اب زندگی کا کوئی سہارا نہیں رہا
اب زندگی کا کوئی سہارا نہیں رہا سب غیر ہیں کوئی بھی ہمارا نہیں رہا اغیار کی نظر میں رہے مثل خار ہم اب جینا جاگنا بھی ہمارا نہیں رہا صوبائی عصبیت نے کھلائے کچھ ایسے گل اب بھائی بھائی کا بھی سہارا نہیں رہا اب تو ہماری ناؤ ہے طغیانیوں کے بیچ نزدیک و دور کوئی کنارا نہیں رہا خون ...