قومی زبان

تمہارے بعد جو بکھرے تو کو بہ کو ہوئے ہم

تمہارے بعد جو بکھرے تو کو بہ کو ہوئے ہم پھر اس کے بعد کہیں اپنے روبرو ہوئے ہم تمام عمر ہوا کی طرح گزاری ہے اگر ہوئے بھی کہیں تو کبھو کبھو ہوئے ہم یوں گرد راہ بنے عشق میں سمٹ نہ سکے پھر آسمان ہوئے اور چار سو ہوئے ہم رہی ہمیشہ دریدہ قبائے جسم تمام کبھی نہ دست ہنر مند سے رفو ہوئے ...

مزید پڑھیے

اسی جہاز کے صحرا میں ڈوب جانے کی

اسی جہاز کے صحرا میں ڈوب جانے کی خبر ملی تھی مجھے خواب میں خزانے کی بہت سے دیدہ و نادیدہ خواب سامنے تھے اک ایسی سمت تھی کروٹ مرے سرہانے کی میں اس جگہ پہ جو اک دن پلٹ کے آیا تو کوئی بھی چیز نہیں تھی مرے زمانے کی ہر ایک کام سہولت سے ہوتا رہتا تھا کوئی خلش نہیں ہوتی تھی کر دکھانے ...

مزید پڑھیے

دونوں جہاں سے آ گیا کر کے ادھر ادھر کی سیر

دونوں جہاں سے آ گیا کر کے ادھر ادھر کی سیر پوچھو نہ جا رہا ہوں میں کرنے کو اب کدھر کی سیر مٹی کی خوبصورتی مٹی میں مل کے دیکھیے چھوڑیئے اس مکین کو کیجیے اپنے گھر کی سیر دیکھی نہیں تھی چاک نے اچھی طرح سے دیکھ لی ویسے بھی دل فریب تھی کوزے پہ کوزہ گر کی سیر سیب کے پیڑ کے تلے گیند وہ ...

مزید پڑھیے

تین رنگ ایک رنگ

تم پتنگ بن کے ہواؤں میں تیرتی پھرو اور ڈور مرے ہاتھوں کو کاٹتی رہے پر پر زخمی اور آنکھیں تیرے رنگوں میں الجھی رہیں لہو بہتا رہے اور آس تجھے چاہنے کی آسمان بن کے ترے چاروں طرف بکھر جائے شام اترے تو تیری آنکھوں کا رنگ مجھے اپنی پناہ میں سمیٹ لے اور تیری راہوں پر میرا اک اک لمس بکھیر ...

مزید پڑھیے

یہ تیرہ بخت بیانوں میں قید رہتے ہیں

یہ تیرہ بخت بیانوں میں قید رہتے ہیں وطن ہمارے ترانوں میں قید رہتے ہیں خودی سے دور رگ ہائے سنگ میں ساکت مرے یقین گمانوں میں قید رہتے ہیں سڑک پہ خواہشیں بے نام و ننگ پھرتی ہیں زمیں کے خواب زمانوں میں قید رہتے ہیں کہا فلک نے یہ اڑتے ہوئے پرندوں سے زمیں پہ لوگ مکانوں میں قید رہتے ...

مزید پڑھیے

وصف جو آپ سے جڑا ہوگا

وصف جو آپ سے جڑا ہوگا ہو بہو حکم کبریا ہوگا آ کہ دکھلاؤں رقص پانی کا اک بھنور اب بھی ناچتا ہوگا کرگس عشق نوچتا ہے بدن حسن پامال ہو گیا ہوگا درد نے دل کی پرورش کی ہے درد ہی شعر سے ادا ہوگا حاجت فصل گل نہیں فیصلؔ دل یہ خود رو کہ پھر اگا ہوگا

مزید پڑھیے

ہمالہ کی داسیاں

ہمالہ کے نوکیلے بدن سے پھسلتی ہوئی چنچل بوندیں اس کے قدموں پہ جا گریں وہ ہمالہ کے پیروں کو چومتی رہیں اور المیہ گیت گاتی رہیں میرے محبوب ہم کہ بس تیری داسیاں بن کر ترے قدموں کو ہمیشہ چومتے رہنا چاہتی ہیں، یہ ڈھلوان ہمیں جنوب کی اور جتنا بھی آگے بہا لے جائے لیکن ایک دن ہم سمندر سے ...

مزید پڑھیے

تمام حسن و معانی کا رنگ اڑنے لگا

تمام حسن و معانی کا رنگ اڑنے لگا کھلی جو دھوپ تو پانی کا رنگ اڑنے لگا اشارا کرتی ہیں چہرے کی جھریاں چپ چاپ تو کیا بدن سے جوانی کا رنگ اڑنے لگا جدید رنگ میں آیا جو مصرع اولیٰ حسد سے مصرع ثانی کا رنگ اڑنے لگا کتاب زیست کے مفہوم کو سمجھتے ہی یہاں بڑے بڑے گیانی کا رنگ اڑنے لگا جو ...

مزید پڑھیے

بھنگ کھاتے ہیں نہ گانجا نہ چرس پیتے ہیں

بھنگ کھاتے ہیں نہ گانجا نہ چرس پیتے ہیں ہم وہ بھنورے ہیں جو احساس کا رس پیتے ہیں آپ اس ڈھنگ سے امرت بھی نہیں پی سکتے جس ہنر مندی سے ہم اشک نفس پیتے ہیں سب یہیں چھوڑ کے جانا ہے خبر ہے لیکن پھر یہ ہم کس لئے دنیا کی ہوس پیتے ہیں جو تری یاد کے کیڑے ہیں بدن کے اندر وہ مری روح کو کھاتے ...

مزید پڑھیے

جو فن سے فکر کی تدبیر گفتگو کرے گی

جو فن سے فکر کی تدبیر گفتگو کرے گی تو گونگی بہری بھی تصویر گفتگو کرے گی میں جیتے جی اسے ایسا ہنر سکھا دوں گا کہ میرے بعد یہ تحریر گفتگو کرے گی عدالتوں میں گواہی ہمیں ملے نہ ملے ہمارے پاؤں کی زنجیر گفتگو کرے گی اسی امید پہ آنکھوں کے خواب زندہ ہیں کہ ایک دن کوی تعبیر گفتگو کرے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4361 سے 6203