منظوم واقعہ
پہلے عادت ہوئی آدھے لفظ کہنے کی پھر سناٹے پھیلے جملوں میں دھیرے دھیرے حرف مٹے مری ڈائری سے اور ایک دن بھول گئی میں خود کو آنکھ کی ریت کے ساحل پر اس رات پھیل گیا سمندر دور کے خشک جزیروں پر
پہلے عادت ہوئی آدھے لفظ کہنے کی پھر سناٹے پھیلے جملوں میں دھیرے دھیرے حرف مٹے مری ڈائری سے اور ایک دن بھول گئی میں خود کو آنکھ کی ریت کے ساحل پر اس رات پھیل گیا سمندر دور کے خشک جزیروں پر
تمہیں یہ کس نے کہہ دیا آخر کہ کسی ریستوراں کے نیم تاریک گوشے میں بیٹھ کر مدھم سرگوشیوں میں مسکراتے لبوں سے بات کرنا اور آئس کریم کے کپ میں چمچ ہلاتے ہوئے خواہش دل کو زباں پر لے آنا محبت ہے تمہیں یہ کس نے کہہ دیا آخر کہ کسی رقص کدے میں ہم رقص کے بالوں کو چھوتے ہوئے دھیرے سے دل کش ...
محبتوں میں مجھے تو اداس رہنے دے جو کچھ نہیں ہے تو یادوں کے پاس رہنے دے وہ جس جگہ بھی ہے میرا ہے بس وہ میرا ہے یہ میرے دل میں خدایا قیاس رہنے دے میں تیرے در کی ہوں باندی سنبھال کر رکھنا کہ در سے دور نہ کرنا تو پاس رہنے دے میں اس کی پیاس کو سمجھی ہوں اس کی آنکھوں سے وہ کاش ایسے ہی ...
چاہے جتنا ساتھ نبھا لو پھر بھی بچھڑنا پڑتا ہے زہر جدائی رو کر یا پھر ہنس کر پینا پڑتا ہے دشمن پر یہ جان نچھاور کرنی بھی پڑ سکتی ہے بعض اوقات تو اپنی جاں کا دشمن ہونا پڑتا ہے جانے والے کب رکتے ہیں رک بھی جائیں تو کب تک جو جو دنیا میں آتا ہے اس کو جانا پڑتا ہے دو دھاری تلوار ہے ...
چلے ہیں ساتھ ہم انجان ہو کر رہے اپنے ہی گھر مہمان ہو کر ملی تھی راستے میں زندگی بھی مجھے تکتی رہی حیران ہو کر مجھے سمجھا نہیں شاید کسی نے بہت مشکل میں ہوں آسان ہو کر جہاں ہے وہ وہاں پر ہم نہیں ہیں پڑے ہیں گھر میں ہم سامان ہو کر کوئی دھڑکا نہیں لٹنے کا مجھ کو میں خوش ہوں بے سر و ...
پچھلے برس تم ساتھ تھے میرے اور دسمبر تھا مہکے ہوئے دن رات تھے میرے اور دسمبر تھا چاندنی رات تھی سرد ہوا سے کھڑکی بجتی تھی ان ہاتھوں میں ہاتھ تھے میرے اور دسمبر تھا بارش کی بوندوں سے دل پہ دستک ہوتی تھی سب موسم برسات تھے میرے اور دسمبر تھا بھیگی زلفیں بھیگا آنچل نیند تھی ...
نہیں ہے خوش اضطراب میں ہے مرا یہ دل بھی سراب میں ہے میں کیسی راہوں میں کھو گئی ہوں سبھی قصور انتخاب میں ہے دکھوں بھری رات کٹ گئی ہے ستارہ سحری سحاب میں ہے وہ یوں تو لگتا ہے سب کے جیسا مگر جدا کچھ جناب میں ہے میں چاہے اس میں نہیں ہوں شامل مگر وہ دل کے نصاب میں ہے میں اس کی ...
ایک بجلی کے کھمبے تلے کتنے زندہ بچے اور کتنے جلے کس کو معلوم ہو کیسے معلوم ہو کوئی ان کا شریک شب غم نہ تھا شام سے تا سحر اپنے انجام سے بے خبر آتش سوز پنہاں میں جلتے رہے رقص کرتے رہے صبح ہونے سے پہلے سیہ رات کے قافلے سرد لاشوں کے انبار کو آ کے بکھرا گئے شکستہ پروں کو ہواؤں کے جھونکے ...
پھول کاغذ کے ہیں خوشبو سے بہت دور ہیں یہ میری ماں تو انہیں بیکار چنا کرتی ہے چاندنی ہو کہ کڑی دھوپ کی گرمی کچھ ہو میری خاطر تو کہاں روز پھرا کرتی ہے میرے ملبوس محبت کا جو پیوند بنے مجھ کو اس ریشمی کپڑے کی ضرورت کیا ہے جو کبھی اپنا کبھی غیر کا بیمار بنے مجھ کو اس حسن کی یلغار سے ...
پھر رات کی تاریک ادائیں ہیں مسلط پھر صبح کے ہاتھوں سے حنا چھوٹ رہی ہے جو ہار تیرے واسطے گوندھا تھا کسی نے اس ہار کی اک ایک لڑی ٹوٹ رہی ہے جو ساز کبھی واقف اسرار جنوں تھا اس ساز کی رگ رگ سے لہو پھوٹ رہا ہے کیا ہوش تجھے ساقیٔ میخانۂ دنیا وہ کون سا ساغر ہے جو اب ٹوٹ رہا ہے تقدیر کو ...