قومی زبان

دل کی چوکھٹ پہ جو اک دیپ جلا رکھا ہے

دل کی چوکھٹ پہ جو اک دیپ جلا رکھا ہے تیرے لوٹ آنے کا امکان سجا رکھا ہے سانس تک بھی نہیں لیتے ہیں تجھے سوچتے وقت ہم نے اس کام کو بھی کل پہ اٹھا رکھا ہے روٹھ جاتے ہو تو کچھ اور حسیں لگتے ہو ہم نے یہ سوچ کے ہی تم کو خفا رکھا ہے تم جسے روتا ہوا چھوڑ گئے تھے اک دن ہم نے اس شام کو سینے سے ...

مزید پڑھیے

ابھی تو عشق میں ایسا بھی حال ہونا ہے

ابھی تو عشق میں ایسا بھی حال ہونا ہے کہ اشک روکنا تم سے محال ہونا ہے ہر ایک لب پہ ہے میری وفا کے افسانے ترے ستم کو ابھی لا زوال ہونا ہے بجا کہ خواب ہیں لیکن بہار کی رت میں یہ طے ہے کہ اب کے ہمیں بھی نہال ہونا ہے تمہیں خبر ہی نہیں تم تو لوٹ جاؤ گے تمہارے ہجر میں لمحہ بھی سال ہونا ...

مزید پڑھیے

ہم نے جو دیپ جلائے ہیں تری گلیوں میں

ہم نے جو دیپ جلائے ہیں تری گلیوں میں اپنے کچھ خواب سجائے ہیں تری گلیوں میں جانے یہ عشق ہے یا کوئی کرامت اپنی چاند لے کر چلے آئے ہیں تری گلیوں میں تذکرہ ہو تری گلیوں کا تو ڈر جاتا ہے دل نے وہ زخم اٹھائے ہیں تری گلیوں میں اس لئے بھی تری گلیوں سے ہمیں نفرت ہے ہم نے ارمان گنوائے ہیں ...

مزید پڑھیے

یہ کامیابیاں عزت یہ نام تم سے ہے

یہ کامیابیاں عزت یہ نام تم سے ہے اے میری ماں مرا سارا مقام تم سے ہے تمہارے دم سے ہیں میرے لہو میں کھلتے گلاب مرے وجود کا سارا نظام تم سے ہے گلی گلی میں جو آوارہ پھر رہا ہوتا جہان بھر میں وہی نیک نام تم سے ہے کہاں بساط جہاں اور میں کمسن و ناداں یہ میری جیت کا سب اہتمام تم سے ...

مزید پڑھیے

فلک پہ چاند کے ہالے بھی سوگ کرتے ہیں

فلک پہ چاند کے ہالے بھی سوگ کرتے ہیں جو تو نہیں تو اجالے بھی سوگ کرتے ہیں تمہارے ہاتھ کی چوڑی بھی بین کرتی ہے ہمارے ہونٹ کے تالے بھی سوگ کرتے ہیں نگر نگر میں وہ بکھرے ہیں ظلم کے منظر ہماری روح کے چھالے بھی سوگ کرتے ہیں اسے کہو کہ ستم میں وہ کچھ کمی کر دے کہ ظلم توڑنے والے بھی سوگ ...

مزید پڑھیے

یہ جو چہرے سے تمہیں لگتے ہیں بیمار سے ہم

یہ جو چہرے سے تمہیں لگتے ہیں بیمار سے ہم خوب روئے ہیں لپٹ کر در و دیوار سے ہم یار کی آنکھ میں نفرت نے ہمیں مار دیا مرنے والے تھے کہاں یار کی تلوار سے ہم عشق میں حکم عدولی بھی ہمیں آتی ہے ٹلنے والے تو نہیں ہیں ترے انکار سے ہم رنج ہر رنگ کے جھولی میں بھرے ہیں ہم نے جب بھی گزرے ہیں ...

مزید پڑھیے

میں ہوں ترا خیال ہے اور چاند رات ہے

میں ہوں ترا خیال ہے اور چاند رات ہے دل درد سے نڈھال ہے اور چاند رات ہے آنکھوں میں چبھ گئیں تری یادوں کی کرچیاں کاندھوں پہ غم کی شال ہے اور چاند رات ہے دل توڑ کے خموش نظاروں کا کیا ملا شبنم کا یہ سوال ہے اور چاند رات ہے پھر تتلیاں سی اڑنے لگیں دشت خواب میں پھر خواہش وصال ہے اور ...

مزید پڑھیے

دیار غیر میں کیسے تجھے سدا دیتے

دیار غیر میں کیسے تجھے سدا دیتے تو مل بھی جاتا تو آخر تجھے گنوا دیتے تمہی نے ہم کو سنایا نہ اپنا دکھ ورنہ دعا وہ کرتے کہ ہم آسماں ہلا دیتے ہمیں زعم رہا کہ اب وہ پکاریں گے انہیں یہ ضد تھی کہ ہر بار ہم صدا دیں گے وہ تیرا غم تھا کہ تاثیر میرے لہجے کی کہ جس کو حال سناتے وہ رلا ...

مزید پڑھیے

سمندر میں اترتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں

سمندر میں اترتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں تری آنکھوں کو پڑھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں تمہارا نام لکھنے کی اجازت چھن گئی جب سے کوئی بھی لفظ لکھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں تری یادوں کی خوشبو کھڑکیوں میں رقص کرتی ہے ترے غم میں سلگتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں نہ جانے ...

مزید پڑھیے

اب جو لوٹے ہو اتنے سالوں میں

اب جو لوٹے ہو اتنے سالوں میں دھوپ اتری ہوئی ہے بالوں میں تم مری آنکھ کے سمندر میں تم مری روح کے اجالوں میں پھول ہی پھول کھل اٹھے مجھ میں کون آیا مرے خیالوں میں میں نے جی بھر کے تجھ کو دیکھ لیا تجھ کو الجھا کے کچھ سوالوں میں میری خوشیوں کی کائنات بھی تو تو ہی دکھ درد کے حوالوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 432 سے 6203