سورج طناب شام کو تھامے کھڑا رہے
سورج طناب شام کو تھامے کھڑا رہے اس کے پلٹ کے آنے کا امکان سا رہے شب بھر در گماں رہے دستک کا منتظر گلیوں میں اک فریب کو آواز پا رہے ازبر رہیں کسی طرح پچھلی رفاقتیں سوکھے ہوئے شجر پہ بھی اک گھونسلہ رہے میں مثل بوئے گل ہوں ہواؤں کے ساتھ ساتھ محسوس کر سکے وہ مجھے ڈھونڈھتا رہے جاتے ...