قومی زبان

کوئی ملتا نہیں خدا کی طرح

کوئی ملتا نہیں خدا کی طرح پھرتا رہتا ہوں میں دعا کی طرح غم تعاقب میں ہیں سزا کی طرح تو چھپا لے مجھے خطا کی طرح ہے مریضوں میں تذکرہ میرا آزمائی ہوئی دوا کی طرح ہو رہیں ہیں شہادتیں مجھ میں اور میں چپ ہوں کربلا کی طرح جس کی خاطر چراغ بنتا ہوں گھورتا ہے وہی ہوا کی طرح وقت کے ...

مزید پڑھیے

جاہلوں کو سلام کرنا ہے

جاہلوں کو سلام کرنا ہے اور پھر جھوٹ موٹ ڈرنا ہے کاش وہ راستے میں مل جائے مجھ کو منہ پھیر کر گزرنا ہے پوچھتی ہے صدائے بال و پر کیا زمیں پر نہیں اترنا ہے سوچنا کچھ نہیں ہمیں فی الحال ان سے کوئی بھی بات کرنا ہے بھوک سے ڈگمگا رہے ہیں پاؤں اور بازار سے گزرنا ہے

مزید پڑھیے

نمک کی روز مالش کر رہے ہیں

نمک کی روز مالش کر رہے ہیں ہمارے زخم ورزش کر رہے ہیں سنو لوگوں کو یہ شک ہو گیا ہے کہ ہم جینے کی سازش کر رہے ہیں ہماری پیاس کو رانی بنا لیں کئی دریا یہ کوشش کر رہے ہیں مرے صحرا سے جو بادل اٹھے تھے کسی دریا پہ بارش کر رہے ہیں یہ سب پانی کی خالی بوتلیں ہیں جنہیں ہم نذر آتش کر رہے ...

مزید پڑھیے

وہ کہیں تھا کہیں دکھائی دیا

وہ کہیں تھا کہیں دکھائی دیا میں جہاں تھا وہیں دکھائی دیا خواب میں اک حسیں دکھائی دیا وہ بھی پردہ نشیں دکھائی دیا جب تلک تو نہیں دکھائی دیا گھر کہیں کا کہیں دکھائی دیا روز چہرہ نے آئنہ بدلے جو نہیں تھا نہیں دکھائی دیا بد مزہ کیوں ہیں آسماں والے میں زمیں تھا زمیں دکھائی ...

مزید پڑھیے

کریں ہم کس کی پوجا اور چڑھائیں کس کو چندن ہم

کریں ہم کس کی پوجا اور چڑھائیں کس کو چندن ہم صنم ہم دیر ہم بت خانہ ہم بت ہم برہمن ہم در و دیوار ہی نظروں میں اپنی آئینہ خانہ کیا کرتی ہیں گھر بیٹھی ہی اپنا آپ درشن ہم محبت ہے تو اپنے سے عداوت ہے تو اپنے سے ہیں آپ ہی دوست اپنے ہم ہیں آپ ہی اپنے دشمن ہم کب اٹھتی ہیں اٹھائے سے کسی ...

مزید پڑھیے

آخری آدمی

بجھا دو لہو کے سمندر کے اس پار آئنہ خانوں میں اب جھلملاتے ہوئے قمقموں کو بجھا دو کہ دل جن سے روشن تھا اب ان چراغوں کی لو بجھ چکی ہے مٹا دو منقش در و بام کے جگمگاتے چمکتے ہوئے سب بتوں کو مٹا دو کہ اب لوح دل سے ہر اک نقش حرف غلط کی طرح مٹ چکا ہے اٹھا دو لہو کے جزیرے میں بپھری ہوئی موت ...

مزید پڑھیے

ایک مدت سے سر بام وہ آیا بھی نہیں

ایک مدت سے سر بام وہ آیا بھی نہیں ہم کو اب حسرت دیدار تمنا بھی نہیں جادۂ شوق میں تنہا بھی ہوں تنہا بھی نہیں کیا حسیں بات ہے رسوا بھی ہوں رسوا بھی نہیں تم جو ناراض ہوئے ہو گئی دنیا برہم اب تو گرتی ہوئی دیوار کا سایہ بھی نہیں کس کو میں دوت کہوں کس کو میں دشمن جانوں سبھی اپنے ہیں ...

مزید پڑھیے

وہ جتنے دور ہیں اتنے ہی میرے پاس بھی ہیں

وہ جتنے دور ہیں اتنے ہی میرے پاس بھی ہیں یہ اور بات ہے خوش ہیں مگر اداس بھی ہیں یہ دیکھنا ہے ہمیں کس کا ذوق کیسا ہے یہاں شراب بھی ہے زہر کے گلاس بھی ہیں انہی پہ تہمت دیوانگی لگاتے ہو جو اتفاق سے محفل میں روشناس بھی ہیں جو روشنی کے لبادے کو اوڑھ کر آئے شب سیاہ کے وہ ماتمی لباس بھی ...

مزید پڑھیے

لوگ کہتے ہیں کہ قاتل کو مسیحا کہئے

لوگ کہتے ہیں کہ قاتل کو مسیحا کہئے کیسے ممکن ہے اندھیروں کو اجالا کہئے چہرے پڑھنا تو سبھی سیکھ گئے ہیں لیکن کیسی تہذیب ہے اپنوں کو پرایا کہئے جانے پہچانے ہوئے چہرے نظر آتے ہیں وقت قاتل ہے یہاں کس کو مسیحا کہئے آپ جس پیڑ کے سائے میں کھڑے ہیں اس کو صحن گلشن نہیں جلتا ہوا صحرا ...

مزید پڑھیے

صبح نو لاتی ہے ہر شام تمہیں کیا معلوم

صبح نو لاتی ہے ہر شام تمہیں کیا معلوم زخم خوشیوں کے ہیں پیغام تمہیں کیا معلوم بھول کر بھی جو کسی بزم میں آیا نہ گیا سینکڑوں اس پہ ہیں الزام تمہیں کیا معلوم لوگ گلشن میں تو چلتے ہیں سرافرازی سے ان میں کتنے ہیں تہہ دام تمہیں کیا معلوم کچھ اندھیرے بھی خطا وار تباہی ہیں مگر روشنی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4353 سے 6203