قومی زبان

چھپکلی

حجلۂ تاریک میں پائی ہے اس نے پرورش شمع جلتے ہی در و دیوار پر لے کے مٹیالا سا کاہیدہ بدن جھومتی سر مست آ جاتی ہے یہ پا بجولاں چند پروانوں کے پاس غوطہ زن پاتے ہی جن کو آبشار نور میں تیز چمکیلی نکیلی آنکھ سے یوں دیکھتی ہے بار بار جیسے اک سرمایہ دار مال و زر کی اوٹ سے کرتا ہے مفلس کا ...

مزید پڑھیے

بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے

شیشے کے نازک برتن میں صابن گھول رہی ہے ننھی گڑیا نرکل کی نازک پھکنی سے پھونک رہی ہے غبارے ہر غبارہ اک خواب سا بن کر تیر رہا ہے کمرے میں کمرے کی دیواروں سے ٹکرا ٹکرا کر ٹوٹ رہا ہے میں خاموش اپنے کمرے میں یہ کھیل تماشا دیکھ رہا ہوں اس کے نازک ہونٹوں کی نازک سی شرارت دیکھ رہا ہوں یہ ...

مزید پڑھیے

غم کا بادل

غم کا بادل گر برس جائے تو ابھرے آفتاب غم سمندر موتیوں کی کان ہے یا رگ سنگ گراں مایہ کی اک پہچان ہے غم وہ آئینہ کہ جس میں عکس زلف عنبریں صورت ارض و سما جلوہ نما خواب زار زندگی کے واسطے غم کا پرتو پرتو خورشید ہے غم کا بادل گر برس جائے تو ابھرے آفتاب

مزید پڑھیے

فن کار اور موت

جب مجھے یہ خیال آتا ہے ایک فن کار مر نہیں سکتا اس کی تخلیق زندہ رہتی ہے اس کا کردار مر نہیں سکتا یاد آتے ہیں مجھ کو وہ فن کار زندگی بھر جو زہر پی کے جئے غم کی تصویر بن کے زندہ رہے دہر فانی میں اپنے فن کے لئے اور اس دہر کے نکموں نے ان کی راہوں میں خار بکھرائے جب یہ دشت جنوں میں اور ...

مزید پڑھیے

رنگ دیکھا تری طبیعت کا

رنگ دیکھا تری طبیعت کا ہو چکا امتحاں محبت کا یہی نقشہ رہا جو فرقت کا بت بنا لیں گے تیری صورت کا نہ ملو تم گلے رقیبوں سے خون ہوتا ہے میری حسرت کا تیری رفتار نے نشان دیا نام سنتے تھے ہم قیامت کا دیکھتا ہوں پری جمالوں کو مجھ کو لپکا ہے اچھی صورت کا ملتی جلتی ہے زلف شب گوں سے کیا ...

مزید پڑھیے

غبار خاطر ناشاد ہوں میں

غبار خاطر ناشاد ہوں میں کہ مٹنے کے لئے آباد ہوں میں جفا و جور سے بھی شاد ہوں میں حریص لذت بیداد ہوں میں لب معجز نما سے زندگی ہے خراج ناز سے برباد ہوں میں بڑی مشکل میں کی امداد میری فدائے بازوئے جلاد ہوں میں نہ کر پامال گردش ہائے افلاک کسی بھولے ہوئے کی یاد ہوں میں تمنا وصل کی ...

مزید پڑھیے

ہو ترقی پر مرا درد جدائی اور بھی

ہو ترقی پر مرا درد جدائی اور بھی اور بھی اے بے وفا کر بے وفائی اور بھی ہونے پایا تھا ابھی خوگر نہ درد ہجر کا آگ رشک غیر نے دل میں لگائی اور بھی دیکھیے مڑ کر نگاہ ناز کے قربان میں ایک بار اے فتنہ گر جلوہ نمائی اور بھی فائدہ کیا ایسے ہرجائی سے ملنے میں فروغؔ ہو گئی دنیا میں تیری جگ ...

مزید پڑھیے

اس قدر محو تصور ہوں ستم گر تیرا

اس قدر محو تصور ہوں ستم گر تیرا مجھ کو غربت میں نظر آنے لگا گھر تیرا نشۂ مے کی بجھی پیاس نہ کچھ بھی افسوس نام سنتے تھے بڑا چشمۂ کوثر تیرا اپنے پامالیٔ دل کا مجھے افسوس نہیں دیکھ ظالم نہ بگڑ جائے کہیں گھر تیرا وہ بھی ہیں لوگ جو ہم بزم رہا کرتے تھے ہم تو جیتے ہیں فقط نام ہی لے کر ...

مزید پڑھیے

تعلق مدتوں کا ترک اس سے ہو تو کیونکر ہو

تعلق مدتوں کا ترک اس سے ہو تو کیونکر ہو خدا کے واسطے ناصح نہ اتنا تو مرے سر ہو مرے رونے پہ کیوں بیداد اتنی اے ستم گر ہو نکل آتے ہیں آنسو آنکھ سے جب صدمہ دل پر ہو پری رخسار بھی ہو اور حوروں سے بھی بہتر ہو وفا ہی جب نہیں تم میں تو دشمن کے برابر ہو عدو فرقت میں تڑپے اور وہ مہماں مرے ...

مزید پڑھیے

وار اور پھر وار کس کا آپ کی تلوار کا

وار اور پھر وار کس کا آپ کی تلوار کا اب رفو مشکل سے ہوگا زخم دامن دار کا خون رونا بے گناہی پر تری تلوار کا اور ہنس دینا ہمارے زخم دامن دار کا کس قدر لپکا ہے چشم شوق کو دیدار کا بن گیا تار نظر آخر تصور یار کا سیج پر گزری مگر گزری شب وصل اس طرح چٹکیاں لیتا رہا دھڑکا فراق یار کا رشک ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4277 سے 6203