قومی زبان

اب زندگی کا کوئی سہارا نہیں رہا

اب زندگی کا کوئی سہارا نہیں رہا سب غیر ہیں کوئی بھی ہمارا نہیں رہا اغیار کی نظر میں رہے مثل خار ہم اب جینا جاگنا بھی ہمارا نہیں رہا صوبائی عصبیت نے کھلائے کچھ ایسے گل اب بھائی بھائی کا بھی سہارا نہیں رہا اب تو ہماری ناؤ ہے طغیانیوں کے بیچ نزدیک و دور کوئی کنارا نہیں رہا خون ...

مزید پڑھیے

ایسی تحریر جو آنسو کی جھڑی ثابت ہو

ایسی تحریر جو آنسو کی جھڑی ثابت ہو پھر توقع کہ محبت بھی کڑی ثابت ہو کیوں بچھاتے ہو مری راہ میں لفظی کانٹے دو وہ پیغام جو موتی کی لڑی ثابت ہو تیری شمشیر کا شاخ گل الفت پہ ہو وار کیسے ممکن کہ وہ پھولوں کی چھڑی ثابت ہو بے نیازی تری بڑھتی ہی رہی روز و شب تیری فرقت میں کوئی اچھی گھڑی ...

مزید پڑھیے

غیروں کی بستیوں میں رہنے کو آ رہے ہیں

غیروں کی بستیوں میں رہنے کو آ رہے ہیں اس دل کو چھوڑ کر ہم دنیا بنا رہے ہیں سکھیاں سہیلیاں وہ گزرا جہاں لڑکپن بیٹھے بٹھائے اب کیوں سب یاد آ رہے ہیں روزی کی جستجو میں اپنوں کو چھوڑ چلنا ماضی کے سارے منظر آنکھوں پہ چھا رہے ہیں روکا تھا سب نے ہم کو لیکن نہ رک سکے ہم اب اجنبی زمیں کے ...

مزید پڑھیے

نہ فکر کرنا ہمارے دل کی نہ اس جنوں کا ملال رکھنا

نہ فکر کرنا ہمارے دل کی نہ اس جنوں کا ملال رکھنا یہ التجا ہے ہماری تم سے تم اپنے دل کو سنبھال رکھنا وہ شام غم جو گزاری ہم نے کوئی گزارے تو جان پائے کٹھن ہے کتنا ہے کیسا مشکل اٹھا کے ماضی میں حال رکھنا کوئی صحیفہ سمجھ کے رکھا تمہارے خط کو چھپا کے دل میں مری محبت کو اپنے دل میں ...

مزید پڑھیے

سورج کو کیا پتہ ہے کدھر دھوپ چاہئے

سورج کو کیا پتہ ہے کدھر دھوپ چاہئے آنگن بڑا ہے اپنے بھی گھر دھوپ چاہئے آئینے ٹوٹ ٹوٹ کے بکھرے ہیں چار سو ڈھونڈیں گے عکس عکس مگر دھوپ چاہئے بھیگے ہوئے پروں سے تو اڑنے نہ پائیں گے کاٹوں نہ ان پرندوں کے پر دھوپ چاہئے ہم سے دریدہ پیرہن و جاں کے واسطے یاقوت چاہئے نہ گہر دھوپ ...

مزید پڑھیے

آنکھ کی پتلی میں سورج سر میں کچھ سودا اگا

آنکھ کی پتلی میں سورج سر میں کچھ سودا اگا پانیوں میں سرخ پودے دھوپ میں سایا اگا آسماں کی بھیڑ میں تو اس لیے سوچا گیا اس زمیں کی چھاتیوں سے نور کا چشمہ اگا نیند میں چلنے کی عادت خواب میں لکھنے کا فن ایک جیسی بات ہے تو آتش نغمہ اگا میں نے اپنی دونوں آنکھوں میں اگائے ہیں پہاڑ تیری ...

مزید پڑھیے

بارش ہوگی تو بارش میں دونوں مل کر بھیگیں گے

بارش ہوگی تو بارش میں دونوں مل کر بھیگیں گے ریت پہ ایک مسافر کا گھر اور سمندر بھیگیں گے اچھا میں ہارا تم جیتے آگے کی اک بات سنو اب کے برس جب بارش ہوگی سوچ سمجھ کر بھیگیں گے دھوپ کا اک ٹکڑا کیوں میرے سر پر سایہ کرتا ہے کیا مجھ کو منظر سے ہٹا کر سارے منظر بھیگیں گے کاغذ کی اک کشتی ...

مزید پڑھیے

تمہارا رنگ رنگ آسماں جیسا بدلتا ہے

تمہارا رنگ رنگ آسماں جیسا بدلتا ہے کسی کو چاہنے والا کہیں اتنا بدلتا ہے صبا شبنم شفق رخسار گل مہتاب ان سب کا تمہارا نام لیتا ہوں تو کیوں چہرہ بدلتا ہے صبا گفتار شیریں لب ستارہ چشم ہیں تو کیا بدلتے ہم بھی ہیں جب سامنے والا بدلتا ہے کبھی جاتی نہیں جنگل کی بو صندل کے پیکر سے کہ ...

مزید پڑھیے

جزیرے ہوں کہ وہ صحرا ہوں خواب ہونا ہے

جزیرے ہوں کہ وہ صحرا ہوں خواب ہونا ہے سمندروں کو کسی دن سراب ہونا ہے سوال پوچھنے والو تمہیں بھی آخر کار رہین منت بار جواب ہونا ہے کھنڈر میں بیٹھ کے رونے کی خو نہیں جاتی تمہاری آنکھ پہ شاید عذاب ہونا ہے وہ ظلمتیں جو اجالوں کے گھر میں رہتی ہیں انہیں بھی مثل سحر بے نقاب ہونا ...

مزید پڑھیے

نصیبہ جاگ اٹھا اور مقدر بن گیا اپنا

نصیبہ جاگ اٹھا اور مقدر بن گیا اپنا جہاں دیوار ہے اس کی وہیں گھر بن گیا اپنا نہ جانے دھوپ نے اپنی زباں میں کیا کہہ اس سے شجر کے جسم سے سایہ نکل کر بن گیا اپنا ہماری آنکھ سے نیندوں کا رشتہ توڑنے والے کوئی تجھ سے سوا خوش رنگ پیکر بن گیا اپنا ہمارا سر سلامت ہی رہا سنگ حوادث میں جو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4124 سے 6203