قومی زبان

وہ بہکی نگاہیں کیا کہیے وہ مہکی جوانی کیا کہیے

وہ بہکی نگاہیں کیا کہیے وہ مہکی جوانی کیا کہیے وہ کیف میں ڈوبے لمحوں کی اب رات سہانی کیا کہیے الجھی ہوئی زلفیں خواب اثر بدمست نگاہیں وجہ بقا دنیا سے مگر امکان شب اسرار و معانی کیا کہیے روداد محبت سن سن کر خود حسن کو بھی نیند آنے لگی اب اور کہاں سے لائیں دل اب اور کہانی کیا ...

مزید پڑھیے

کوئی بھی ہم سفر نہیں ہوتا

کوئی بھی ہم سفر نہیں ہوتا درد کیوں رات بھر نہیں ہوتا راہ دل خودبخود ہے مل جاتی کوئی بھی راہبر نہیں ہوتا آہ کا بھی نہ ذکر کر اے دل آہ میں بھی اثر نہیں ہوتا دل کو آسودگی بھی کیونکر ہو غم سے شیر و شکر نہیں ہوتا آہ اے بے خبر یہ بے خبری دل ناداں خبر نہیں ہوتا دل کی راہیں جدا ہیں ...

مزید پڑھیے

ہر ایک سے بیزار وہ اپنے میں مگن ہے

ہر ایک سے بیزار وہ اپنے میں مگن ہے شاید اسے چہروں کو پرکھ لینے کا فن ہے ہونے سے نہ ہونے کے سفر میں ہیں سبھی گم حالانکہ ہر اک چہرے پہ صدیوں کی تھکن ہے اس شہر کی محدود مزاجی کا اثر دیکھ گو ذہن کشادہ ہیں دلوں میں تو گھٹن ہے الفاظ لب و گیسؤو رخسار ہیں اس کے غزلوں کی قباؤں میں چھپا ...

مزید پڑھیے

دن ویراں شب بوجھل لکھ

دن ویراں شب بوجھل لکھ غزلیں سگریٹ بوتل لکھ گمناموں کی نگری میں شہرت کو تو پاگل لکھ صدیوں جیسا اس کے بن لمحہ لمحہ پل پل لکھ دل موسم میں میں اور وہ ندی نالے جل تھل لکھ وعدوں کی برساتوں میں یادوں کی ہے دلدل لکھ پھیل گیا ہے راتوں رات ان آنکھوں کا کاجل لکھ غم اپنی جاگیر حنیفؔ عشق ...

مزید پڑھیے

اپنے بارے میں سوچ لیتے ہیں

اپنے بارے میں سوچ لیتے ہیں یعنی اب ہم بہت اکیلے ہیں خوف آتا ہے بھیڑ سے جب بھی گھر کی ویرانیوں سے ڈرتے ہیں میرے ماضی کی بند مٹھی میں تیری یادوں کے چند سکے ہیں کیا کریں ہر بشر کی آنکھوں میں بے یقینی کے گہرے سائے ہیں بات کرتے ہوئے یہ لگتا ہے خواب لفظوں کی شکل امڈے ہیں

مزید پڑھیے

کوئی دل میں آ بیٹھا اور چٹکی لی ارمانوں میں

کوئی دل میں آ بیٹھا اور چٹکی لی ارمانوں میں رات عجب منظر دیکھا جب چاند کھلا میدانوں میں پیٹ کی ذلت نے بالآخر بازاروں نیلام کیا عزت جانے قید تھی کب سے موروثی تہہ خانوں میں جیسے کوئی دھیمے لفظوں میرا نام پکارے ہے ایک صدا رہ رہ کر اب بھی در آتی ہے کانوں میں یادوں کی ایک تتلی ...

مزید پڑھیے

جب بھی میں خود سے اوب جاتا ہوں

جب بھی میں خود سے اوب جاتا ہوں میرؔ صاحب کو گنگناتا ہوں جھوٹ کیوں سوئیاں چبھوتا ہے آنکھ جب سچ سے میں چراتا ہوں وار کرتا ہوں جب خلاؤں میں جھومتا اور مسکراتا ہوں جب کبھی جی ذرا سنبھلتا ہے کچھ نئے درد ڈھونڈ لاتا ہوں خواب پلکوں پہ رک نہیں پاتے کون آتا ہے چونک جاتا ہوں روز مجھ کو ...

مزید پڑھیے

ایسی تھی آگ وقت کی رشتے بھی جل گئے

ایسی تھی آگ وقت کی رشتے بھی جل گئے آبائی رکھ رکھاؤ کے قصے بھی جل گئے جسموں میں کھولتا ہی رہا آگہی کا خون تپتے ہوئے خیال میں لہجے بھی جل گئے گہری ریاضتوں سے میں سورج نما ہوا پھر یوں ہوا کہ خون کے رشتے بھی چل گئے وہ کیا گیا کہ چار سو چنگاریاں ہیں اب اوراق پر سجے ہوئے سپنے بھی جل ...

مزید پڑھیے

نفی ہوئے تھے سب اثبات

نفی ہوئے تھے سب اثبات میرے دن میرے حالات آمدنی کیا شے ہے یار کیوں ہوتے ہیں اخراجات غم شہنائی گونجتے ہی آئی یادوں کی بارات ادنیٰ سا اک مہرہ میں جس نے دی تھی شہہ کو مات بند ملے جب گھر کے در آنگن میں جا لیٹی رات بکھرا بکھرا میرا شوق سمٹی سمٹی اس کی ذات اس موسم تک آئی یار بیتی رت ...

مزید پڑھیے

مکان چہرے دکان چہرے

مکان چہرے دکان چہرے ہماری بستی کی جان چہرے اجاڑ نسلوں کے نوحہ گر ہیں خزاں رسیدہ جوان چہرے دھواں دھواں منظروں کا حصہ خیال خوشبو گمان چہرے روایتوں کے نقوش جن پر وہ کھنڈروں سے مکان چہرے کوئی تأثر ہو زندگی کا کریں خوشی غم بیان چہرے کوئی نہیں ہے کسی سے واقف نگر میں سب بے نشان ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4292 سے 6203