جس دن سے کوئی خواہش دنیا نہیں رکھتا
جس دن سے کوئی خواہش دنیا نہیں رکھتا میں دل میں کسی بات کا کھٹکا نہیں رکھتا مجھ میں ہے یہی عیب کہ اوروں کی طرح میں چہرے پہ کبھی دوسرا چہرا نہیں رکھتا کیوں قتل مجھے کر کے ڈبوتے ہو ندی میں دو دن بھی کسی لاش کو دریا نہیں رکھتا کیوں مجھ کو لہو دینے پہ تم لوگ بہ ضد ہو میں سر پہ کسی شخص ...