لحاف
یہ داغ آتما کا جو بستر سے ملا ہے شیشے کو یہ صدمہ کسی پتھر سے ملا ہے کیا دیکھ لیا میں نے لحاف میں اے ہے افسانے کا عنواں اسی چادر سے ملا ہے
یہ داغ آتما کا جو بستر سے ملا ہے شیشے کو یہ صدمہ کسی پتھر سے ملا ہے کیا دیکھ لیا میں نے لحاف میں اے ہے افسانے کا عنواں اسی چادر سے ملا ہے
عروج آدم خاکی کہاں کا قصہ ہے محض درازیٔ کار جہاں کا قصہ ہے سیاہ رات تھی نیزہ بکف کما بر دوش طلوع صبح لٹے کارواں کا قصہ ہے حصول مال غنیمت کی داستان لطیف دراصل وادیٔ آہ و فغاں کا قصہ ہے غنیم حرص و ہوس ہمکنار فتح و ظفر ضرور یہ مرے ہندوستان کا قصہ ہے وہ رنگ و نور کا دریا وہ حسن و ...
ملتیں جب جادۂ حق سے گریزاں ہو گئیں جانے کتنی بستیاں شہر خموشاں ہو گئی پستیاں پنجوں کے بل اچھلی تو قیمت بڑھ گئیں عظمتیں بازار میں پہنچیں تو ارزاں ہو گئیں ضبط غم کا یہ تماشہ بھی کسی دن دیکھنا آندھیاں تنکوں سے ٹکرا کر پشیماں ہو گئیں عزت و ناموس کے دعوے فسانہ بن گئیں عصمتیں جب ...
وہ خود خبر ہے مگر اپنی کچھ خبر بھی نہیں ستم ظریف کو احساس خیر و شر بھی نہیں یہاں تو سب کو اجازت ہے آنے جانے کی ہمارا دل تو وہ گھر ہے کہ جس میں در ہی نہیں خبر یہی تھی کہ وہ بد دماغ ہے شاید جو جا کے دیکھا کہ کاندھے پہ اس کے سر بھی نہیں بہار ڈھونڈنے نکلے تھے کس جگہ پہنچے کہاں کے پھول ...
لٹے جاتے ہیں لیکن غم نہیں ہے اب اس عالم میں وہ عالم نہیں ہے تمنائیں صلیبوں پر سجی ہیں سر پندار پھر بھی خم نہیں ہے قیامت خیز ہے جادو بیانی مگر باتوں میں اس کے دم نہیں بہاریں اور خزائیں سب اسی کی مرا اپنا کوئی موسم نہیں ہے اگر ملتے تو شاید خوش نہ رہتے بچھڑنے کا بھی اب ماتم نہیں ...
یہ عہد نو ہو مبارک تجھے مگر ساقی نظام میکدہ ابتر ہے غور کر ساقی اڑان تیز ہے اتنی کہ تھم گئے منظر رکا رکا سا ہے لمحات کا سفر ساقی فضا میں تیر رہے ہیں قضا کے جرثومے بسے ہیں دشت میں بارود کے نگر ساقی جھلس رہا ہے تعصب کی آگ میں گلشن قیامتیں ہیں قیامت سے پیشتر ساقی پڑے ہیں خاک پہ بے ...
ستم تیرے حفاظت سے رہیں گے مرے دل میں نہاں خانے بہت ہیں اگے ہیں ہر طرف شہروں کے جنگل بھٹکنے کو یہ ویرانے بہت ہیں ہمارے قد کو چاہے جس سے ناپو تمہارے پاس پیمانے بہت ہیں مرا اپنا ہے یہ سارا قبیلہ مگر اس میں بھی بیگانے بہت ہیں ہمیں کیا کام عقل و آگہی سے ہمارے بیچ فرزانے بہت ...
خرچ جب ہو گئی جذبوں کی رقم آپ ہی آپ کھل گیا ہم پہ حسینوں کا بھرم آپ ہی آپ اب کے روٹھے تو منانے نہیں آیا کوئی بات بڑھ جائے تو ہو جاتی ہے کم آپ ہی آپ روز بڑھتا تھا کوئی دست طلب اپنی طرف سر سے ہوتا ہوگا اک بوجھ بھی کم آپ ہی آپ ان کے وعدوں پہ کوئی دن تو گزارہ کیجے آپ بن جائیں گے تصویر ...
عشق جھیلا ہے تو چہرہ زرد ہونا چاہئے حسن کے شیدائیوں کو مرد ہونا چاہئے بد گمانی پونچھ کر آنچل سے کوئی چوم لے اس لئے تصویر پر کچھ گرد ہونا چاہئے سچ کہو تو ہر کہانی داستان اپنی ہی ہے آدمی کے دل میں تھوڑا درد ہونا چاہئے آج کے بوسوں میں سچائی کی سرخی ہے کہاں اے مصور ان لبوں کو زرد ...
مرے گھر کی اینٹیں چرا لے گیا وہ نہیں جانتا ہے کہ کیا لے گیا وہ اسے کیا ضرورت تھی وہ جانتا ہے جو گھر میں پرایا خدا لے گیا وہ سر راہ جس نے کیا قتل میرا ستم ہے مرا خوں بہا لے گیا وہ مرا روتا بچہ بہلتا تھا جس سے وہ لکڑی کا ہاتھی اٹھا لے گیا وہ سخاوت نے اس کو دھنی کر دیا ہے فقیروں کی ...