مرے دل میں ہجر کے باب ہیں تجھے اب تلک وہی ناز ہے
مرے دل میں ہجر کے باب ہیں تجھے اب تلک وہی ناز ہے جو یہ جی ہی لینے پہ ہے نظر تو قبول ہو یہ نماز ہے یہی کھوج لینے کے واسطے پھروں ہوں میں ساتھ نسیم کے کہ چمن میں کوئی ہے گل کہیں تری بو سے محرم راز ہے کوئی اور قصہ شروع کر جو تمام کہہ سکے ہم نفس کہ فسانہ زلف سیاہ کا شب ہجر سے بھی دراز ...