ہر آن یاس بڑھنی ہر دم امید گھٹنی
ہر آن یاس بڑھنی ہر دم امید گھٹنی دن حشر کا ہے اب تو فرقت کی رات کٹنی پو پھاٹنا نہیں یہ مجھ سینہ چاک کے ہے ہر صبح بار غم سے چھاتی فلک کی پھٹنی کوچے میں اس کے باقی مجھ خاکسار پر اب یا آسماں ہے گرنا یا ہے زمین پھٹنی مژگاں کی برچھیوں نے دل کو تو چھان مارا اب بوٹیاں ہیں باقی ان پر جگر ...