوئی تصویر یاس ہونا تھا بھٹک ...

مزید پڑھیے

اسے معلوم ہے سب کچھ وہی ہے رازداں اپنا

اسے معلوم ہے سب کچھ وہی ہے رازداں اپنا مگر مجھ سے ہی سننا چاہتا ہے وہ بیاں اپنا یہاں پر شان جاتی ہے وہاں پر جان جاتی ہے زمیں چھوٹی تو لگتا ہے کہ چھوٹا آسماں اپنا جو گزرا ہے سو گزرا ہے جو آئے گا سو آئے گا جو اب ہے وہ بھلا کب ہے کوئی لمحہ کہاں اپنا میں جس کے دل میں رہتا ہوں میں جس کی ...

مزید پڑھیے

دل پر دھڑکن دھڑکن پر وہم اتارے جاتے ہیں

دل پر دھڑکن دھڑکن پر وہم اتارے جاتے ہیں ہم اپنے ہی خوف کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں دیکھوں تو آئینے کا زنگار سلگتا ہے بند کروں تو آنکھوں کے انگارے جاتے ہیں ڈھونڈ رہے ہیں کب سے اپنے لہجے کا تریاک لفظ ہمارے ہم پر ہی پھنکارے جاتے ہیں نئے پرندے نئی اڑانیں نئی سحر کے گیت بیداروں پر روشن ...

مزید پڑھیے

جسے کل رات بھر پوجا گیا تھا

جسے کل رات بھر پوجا گیا تھا وہ بت کیوں صبح کو ٹوٹا ہوا تھا اگر سچ کی حقیقت اب کھلی ہے تو جو اب تک نظر آیا تھا کیا تھا اگر یہ تلخیوں کی ابتدا ہے تو اب تک کون سا امرت پیا تھا کھلا ہے مجھ پہ اب دنیا کا مطلب مگر یہ راز پہلے بھی کھلا تھا میں جس میں ہوں یہ دنیا مختلف ہے جہاں میں تھا وہ ...

مزید پڑھیے

تری تلخی کو چکھوں یا ترے حسن معانی کو

تری تلخی کو چکھوں یا ترے حسن معانی کو کتاب زندگی کس نے لکھا میری کہانی کو تو سر تا پا کوئی فتنہ بھی ہے شہکار فطرت بھی مگر میں زندگی کے نام کر آیا جوانی کو یہ کرنیں پھوٹتی ہیں جو ترے چاک گریباں سے انہی کے نور سے لکھا گیا میری کہانی کو یہ کب جانا کسی نے اے مجسم راز تو کیا ہے کہ ...

مزید پڑھیے

کٹ گئیں جب جوش اظہار ہنر میں انگلیاں

کٹ گئیں جب جوش اظہار ہنر میں انگلیاں تب کہیں ڈوبیں مرے خون جگر میں انگلیاں دیکھیے انجام کیا ہو اب وفا کی راہ پر ہم پہ تو اٹھی ہیں آغاز سفر میں انگلیاں آخر شب میں دیا خود کو بنایا تھا کبھی آج بھی جلتی ہیں امید سحر میں انگلیاں لکھ رہی ہیں ریگ ساحل پر انوکھی خواہشیں آ گئی ہیں تیری ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4381 سے 6203