قومی زبان

جہاں خراب سہی ہم بدن دریدہ سہی

جہاں خراب سہی ہم بدن دریدہ سہی تری تلاش میں نکلے ہیں پا بریدہ سہی جہان شعر میں میری کئی ریاستیں ہیں میں اپنے شہر میں گمنام و ناشنیدہ سہی بھلے ہی چھاؤں نہ دے آسرا تو دیتا ہے یہ آرزو کا شجر ہے خزاں رسیدہ سہی انہی بجھی ہوئی آنکھوں میں خواب اتریں گے یقیں نہ چھوڑ یہ بیمار و شب گزیدہ ...

مزید پڑھیے

بس تیرے لیے اداس آنکھیں

بس تیرے لیے اداس آنکھیں اف مصلحت نا شناس آنکھیں بے نور ہوئی ہیں دھیرے دھیرے آئیں نہیں مجھ کو راس آنکھیں آخر کو گیا وہ کاش رکتا کرتی رہیں التماس آنکھیں خوابیدہ حقیقتوں کی ماری پامال اور بدحواس آنکھیں درپیش جنوں کا مرحلہ اور فاقہ ہے بدن تو پیاس آنکھیں

مزید پڑھیے

حسن کے زیر بار ہو کہ نہ ہو

حسن کے زیر بار ہو کہ نہ ہو اب یہ دل بے قرار ہو کہ نہ ہو مرگ انبوہ دیکھ آتے ہیں آنکھ پھر اشکبار ہو کہ نہ ہو کرب پیہم سے ہو گیا پتھر اب یہ سینہ فگار ہو کہ نہ ہو پھر یہی رت ہو عین ممکن ہے پر ترا انتظار ہو کہ نہ ہو شاخ زیتون کے امیں ہیں ہم شہر میں انتشار ہو کہ نہ ہو شعر میرے سنبھال کر ...

مزید پڑھیے

کبھی گمان کبھی اعتبار بن کے رہا

کبھی گمان کبھی اعتبار بن کے رہا دیار چشم میں وہ انتظار بن کے رہا ہزار خواب مری ملکیت میں شامل تھے میں تیرے عشق میں سرمایہ دار بن کے رہا تمام عمر اسے چاہنا نہ تھا ممکن کبھی کبھی تو وہ اس دل پہ بار بن کے رہا اسی کے نام کروں میں تمام عہد خیال درون جاں جو مرے سوگوار بن کے رہا اگرچہ ...

مزید پڑھیے

ہوا کرے گا ہر اک لفظ مشکبار اپنا

ہوا کرے گا ہر اک لفظ مشکبار اپنا ابھی سکوں سے کیے جاؤ انتظار اپنا اٹھا لیا ہے حلف گرچہ جاں نثاری کا مجھے سنبھال کہ ہوتا ہوں بار بار اپنا اداس آنکھ کو ہے انتظار فصل مراد کبھی تو موسم جاں ہوگا سازگار اپنا تمہارے در سے اٹھائے گئے ملال نہیں وہاں تو چھوڑ کے آئے ہیں ہم غبار ...

مزید پڑھیے

ہو نوشتہ یہ بھی جیسے کاتب تقدیر کا

ہو نوشتہ یہ بھی جیسے کاتب تقدیر کا کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا حلقۂ اہل زباں میں خوش ہوں میں یہ دیکھ کر منفرد لہجہ ہے میرے دوست کی تقریر کا تا ابد سمجھے نہ جس کو ابن آدم کا دماغ جز کوئی ایسا نہ ہو یا رب تری تحریر کا ہے تصور پاس جس کے سیر عالم کے لئے کیا اثر ہو اس کے پاؤں پر ...

مزید پڑھیے

دریچہ ہو کہ در الجھا ہوا ہے

دریچہ ہو کہ در الجھا ہوا ہے مرا تو گھر کا گھر الجھا ہوا ہے بدن کے پیچ و خم تو جھیل لیتے قیامت ہے کہ سر الجھا ہوا بڑی سیدھی ہے چاہت منزلوں کی مگر ذوق سفر الجھا ہوا ہے نہ جانے کیا ہوا ہے آدمی کو جدھر دیکھو ادھر الجھا ہوا ہے کنولؔ کٹتا ہے میرا وقت جس میں وہ دفتر بیشتر الجھا ہوا ...

مزید پڑھیے

گھر نہیں رہ گزر میں رہتا ہے

گھر نہیں رہ گزر میں رہتا ہے پاؤں میرا سفر میں رہتا ہے وہ چلا جائے تو بھی پہروں تک اس کا چہرہ نظر میں رہتا ہے جا چکا ہے جو بزم ہستی سے وہ بھی دیوار و در میں رہتا ہے چارہ گر کا کرم تو ہے پھر بھی درد ہی درد سر میں رہتا ہے جس نے تشکیل کی ہے میری کنولؔ میرے قلب و جگر میں رہتا ہے

مزید پڑھیے

پہلے احباب کی کہانی لکھ

پہلے احباب کی کہانی لکھ پھر ہر اک لفظ کے معانی لکھ کیوں ترے اپنے غم گساروں سے زخم خوردہ ہے زندگانی لکھ خوبیاں لکھ شراب کی لیکن روح افزا ہے صرف پانی لکھ دیکھ کر بحر و بر کے ہنگامے کوئی دلچسپ سی کہانی لکھ دل کے صحرا میں گرم اشکوں سے کیسے ہوتی ہے باغبانی لکھ حرف اول سے لکھ کے ...

مزید پڑھیے

شب وہی لیکن نظارا اور ہے

شب وہی لیکن نظارا اور ہے روشنی کم ہے ستارا اور ہے کشتیاں تو ایک جیسی ہیں تمام ہیں الگ دریا کنارا اور ہے اس طرف لہروں کا منظر ہے الگ اس طرف پانی کا دھارا اور ہے مشترک ہیں منزلیں لیکن سفر ہے جدا ان کا ہمارا اور ہے پہلے کہتے تھے صنم کو ماہتاب عہد نو کا استعارا اور ہے روح کے دم سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4126 سے 6203