کانچ کے شہر میں پتھر نہ اٹھاؤ یارو
کانچ کے شہر میں پتھر نہ اٹھاؤ یارو مے کدہ ہے اسے مقتل نہ بناؤ یارو صحن مقتل میں بھی مے خانہ سجاؤ یارو شب کے سناٹے میں ہنگامہ مچاؤ یارو زندگی بکنے چلی آئی ہے بازاروں میں اس جنازے کے بھی کچھ دام لگاؤ یارو جن کی شہ رگ کا لہو پھول کی انگڑائی تھا ان کو اب حال گلستاں نہ بتاؤ ...