قومی زبان

لگا کہ جیسے کسی کانپتے ہرن کو چھوا

لگا کہ جیسے کسی کانپتے ہرن کو چھوا ہمارے ہاتھوں نے جب پھول سے بدن کو چھوا تمام جسم میں آسودگی سی پھیل گئی ترے دہن نے کبھی جب مرے دہن کو چھوا سمٹ کے آ گئی کاغذ پہ صورت اشعار ہماری فکر نے جب بھی کسی گھٹن کو چھوا کئی مقام پہ دونوں ملے ضرور مگر کشن نے رادھا کو رادھا نے کب کشن کو ...

مزید پڑھیے

لے کے اس گھاٹ سے اس گھاٹ گئی میرا وجود

لے کے اس گھاٹ سے اس گھاٹ گئی میرا وجود فکر دیمک کی طرح چاٹ گئی میرا وجود میری بربادی میں اک شاخ بھی شامل تھی مری خود کلہاڑی تو نہیں کاٹ گئی میرا وجود اپنے معیار کا بھی دام نہ مل پایا مجھے زندگی لے کے کئی ہاٹ گئی میرا وجود میں سکندر تھا مگر آخری منزل کی طرف لے کے اک ٹوٹی ہوئی ...

مزید پڑھیے

یوں پہنچنا ہے مجھے روح کی طغیانی تک

یوں پہنچنا ہے مجھے روح کی طغیانی تک جس طرح رسی سے جاتا ہے گھڑا پانی تک کاٹنی پڑتی ہے ناخن سے تکن کی زنجیر یوں ہی آتی نہیں مشکل کوئی آسانی تک زندگی تجھ سے بنائے ہوئے رشتے کی ہوس مجھ کو لے آئی ہے دنیا کی پریشانی تک ایسے جراحوں کا قبضہ ہے سخن پر افسوس کر نہیں سکتے جو لفظوں کی ...

مزید پڑھیے

پڑھ رہے تھے وہ لب حور ہمارا قصہ

پڑھ رہے تھے وہ لب حور ہمارا قصہ یوں ہی تھوڑی ہوا مشہور ہمارا قصہ صرف اک عیب نکالا تھا غلط فہمی نے ہو گیا ہم سے بہت دور ہمارا قصہ آگیں یادیں تری ہاتھ میں مرہم لے کر جب بھی بننے لگا ناسور ہمارا قصہ ہم وہ جگنوں ہیں کسی وقت کسی سے سن کر رو پڑی تھی شب دیجور ہمارا قصہ خامشی نے انہیں ...

مزید پڑھیے

تمام دنیا کا لخت جگر بنا ہوا تھا

تمام دنیا کا لخت جگر بنا ہوا تھا وہ آدمی جو مرا درد سر بنا ہوا تھا اسے تلاش رہی ہیں مری اداس آنکھیں جو خواب رات کے پچھلے پہر بنا ہوا تھا پہنچ کے کوچۂ جاناں میں آ گیا باہر مرے وجود کے اندر جو ڈر بنا ہوا تھا کمال عشق نے میرے کیا ہے زیر اسے کسی کا حسن جو کل تک زبر بنا ہوا تھا اترتی ...

مزید پڑھیے

آندھی

گزرے ہیں بیس برس اک دن اک زور کی آندھی آئی تھی جس سے پیڑوں سے جدا ہو کر لاکھوں ہی پتے ٹوٹ گرے شاہراہوں پر پگڈنڈیوں پر کھیتوں میں اور فٹ پاتھوں پر کچھ بہہ گئے گندے نالوں میں بھنگی کی جھاڑو کے صدقے لیکن جو بچ گئے ان کو ہوا ہر وقت اڑائے پھرتی ہے پچھم کو کبھی پورب کو کبھی وہ بکھرے پڑے ...

مزید پڑھیے

جرم

تنگ و تاریک سی کوٹھری میں موٹی موٹی سلاخوں کے پیچھے غلیظ سے فرش پر پڑا ہے وہ ایک قیدی پریشاں بال ہیں اور زرد چہرہ ہو جیسے ہڈیوں کا ایک ڈھانچہ پڑی ہیں بیڑیاں پاؤں میں اس کے ہے جرم اس کا اپنا فقط اس قدر کہ رہ رہ کے وہ سوچتا ہے یہی وہ زنداں میں کس جرم پر بند ہے سوچے وہ کیوں نہ آخر اس کی ...

مزید پڑھیے

اصلی روپ

میں دیکھ رہا ہوں پتے کے ہاتھوں پر جال لکیروں کا میں دیکھ رہا ہوں پتے کی آنکھوں میں شبنم کے آنسو میں دیکھ رہا ہوں پتے کی رگ رگ میں تڑپتا سبز لہو میں دیکھ رہا ہوں پتے کے چہرے پہ ندامت کے قطرے معلوم نہیں لیکن مجھ کو ان روپوں میں سے کون سا ہے پتے کا اپنا اصلی روپ

مزید پڑھیے

اے ہم سفرو کیوں نہ یہیں شہر بسا لیں

اے ہم سفرو کیوں نہ یہیں شہر بسا لیں اپنے ہی اصول اپنی ہی اقدار بنا لیں وہ لوگ جنہوں نے مرے ہونٹوں کو سیا ہے سوزن سے مری سوچ کا کانٹا بھی نکالیں اس بزم سے اٹھے گا نہ شعلہ کوئی ہرگز یارو چلو قندیل سے قندیل جلا لیں ہر شہر میں ہیں فصل جنوں آنے کے چرچے شوریدہ سرو آؤ گریبان سلا ...

مزید پڑھیے

مزدور عورتیں

وہ جا رہی ہیں سروں پہ پتھر اٹھائے مزدور عورتیں کچھ یہ کھردرے ہاتھ میلے پاؤں جمی ہیں ہونٹوں پہ پپڑیاں سی اور پسینے میں ہیں شرابور سلگتی دوپہر میں وہ مل کر ایک دیوار چن رہی ہیں حصار سنگیں بنے گا کوئی یہ دیکھ کر حال ان کا مجھ کو خیال رہ رہ کے آ رہا ہے کہاں ہیں وہ مرمریں سی باہیں وہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4362 سے 6203