قومی زبان

نکلے وہ پھول بن کے ترے گلستاں سے ہم

نکلے وہ پھول بن کے ترے گلستاں سے ہم مہکا دیا فضاؤں کو گزرے جہاں سے ہم اب تو یہی حریم محبت ہے اے صنم جائیں کہاں اب اٹھ کے ترے آستاں سے ہم دنیا میں اب کہیں بھی ٹھہرتی نہیں نظر تجھ سا حسین لائیں تو لائیں کہاں سے ہم دل لے کے جس نے درد محبت عطا کیا مانگیں گے اب دوا بھی اسی مہرباں سے ...

مزید پڑھیے

مرے داغ دل وہ چراغ ہیں نہیں نسبتیں جنہیں شام سے

مرے داغ دل وہ چراغ ہیں نہیں نسبتیں جنہیں شام سے انہیں تو ہی آ کے بجھائے گا یہ جلے ہیں تیرے ہی نام سے میں ہوں ایک عاشق بے نوا تو نواز اپنے پیام سے یہ تری رضا پہ تری خوشی تو پکار لے کسی نام سے میں تو گم ہوں تیری تلاش میں مجھے کون جانے ترے سوا کوئی کیسے محرم راز ہو تری عاشقی کے مقام ...

مزید پڑھیے

وہ آشنائے منزل عرفاں ہوا نہیں

وہ آشنائے منزل عرفاں ہوا نہیں جس کو ترے کرم کا سہارا ملا نہیں دیکھا بہت نگاہ طلب کو ملا نہیں تم سے تم ہی ہو تم سا کوئی دوسرا نہیں جاؤں تو اٹھ کے جاؤں کہاں تیرے در سے میں تیرے سوا کسی کو بھی دل مانتا نہیں تیرا کرم متاع دو عالم مرے لئے تیرا کرم رہے تو دو عالم میں کیا نہیں دست طلب ...

مزید پڑھیے

دل میں لے کے کشش بندگی کی عشق کو آزما کر تو دیکھو

دل میں لے کے کشش بندگی کی عشق کو آزما کر تو دیکھو آستاں پر کبھی اس صنم کے اپنے سجدے لٹا کر تو دیکھو ہوگا ہر اک مقبول سجدہ عرش کا نور ہوگا جبیں پر عاشقو کوچۂ دلربا میں اپنے سر کو جھکا کر تو دیکھو ڈوب جائے گی خود مست ہو کر بے خودی جلوۂ معرفت میں جان جاناں شراب محبت میکشوں کو پلا کر ...

مزید پڑھیے

جو مٹا ہے تیرے جمال پر وہ ہر ایک غم سے گزر گیا

جو مٹا ہے تیرے جمال پر وہ ہر ایک غم سے گزر گیا ہوئیں جس پہ تیری نوازشیں وہ بہار بن کے سنور گیا تری مست آنکھ نے اے صنم مجھے کیا نظر سے پلا دیا کہ شراب خانے اجڑ گئے جو نشہ چڑھا تھا اتر گیا ترا عشق ہے مری زندگی ترے حسن پہ میں نثار ہوں ترا رنگ آنکھ میں بس گیا ترا نور دل میں اتر گیا کہ ...

مزید پڑھیے

اندھیرے لاکھ چھا جائیں اجالا کم نہیں ہوتا

اندھیرے لاکھ چھا جائیں اجالا کم نہیں ہوتا چراغ آرزو جل کر کبھی مدھم نہیں ہوتا مسیحا وہ نہ ہوں تو درد الفت کم نہیں ہوتا یہ زخم عشق ہے اس زخم کا مرہم نہیں ہوتا غم جاناں کو جان جاں بنا لے دیکھ دیوانے غم جاناں سے بڑھ کر اور کوئی غم نہیں ہوتا طلب بن کر مری ہر دم وہ میرے ساتھ رہتے ...

مزید پڑھیے

خبر ہی نہیں کیسے انگڑائی لے کر نگاہیں اٹھائے کہ ساغر اٹھائے

خبر ہی نہیں کیسے انگڑائی لے کر نگاہیں اٹھائے کہ ساغر اٹھائے کچھ ایسا نشہ چھا گیا زندگی پر سنبھلتے سنبھلتے قدم ڈگمگائے بنے حسن والے سراپا قیامت جوانی جب آئی تو انداز آئے گرائی کبھی شوخ نظروں سے بجلی کبھی شرم آئی کبھی مسکرائے کوئی جا کے میرے مسیحا سے کہہ دے خدا کے لئے آگ دل کی ...

مزید پڑھیے

اے صنم تجھ کو ہم بھلا نہ سکے

اے صنم تجھ کو ہم بھلا نہ سکے دل سے داغ وفا مٹا نہ سکے اللہ اللہ اس آستاں کی کشش سر جھکایا تو سر اٹھا نہ سکے مٹ گئے شوق دید میں لیکن آپ جلوہ ہمیں دکھا نہ سکے تیری چاہت میں درد وہ پایا ہم زمانے میں چین پا نہ سکے دے کے دل تم کو جان بھی دے دی پھر بھی اپنا تمہیں بنا نہ سکے جب سے نسبت ...

مزید پڑھیے

کس کو سناؤں حال غم کوئی غم آشنا نہیں

کس کو سناؤں حال غم کوئی غم آشنا نہیں ایسا ملا ہے درد دل جس کی کوئی دوا نہیں میری نماز عشق کو شیخ سمجھ سکے گا کیا اس نے در حبیب پہ سجدہ کبھی کیا نہیں مجھ کو خدا سے آشنا کوئی بھلا کرے گا کیا میں تو صنم پرست ہوں میرا کوئی خدا نہیں کیسے ادا کروں نماز کیسے جھکاؤں اپنا سر صحن حرم میں ...

مزید پڑھیے

تجھے ڈھونڈھتی ہیں نظریں مجھے اک جھلک دکھا جا

تجھے ڈھونڈھتی ہیں نظریں مجھے اک جھلک دکھا جا مری زندگی کے مالک مری زندگی میں آ جا نہ غرض صنم کدے سے نہ حرم سے کوئی مطلب مجھے واسطہ ہے تجھ سے مرے دل میں تو سما جا تو بچھڑ گیا ہے جب سے مری نیند اڑ گئی ہے تری راہ تک رہا ہوں مرے چاند اب تو آ جا مجھے درد دے کے اپنا تو کہاں چھپا ہے جا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4377 سے 6203