قومی زبان

علم اور جہالت

وہ بشر جو پڑھ کے بھی کہتا ہو یوں بن کے طالب اور کچھ حاصل کروں کوئی شک اس کی فضیلت میں نہیں اس کا رتبہ ہے فرشتوں سے فزوں وہ بشر کچھ بھی نہ آتا ہو جسے لیکن اس کو شوق ہو عالم بنوں اپنی بے علمی کا اس کو علم ہے نا مناسب ہے اسے جاہل گنوں وہ بشر جو ہو نرا احمق مگر خود سمجھتا ہو کہ دانش‌‌ ...

مزید پڑھیے

عیدی کا مطالبہ

عید مبارک آئی ہے سچی خوشیاں لائی ہے امی ہم کو عیدی دو عید ہنسانے والی ہے جیب ہماری خالی ہے ابا ہم کو عیدی دو سارے روزے ختم ہوئے پہلے پیسے ہضم ہوئے آپا ہم کو عیدی دو عیدی ہے یہ بھیک نہیں ٹال کے جانا ٹھیک نہیں بھیا ہم کو عیدی دو امی کی ماں جائی ہو صرف سویاں لائی ہو خالہ ہم کو عیدی ...

مزید پڑھیے

تجدید عمل

اٹھ از سر نو دہر کے حالات بدل ڈال تدبیر سے تقدیر کے دن رات بدل ڈال پھر درس مساوات کی حاجت ہے جہاں کو آقائی و خدمت کے خطابات بدل ڈال کالا ہو کہ گورا ہو خدا ایک ہے سب کا قومیت بے جا کی روایات بدل ڈال چینی ہو کہ ہندی ہو برابر کے ہیں بھائی وطنیت محدود کے وہمات بدل ڈال کل چھوٹے بڑے آدم ...

مزید پڑھیے

کتاب

ہر دم علم سکھاتی ہے عقل کے راز بتاتی ہے پیارا نام کتاب ہے اس کا معلومات بڑھاتی ہے کوئی بچہ ہو یا بوڑھا سب کو یکساں بھاتی ہے دادا ابا مول اگر لیں پوتے کے کام آتی ہے گھر بیٹھے ہی دنیا بھر کی ہم کو سیر کراتی ہے اگلے وقتوں کے لوگوں کا سارا حال سناتی ہے اس کی دانائی تو دیکھو جو پوچھو ...

مزید پڑھیے

استاد

نیک بچے دل سے کرتے ہیں ادب استاد کا باپ کی الفت سے بہتر ہے غضب استاد کا عام لوگوں کی جہالت دور کرنے کے لیے حق تعالی نے بنایا ہے سبب استاد کا اس کی برکت سے جہاں میں پھیلتی ہیں نیکیاں کیوں نہ پھر استاد سے راضی ہو رب استاد کا کچھ نہ کچھ عمدہ سبق دیتی ہے اس کی زندگی خلق سے خالی نہیں ہے ...

مزید پڑھیے

جانے کیا سوچ کے اس نے ستم ایجاد کیا

جانے کیا سوچ کے اس نے ستم ایجاد کیا خود بھی برباد ہوا مجھ کو بھی برباد کیا شمع کی طرح جلے ہم تری محفل میں مگر تو نے کس وقت ہمیں کون سی شب یاد کیا جنبش لب کی اجازت ہے نہ اذن پرواز کس لئے تو نے مجھے قید سے آزاد کیا شکر ہے تو نے مجھے درد کے قابل سمجھا تیری پیماں شکنی نے مرا دل شاد ...

مزید پڑھیے

دل جس کا درد عشق کا حامل نہیں رہا

دل جس کا درد عشق کا حامل نہیں رہا وہ شخص تیرے پیار کے قابل نہیں رہا جب بھی حنائی ہاتھوں سے گیسو سنور گئے آئینۂ بہار مقابل نہیں رہا ہر آستاں سے لوٹ کے آنا پڑا اسے جو تیرے در پہ آنے کے قابل نہیں رہا محرومیاں ہی جس کا مقدر ہیں دوستو وہ محفل نشاط کے قابل نہیں رہا جب تم نہ تھے تو کچھ ...

مزید پڑھیے

جب تک مزاج دوست میں کچھ برہمی رہی

جب تک مزاج دوست میں کچھ برہمی رہی گویا بجھی بجھی سی مری زندگی رہی جس پر نگاہ لطف و کرم آپ کی رہی حیرت سے ہر نگاہ اسے دیکھتی رہی گو میں رہا کشاکش دوراں سے ہم کنار لیکن مرے لبوں پہ ہنسی کھیلتی رہی لایا ہے عشق نے مجھے ایسے مقام پر خود آگہی رہی نہ خدا آگہی رہی جوش جنوں نے منزل ...

مزید پڑھیے

اے دل اچھا نہیں مصروف فغاں ہو جانا

اے دل اچھا نہیں مصروف فغاں ہو جانا غم کی توہین ہے اشکوں کا رواں ہو جانا دل کی آواز بھی مجروح جہاں ہوتی ہے ایسے حالات میں خاموش وہاں ہو جانا میرے آنسو جو گریں ٹانک لو تم جوڑے میں دیکھ لے کوئی تو پھولوں کا گماں ہو جانا اہل ساحل کو بھی اندازۂ طوفاں ہو جائے قطرۂ اشک ذرا سیل رواں ہو ...

مزید پڑھیے

یہ جو لاہور سے محبت ہے

یہ جو لاہور سے محبت ہے یہ کسی اور سے محبت ہے اور وہ اور تم نہیں شاید مجھ کو جس اور سے محبت ہے یہ ہوں میں اور یہ مری تصویر دیکھ لے غور سے محبت ہے بچپنا کمسنی جوانی آج تیرے ہر دور سے محبت ہے ایک تہذیب ہے مجھے مقصود مجھ کو اک دور سے محبت ہے اس کی ہر طرز مجھ کو بھاتی ہے اس کے ہر طور ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4351 سے 6203