بے باک اندھیرے
جب کبھی شب کے طلسمات میں کھو جاتا ہوں یا ترے حسن کی آغوش میں سو جاتا ہوں تیری تصویر ابھرتی ہے پس پردۂ خواب ایک ٹوٹے ہوئے بے لوث ستارے کی طرح چیر کر سینۂ آفاق کی تاریک فضا از راہ وفا تیری تصویر اٹھا لیتا ہوں عارض و لب کے جواں گیت چرا لیتا ہوں دور تک جادۂ فردا پہ مہک اٹھتے ...