مجھ کو دنیا سے بے خبر کر دے
مجھ کو دنیا سے بے خبر کر دے دیکھ لے مجھ کو معتبر کر دے صبح کو دے دے شام کی رونق شام کو درد کی سحر کر دے دن چڑھے لے لے جاں بھلے میری جسم روشن تو رات بھر کر دے اس کی رگ میں بہے لہو میرا عشق انجام ہم سفر کر دے
مجھ کو دنیا سے بے خبر کر دے دیکھ لے مجھ کو معتبر کر دے صبح کو دے دے شام کی رونق شام کو درد کی سحر کر دے دن چڑھے لے لے جاں بھلے میری جسم روشن تو رات بھر کر دے اس کی رگ میں بہے لہو میرا عشق انجام ہم سفر کر دے
پہچانے تو ہر دم وہی ہر آن وہی ہے جاناں وہی اے جان وہی جان وہی ہے آسائش تن راحت جاں تازہ کئے روح واللہ مع الآن کما کان وہی ہے کعبہ میں وہی خود ہے وہی دیر میں ہے آپ ہندو کہو یا اس کو مسلمان وہی ہے بخشے ہے وہی خاک کو دین و دل و ایماں غارت گر دین و دل و ایمان وہی ہے پردہ ہے تعین کا ...
ساتھ غیروں کے ہے سدا غٹ پٹ اک ہمیں سے رکھے ہے دل میں کپٹ چنگل باز ہیں تری مژگاں طائر دل کو پل میں لے ہے جھپٹ تیری اس وضع دل ربائی سے گھر کے گھر ہو گئے ہیں چوڑ چپٹ وہ بھی دن پھر دکھائے گا اللہ رات کو سوئے تو گلے سے لپٹ پاس جب غیر کو بٹھاتا ہے جائے ہے دل ترے ملاپ سے ہٹ دیتے ہو ...
کیا باغ جہاں میں نام ان کا سرو کہہ کہہ کر کئی آہیں جو نکلی تھیں مرے سینے سے رہ رہ کر سحاب و برق ہیں یا شیشہ و ساغر ہیں کیا ہم تم کہ ہم جس وقت روویں تم ہنسو اس وقت قہہ قہہ کر ہمارا گریہ دیکھے چشم کم سے کیوں نہ دریا کو سمندر سے کئی جاتے ہیں یاں اک پل میں بہہ بہہ کر ہوئے جس گل کے ہم ...
اے دل آتا ہے چمن میں وہ شرابی تو پہنچ لے کے پیالہ گل کا غنچہ کی گلابی تو پہنچ بھر کے ساغر کیجیے خالی غم دوراں سے دل اب نہ کر تاخیر اے ساقی شتابی تو پہنچ پہنے قاصد جب تلک یک بار شرح اشتیاق لے کر اے بیتاب دل کی اضطرابی تو پہنچ خواہش دل ہے کہ کیجے سیر اقلیم جنوں ٹک مدد کو اس کی اے ...
جب رات کی ناگن ڈستی ہے نس نس میں زہر اترتا ہے جب چاند کی کرنیں تیزی سے اس دل کو چیر کے آتی ہیں جب آنکھ کے اندر ہی آنسو سب جذبوں پر چھا جاتے ہو تب یاد بہت تم آتے ہو جب درد کی جھانجر بجتی ہے جب رقص غموں کا ہوتا ہے خوابوں کی تال پہ سارے دکھ وحشت کے ساز بجاتے ہیں گاتے ہیں خواہش کی لے ...
بے سبب تو نہ تھیں تری یادیں تیری یادوں سے کیا نہیں سیکھا ضبط کا حوصلہ بڑھا لینا آنسوؤں کو کہیں چھپا لینا کانپتی ڈولتی صداؤں کو چپ کی چادر سے ڈھانپ کر رکھنا بے سبب بھی کبھی کبھی ہنسنا جب بھی ہو بات کوئی تلخی کی موضوع گفتگو بدل دینا بے سبب تو نہیں تری یادیں تیری یادوں سے کیا نہیں ...
خواب اور خوشبو دونوں ہی آزادہ روحیں دونوں قید نہیں ہو سکتے میرے خواب تمہاری خوشبو
مجھے ہر کام سے پہلے سحر سے شام سے پہلے یہی اک کام کرنا ہے تمہارا نام لینا ہے تمہی کو یاد کرنا ہے کہ جب بھی درد پینا ہے کہ جب بھی زخم سینا ہے غم دنیا سے گھبرا کر مجھے جب جام لینا ہے تمہارا نام لینا ہے تمہی کو یاد کرنا ہے تمہاری یاد ہے دل میں کہ اک صیاد ہے دل میں کوئی برباد ہے دل ...
آج جس پر یہ پردہ داری ہے کل اسی کی تو دعوے داری ہے آئینہ مجھ سے کہہ رہا ہے یہی میرے چہرے پہ بے قراری ہے آج وعدہ وہ پھر نبھائے گا وادی و گل پہ کیا خماری ہے تیری آنکھیں یہ صاف کہتی ہے رات کتنی حسیں گزاری ہے