قومی زبان

جب ریتیلے ہو جاتے ہیں

جب ریتیلے ہو جاتے ہیں پربت ٹیلے ہو جاتے ہیں توڑے جاتے ہیں جو شیشے وہ نوکیلے ہو جاتے ہیں باغ دھوئیں میں رہتا ہے تو پھل زہریلے ہو جاتے ہیں ناداری میں آغوشوں کے بندھن ڈھیلے ہو جاتے ہیں پھولوں کو سرخی دینے میں پتے پیلے ہو جاتے ہیں

مزید پڑھیے

موت کی سمت جان چلتی رہی

موت کی سمت جان چلتی رہی زندگی کی دکان چلتی رہی سارے کردار سو گئے تھک کر بس تری داستان چلتی رہی میں لرزتا رہا ہدف بن کر مشق تیر و کمان چلتی رہی الٹی سیدھی چراغ سنتے رہے اور ہوا کی زبان چلتی رہی دو ہی موسم تھے دھوپ یا بارش چھتریوں کی دکان چلتی رہی جسم لمبے تھے چادریں چھوٹی رات ...

مزید پڑھیے

پرندے سہمے سہمے اڑ رہے ہیں

پرندے سہمے سہمے اڑ رہے ہیں برابر میں فرشتے اڑ رہے ہیں خوشی سے کب یہ تنکے اڑ رہے ہیں ہوا کے ڈر کے مارے اڑ رہے ہیں کہیں کوئی کماں تانے ہوئے ہے کبوتر آڑے ترچھے اڑ رہے ہیں تمہارا خط ہوا میں اڑ رہا ہے تعاقب میں لفافے اڑ رہے ہیں بہت کہتی رہی آندھی سے چڑیا کہ پہلی بار بچے اڑ رہے ...

مزید پڑھیے

نہیں ہو تم تو ایسا لگ رہا ہے

نہیں ہو تم تو ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے شہر میں کرفیو لگا ہے مرے سائے میں اس کا نقش پا ہے بڑا احسان مجھ پر دھوپ کا ہے کوئی برباد ہو کر جا چکا ہے کوئی برباد ہونا چاہتا ہے لہو آنکھوں میں آ کر چھپ گیا ہے نہ جانے شہر دل میں کیا ہوا ہے کٹی ہے عمر بس یہ سوچنے میں مرے بارے میں وہ کیا سوچتا ...

مزید پڑھیے

ولولے جب ہوا کے بیٹھ گئے

ولولے جب ہوا کے بیٹھ گئے ہم بھی شمعیں بجھا کے بیٹھ گئے وقت آیا جو تیر کھانے کا مشورے دور جا کے بیٹھ گئے عید کے روز ہم پھٹی چادر پچھلی صف میں بچھا کے بیٹھ گئے کوئی بارات ہی نہیں آئی رت جگے گا بجا کے بیٹھ گئے ناؤ ٹوٹی تو سارے پردہ نشیں سامنے نا خدا کے بیٹھ گئے بے زبانی میں اور ...

مزید پڑھیے

وفا داری غنیمت ہو گئی کیا

وفا داری غنیمت ہو گئی کیا محبت بھی مروت ہو گئی کیا عدالت فرش مقتل دھو رہی ہے اصولوں کی شہادت ہو گئی کیا ذرا ایمان داری سے بتاؤ ہمیں تم سے محبت ہو گئی کیا فرشتوں جیسی صورت کیوں بنا لی کوئی ہم سے شرارت ہو گئی کیا کتابت روکنے کا کیا سبب ہے کہانی کی اشاعت ہو گئی کیا مزار پیر سے ...

مزید پڑھیے

آہستہ سے گزرو

گزرنا ہی اگر ٹھہرا تو آہستہ سے گزرو کوئی آہٹ نہ ہو پائے ابھی رستے میں رستہ سو رہا ہے ابھی ویرانی کے پہلو میں خوابیدہ ہے خاموشی ابھی تنہائی سے لپٹی مسافت سو رہی ہے کہیں ایسا نہ ہو دشت تحیر جاگ جائے لہو میں بے کراں غم کا سمندر جاگ جائے ابھی تو پہلے ڈر ہی سے رگوں میں خامشی ہے ابھی تو ...

مزید پڑھیے

حادثہ

رات ہی رات میں راستے شہر سے جنگلوں کو مڑے نیند گم ہو گئی خوب صورت حسیں خوب رو لڑکیاں عورتیں بن گئیں بہتے پانی میں ان کو بہایا گیا خواب زادے ہوئے داستانوں میں گم رات ہی رات میں اژدھے نوجوانوں کا دل کھا گئے نیٹی جیٹی پہ سب لاپتہ ہو گئے آن کی آن میں شہر کیسے مٹا خواب کیسے جلا

مزید پڑھیے

دیر ہو گئی

عالم پناہ خیر سے بے دار ہو گئے عالم پناہ!.... خیر..... کہاں آپ چل دیے رستے تمام بند ہوئے دیر ہو گئی اور کیسی دوپہر میں گھنی رات ہو گئی فانوس جھاڑ قمقمے روشن نہیں ہوئے اور طاقچوں میں باقی نہیں کوئی بھی چراغ اور بیگمات حجرے سے باہر نکل پڑیں اور شاہزادیوں کے سروں پر نہیں ردا یہ رنگ و ...

مزید پڑھیے

اب تو کچھ بھی یاد نہیں

کتنے منظر ٹوٹ کے گرتے رہتے ہیں ان آنکھوں سے یخ بستہ پاتالوں میں کتنے دکھ ہر لمحہ لپٹے رہتے ہیں اجلے پاؤں کے چھالوں سے کن یادوں کا بوجھ اٹھائے پھرتے ہیں ہم ذہنوں میں جو باقی نہیں حوالوں میں چاندنی جیسے کتنے ہی جسم ڈوبتے ڈوبتے چیخ رہے تھے مٹی کے کچے پیالوں میں اور اب تو کچھ ایسا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4355 سے 6203