بس گئی ہے رگ رگ میں بام و در کی خاموشی

بس گئی ہے رگ رگ میں بام و در کی خاموشی
چیرتی سی جاتی ہے مجھ کو گھر کی خاموشی


صبح کے ابھرنے سے شام کے اترنے تک
کتنی جان لیوا ہے دوپہر کی خاموشی


چل رہی تھی جب میرے گھر کے جلنے کی تفتیش
دیکھنے کے قابل تھی شہر بھر کی خاموشی


کاٹ لی ہیں تم نے تو ٹہنیاں سبھی لیکن
سن سکو جو کہتی ہے چپ شجر کی خاموشی


توڑ بھی دو چپی کو روٹھنے کو تج ڈالو
ہو گئی ہے پربت سی بات بھر کی خاموشی


پڑ گئی ہے عادت اب ساتھ تیرے چلنے کی
بن ترے کٹے کیسے یہ سفر کی خاموشی