قومی زبان

ہم نے سب شعر میں سنوارے تھے

ہم نے سب شعر میں سنوارے تھے ہم سے جتنے سخن تمہارے تھے رنگ و خوشبو کے حسن و خوبی کے تم سے تھے جتنے استعارے تھے تیرے قول و قرار سے پہلے اپنے کچھ اور بھی سہارے تھے جب وہ لعل و گہر حساب کیے جو ترے غم نے دل پہ وارے تھے میرے دامن میں آ گرے سارے جتنے طشت فلک میں تارے تھے عمر جاوید کی ...

مزید پڑھیے

یوں سجا چاند کہ جھلکا ترے انداز کا رنگ

یوں سجا چاند کہ جھلکا ترے انداز کا رنگ یوں فضا مہکی کہ بدلا مرے ہم راز کا رنگ سایۂ چشم میں حیراں رخ روشن کا جمال سرخیٔ لب میں پریشاں تری آواز کا رنگ بے پیے ہوں کہ اگر لطف کرو آخر شب شیشۂ مے میں ڈھلے صبح کے آغاز کا رنگ چنگ و نے رنگ پہ تھے اپنے لہو کے دم سے دل نے لے بدلی تو مدھم ہوا ...

مزید پڑھیے

قرض نگاہ یار ادا کر چکے ہیں ہم

قرض نگاہ یار ادا کر چکے ہیں ہم سب کچھ نثار راہ وفا کر چکے ہیں ہم کچھ امتحان دست جفا کر چکے ہیں ہم کچھ ان کی دسترس کا پتا کر چکے ہیں ہم اب احتیاط کی کوئی صورت نہیں رہی قاتل سے رسم و راہ سوا کر چکے ہیں ہم دیکھیں ہے کون کون ضرورت نہیں رہی کوئے ستم میں سب کو خفا کر چکے ہیں ہم اب اپنا ...

مزید پڑھیے

کچھ محتسبوں کی خلوت میں کچھ واعظ کے گھر جاتی ہے

کچھ محتسبوں کی خلوت میں کچھ واعظ کے گھر جاتی ہے ہم بادہ کشوں کے حصے کی اب جام میں کم تر جاتی ہے یوں عرض و طلب سے کم اے دل پتھر دل پانی ہوتے ہیں تم لاکھ رضا کی خو ڈالو کب خوئے ستم گر جاتی ہے بیداد گروں کی بستی ہے یاں داد کہاں خیرات کہاں سر پھوڑتی پھرتی ہے ناداں فریاد جو در در جاتی ...

مزید پڑھیے

بات بس سے نکل چلی ہے

بات بس سے نکل چلی ہے دل کی حالت سنبھل چلی ہے اب جنوں حد سے بڑھ چلا ہے اب طبیعت بہل چلی ہے اشک خوناب ہو چلے ہیں غم کی رنگت بدل چلی ہے یا یوں ہی بجھ رہی ہیں شمعیں یا شب ہجر ٹل چلی ہے لاکھ پیغام ہو گئے ہیں جب صبا ایک پل چلی ہے جاؤ اب سو رہو ستارو درد کی رات ڈھل چلی ہے

مزید پڑھیے

دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے

دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے وہ جا رہا ہے کوئی شب غم گزار کے ویراں ہے مے کدہ خم و ساغر اداس ہیں تم کیا گئے کہ روٹھ گئے دن بہار کے اک فرصت گناہ ملی وہ بھی چار دن دیکھے ہیں ہم نے حوصلے پروردگار کے دنیا نے تیری یاد سے بیگانہ کر دیا تجھ سے بھی دل فریب ہیں غم روزگار کے بھولے سے ...

مزید پڑھیے

اب جو کوئی پوچھے بھی تو اس سے کیا شرح حالات کریں

اب جو کوئی پوچھے بھی تو اس سے کیا شرح حالات کریں دل ٹھہرے تو درد سنائیں درد تھمے تو بات کریں شام ہوئی پھر جوش قدح نے بزم حریفاں روشن کی گھر کو آگ لگائیں ہم بھی روشن اپنی رات کریں قتل دل و جاں اپنے سر ہے اپنا لہو اپنی گردن پہ مہر بہ لب بیٹھے ہیں کس کا شکوہ کس کے ساتھ کریں ہجر میں ...

مزید پڑھیے

تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیں

تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیں کسی بہانے تمہیں یاد کرنے لگتے ہیں حدیث یار کے عنواں نکھرنے لگتے ہیں تو ہر حریم میں گیسو سنورنے لگتے ہیں ہر اجنبی ہمیں محرم دکھائی دیتا ہے جو اب بھی تیری گلی سے گزرنے لگتے ہیں صبا سے کرتے ہیں غربت نصیب ذکر وطن تو چشم صبح میں آنسو ابھرنے لگتے ...

مزید پڑھیے

ہر حقیقت مجاز ہو جائے

ہر حقیقت مجاز ہو جائے کافروں کی نماز ہو جائے دل رہین نیاز ہو جائے بیکسی کارساز ہو جائے منت چارہ ساز کون کرے درد جب جاں نواز ہو جائے عشق دل میں رہے تو رسوا ہو لب پہ آئے تو راز ہو جائے لطف کا انتظار کرتا ہوں جور تا حد ناز ہو جائے عمر بے سود کٹ رہی ہے فیضؔ کاش افشائے راز ہو جائے

مزید پڑھیے

کبھی کبھی یاد میں ابھرتے ہیں نقش ماضی مٹے مٹے سے

کبھی کبھی یاد میں ابھرتے ہیں نقش ماضی مٹے مٹے سے وہ آزمائش دل و نظر کی وہ قربتیں سی وہ فاصلے سے کبھی کبھی آرزو کے صحرا میں آ کے رکتے ہیں قافلے سے وہ ساری باتیں لگاؤ کی سی وہ سارے عنواں وصال کے سے نگاہ و دل کو قرار کیسا نشاط و غم میں کمی کہاں کی وہ جب ملے ہیں تو ان سے ہر بار کی ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4338 سے 6203