کیا ہو گیا کیسی رت پلٹی مرا چین گیا مری نیند گئی
کیا ہو گیا کیسی رت پلٹی مرا چین گیا مری نیند گئی کھلتی ہی نہیں اب دل کی کلی مرا چین گیا مری نیند گئی میں لاکھ رہوں یوں ہی خاک بسر شاداب رہیں ترے شام و سحر نہیں اس کا مجھے شکوہ بھی کوئی مرا چین گیا مری نیند گئی میں کب سے ہوں آس لگائے ہوئے اک شمع امید جلائے ہوئے کوئی لمحہ سکوں کا ...