قومی زبان

یہ بھی شاید ترا اعجاز نظر ہے اے دوست

یہ بھی شاید ترا اعجاز نظر ہے اے دوست شعلۂ درد مجھے اک گل تر ہے اے دوست تیری آواز تو صحرا میں بھٹک جاتی ہے کس طرف جاؤں میں تو جانے کدھر ہے اے دوست ہائے یہ بے‌‌ سر و سامانی و بے ترتیبی زندگی کیا کسی مے خوار کا گھر ہے اے دوست کتنے طوفانوں کو سر کرتی ہے اک شمع وفا اور وہ شمع وفا درد ...

مزید پڑھیے

پرائی آگ میں یوں جل بجھے شرر میرے

پرائی آگ میں یوں جل بجھے شرر میرے کھلے نہ مجھ پہ بھی احوال بیشتر میرے ہے زرد رینگتے سایوں کی زد میں شاخ گلاب تم آئے ہو بھی تو کس رت میں آج گھر میرے سزا وجود سے بھی قبل ہو چکی مقسوم خبر نہ رکھ مری اس درجہ بے خبر میرے چھتوں پہ سایہ کناں بیل جل گئی ہوگی سلگ اٹھے ہیں کچھ اس طور بام و ...

مزید پڑھیے

مزاج گردش دوراں وہی سمجھتے ہیں

مزاج گردش دوراں وہی سمجھتے ہیں جو رسم و راہ غم عاشقی سمجھتے ہیں وہ کون لوگ تھے راس آئی جن کو غربت بھی ہمیں تو اہل وطن اجنبی سمجھتے ہیں شکست دل کا یہ اک لازمی نتیجہ ہے حضور آپ جسے سادگی سمجھتے ہیں بڑی لطیف ہے یہ لذت طلب لیکن کچھ اس کو تیرے گنہ گار ہی سمجھتے ہیں چھپاؤ ہم سے نہ ...

مزید پڑھیے

ہم پہ جس طور بھی تم چاہو نظر کر دیکھو

ہم پہ جس طور بھی تم چاہو نظر کر دیکھو ہاں مگر بام کی رفعت سے اتر کر دیکھو آبلہ پائی کی لذت بھی عجب لذت ہے ساکنو دشت میں اک بار سفر کر دیکھو پھول ہی پھول دمکتے ہیں کراں تا بہ کراں شعلہ زار غم ہستی سے گزر کر دیکھو یہ تو معلوم ہے آئے گا نہ کوئی لیکن آج کی رات بھی شاہینؔ سحر کر ...

مزید پڑھیے

ہمارے حال زبوں پر ملال ہے کتنا

ہمارے حال زبوں پر ملال ہے کتنا اسے بھی یارو ہمارا خیال ہے کتنا بچایئے دل زندہ کو خون ہونے سے نہ دیکھیے کہ غم ماہ و سال ہے کتنا ہوئی خوشی جو میسر تو یہ ہوا معلوم خوشی کا بوجھ اٹھانا محال ہے کتنا نباہ زیست سے کرتا ہوں عاشقانہ میں یہ جانتا ہوں کہ جینا محال ہے کتنا

مزید پڑھیے

میں خامشی کے جزیرے میں ایک پتھر تھا

میں خامشی کے جزیرے میں ایک پتھر تھا مگر صداؤں کا ریلا مرا مقدر تھا نہ جانے کون تھا کس اجنبی سفر پر تھا وہ قافلے سے الگ قافلے کے اندر تھا تمام شہر کو اس کا پتہ ملا مجھ سے وہ آئنے میں تھا پر آئنے سے باہر تھا وہ جا رہا تھا سمندر کو جھیلنے کے لئے عرق عرق سر ساحل تمام منظر تھا کھلا ...

مزید پڑھیے

زندگی ہے مختصر آہستہ چل

زندگی ہے مختصر آہستہ چل کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ چل ایک اندھی دوڑ ہے کس کو خبر کون ہے کس راہ پر آہستہ چل دیدۂ حیراں کو اک منظر بہت یوں ہی نظارہ نہ کر آہستہ چل تیزگامی جس شکم کی آگ ہے اس سے بچنا ہے ہنر آہستہ چل جو تگ و دو سے تری حاصل ہوا رکھ کچھ اس کی بھی خبر آہستہ چل روز و شب یوں ...

مزید پڑھیے

چہروں میں نظر آئیں آنکھوں میں اتر جائیں

چہروں میں نظر آئیں آنکھوں میں اتر جائیں ہم تجھ سے جدا ہو کر ہر سمت بکھر جائیں دن بھر کی مشقت سے تھک ہار کے گھر جائیں اور اپنی ہی دستک کی آواز سے ڈر جائیں اچھا ہے کہ ہم اپنے ہونے سے مکر جائیں یا اپنی خبر دے کر چپکے سے گزر جائیں جس شہر بھی ہم جیسے برباد نظر جائیں اوراق مصور کے ...

مزید پڑھیے

دل جہاں بھی ڈوبا ہے ان کی یاد آئی ہے

دل جہاں بھی ڈوبا ہے ان کی یاد آئی ہے ہائے کیا سکوں پرور درد آشنائی ہے تم سراب بن بن کر اپنی چھب دکھاتے ہو تشنہ لب مسافر کی جان پر بن آئی ہے یہ کشاکش ہستی کتنی دور لے آئی دن کہاں گزارا ہے شب کہاں گنوائی ہے زندگی تری خاطر تیرے درد مندوں نے اک جہان کی تہمت اپنے سر اٹھائی ہے روز و ...

مزید پڑھیے

سفر ہے ختم مگر بے گھری نہ جائے گی

سفر ہے ختم مگر بے گھری نہ جائے گی ہمارے گھر سے یہ پیغمبری نہ جائے گی نظر گنوا بھی چکے تجھ کو دیکھنے والے افق افق تری جلوہ‌ گری نہ جائے گی میں اپنے خواب تراشوں انہیں بکھیروں بھی مری سرشت سے یہ آذری نہ جائے گی حسیں ہے شیشہ و آہن کا امتزاج مگر تری سیاست آہن گری نہ جائے گی میں سب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 425 سے 6203