لگا کہ جیسے کسی کانپتے ہرن کو چھوا
لگا کہ جیسے کسی کانپتے ہرن کو چھوا ہمارے ہاتھوں نے جب پھول سے بدن کو چھوا تمام جسم میں آسودگی سی پھیل گئی ترے دہن نے کبھی جب مرے دہن کو چھوا سمٹ کے آ گئی کاغذ پہ صورت اشعار ہماری فکر نے جب بھی کسی گھٹن کو چھوا کئی مقام پہ دونوں ملے ضرور مگر کشن نے رادھا کو رادھا نے کب کشن کو ...