قومی زبان

میں آسماں پہ بہت دیر رہ نہیں سکتا

میں آسماں پہ بہت دیر رہ نہیں سکتا مگر یہ بات زمیں سے تو کہہ نہیں سکتا کسی کے چہرے کو کب تک نگاہ میں رکھوں سفر میں ایک ہی منظر تو رہ نہیں سکتا یہ آزمانے کی فرصت تجھے کبھی مل جائے میں آنکھوں آنکھوں میں کیا بات کہہ نہیں سکتا سہارا لینا ہی پڑتا ہے مجھ کو دریا کا میں ایک قطرہ ہوں ...

مزید پڑھیے

اپنے چہرے سے جو ظاہر ہے چھپائیں کیسے

اپنے چہرے سے جو ظاہر ہے چھپائیں کیسے تیری مرضی کے مطابق نظر آئیں کیسے گھر سجانے کا تصور تو بہت بعد کا ہے پہلے یہ طے ہو کہ اس گھر کو بچائیں کیسے لاکھ تلواریں بڑھی آتی ہوں گردن کی طرف سر جھکانا نہیں آتا تو جھکائیں کیسے قہقہہ آنکھ کا برتاؤ بدل دیتا ہے ہنسنے والے تجھے آنسو نظر ...

مزید پڑھیے

یہ ہے تو سب کے لیے ہو یہ ضد ہماری ہے

یہ ہے تو سب کے لیے ہو یہ ضد ہماری ہے اس ایک بات پہ دنیا سے جنگ جاری ہے اڑان والو اڑانوں پہ وقت بھاری ہے پروں کی اب کے نہیں حوصلوں کی باری ہے میں قطرہ ہو کے بھی طوفاں سے جنگ لیتا ہوں مجھے بچانا سمندر کی ذمہ داری ہے اسی سے جلتے ہیں صحرائے آرزو میں چراغ یہ تشنگی تو مجھے زندگی سے ...

مزید پڑھیے

رنگ بے رنگ ہوں خوشبو کا بھروسہ جائے

رنگ بے رنگ ہوں خوشبو کا بھروسہ جائے میری آنکھوں سے جو دنیا تجھے دیکھا جائے ہم نے جس راہ کو چھوڑا پھر اسے چھوڑ دیا اب نہ جائیں گے ادھر چاہے زمانہ جائے میں نے مدت سے کوئی خواب نہیں دیکھا ہے ہاتھ رکھ دے مری آنکھوں پہ کہ نیند آ جائے میں گناہوں کا طرف دار نہیں ہوں پھر بھی رات کو دن ...

مزید پڑھیے

کیا بتاؤں کیسا خود کو در بدر میں نے کیا

کیا بتاؤں کیسا خود کو در بدر میں نے کیا عمر بھر کس کس کے حصے کا سفر میں نے کیا تو تو نفرت بھی نہ کر پائے گا اس شدت کے ساتھ جس بلا کا پیار تجھ سے بے خبر میں نے کیا کیسے بچوں کو بتاؤں راستوں کے پیچ و خم زندگی بھر تو کتابوں کا سفر میں نے کیا کس کو فرصت تھی کہ بتلاتا تجھے اتنی سی ...

مزید پڑھیے

بھلا غموں سے کہاں ہار جانے والے تھے

بھلا غموں سے کہاں ہار جانے والے تھے ہم آنسوؤں کی طرح مسکرانے والے تھے ہمیں نے کر دیا اعلان گمرہی ورنہ ہمارے پیچھے بہت لوگ آنے والے تھے انہیں تو خاک میں ملنا ہی تھا کہ میرے تھے یہ اشک کون سے اونچے گھرانے والے تھے انہیں قریب نہ ہونے دیا کبھی میں نے جو دوستی میں حدیں بھول جانے ...

مزید پڑھیے

دور سے ہی بس دریا دریا لگتا ہے

دور سے ہی بس دریا دریا لگتا ہے ڈوب کے دیکھو کتنا پیاسا لگتا ہے تنہا ہو تو گھبرایا سا لگتا ہے بھیڑ میں اس کو دیکھ کے اچھا لگتا ہے آج یہ ہے کل اور یہاں ہوگا کوئی سوچو تو سب کھیل تماشا لگتا ہے میں ہی نہ مانوں میرے بکھرنے میں ورنہ دنیا بھر کو ہاتھ تمہارا لگتا ہے ذہن سے کاغذ پر ...

مزید پڑھیے

شہر سے باہر نکلتے راستے

سوچتا ہوں میں تمہارے زیر لب حرف سخن میں کوئی افسانہ ہے مضمر یا حقیقت یا فریب پختہ کاراں میں نظر رکھتا ہوں تم پر اور تمہاری آنکھ ہے پیہم تعاقب میں کسی اک اجنبی کے اجنبی جو خود ہراساں اور پریشاں حال ہے دوسری جانب سڑک پر دیر سے اک اور شخص جھوٹ کو سچ کہہ کے جو اعلان کرتا پھر رہا ہے دل ...

مزید پڑھیے

کتنے بھی غم زدہ ہوں مگر مسکرائیں گے

کتنے بھی غم زدہ ہوں مگر مسکرائیں گے وعدہ جو کر لیا ہے کہ آنسو نہ آئیں گے وہ ہیں وہاں جہاں سے پلٹنا محال ہے پھر بھی یہ لگ رہا ہے کہ وہ لوٹ آئیں گے کتنے دنوں کے بعد ہمیں نیند آئی ہے آہستہ بات کیجیے ہم جاگ جائیں گے

مزید پڑھیے

بس وہی وہ دکھائی دیتے ہیں

بس وہی وہ دکھائی دیتے ہیں ایک کے دو دکھائی دیتے ہیں جتنے ہرجائی ہم نے دیکھے ہیں اتنے کس کو دکھائی دیتے ہیں وہ یہاں ہیں نہیں پتہ ہے ہمیں پھر بھی ہم کو دکھائی دیتے ہیں دل کو بہلانا ہی تو مقصد ہے فرض کر لو دکھائی دیتے ہیں جیسے ہم تم کو صاف دیکھتے ہیں ویسے تم کو دکھائی دیتے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 421 سے 6203