قومی زبان

بڑھا جب اس کی توجہ کا سلسلہ کچھ اور

بڑھا جب اس کی توجہ کا سلسلہ کچھ اور خوشی سے پھیل گیا غم کا دائرہ کچھ اور نتیجہ دیکھ کے مانا مرے مسیحا نے کچھ اور درد تھا میرا ہوئی دوا کچھ اور میں اپنے آپ کو کس آئینے میں پہچانوں کہ ایک عکس مرا کچھ ہے دوسرا کچھ اور اگر کہیں کوئی دیوار سامنے آئی بلند ہو گیا پانی کا حوصلہ کچھ ...

مزید پڑھیے

حصار جسم مرا توڑ پھوڑ ڈالے گا

حصار جسم مرا توڑ پھوڑ ڈالے گا ضرور کوئی مجھے قید سے چھڑا لے گا بنا کے جس نے مجھے شاہکار پیش کیا ہزار خامیاں مجھ میں وہی نکالے گا میں اپنی جان ہتھیلی پہ رکھ کے چلتا ہوں کوئی بہت سے بہت مجھ سے اور کیا لے گا رکے ہوئے ہیں کئی کارواں لب دریا کہ جیسے آگے کوئی راستہ نکالے گا اک اجنبی ...

مزید پڑھیے

مری صفات کا جب اس نے اعتراف کیا

مری صفات کا جب اس نے اعتراف کیا بجائے چہرہ کے آئینہ میں نے صاف کیا چھپا تھا ہیرا کوئی راستے کے پتھر میں ہماری ٹھوکروں نے اس کا انکشاف کیا موافقت میں چلی تھی مرے سفینے کی ہوا نے بیچ سمندر میں اختلاف کیا گہر بنا کے صدف نے اسے نکالا ہے کبھی جو بوند نے دریا سے انحراف کیا زمین ...

مزید پڑھیے

راہ سے مجھ کو ہٹا کر لے گیا

راہ سے مجھ کو ہٹا کر لے گیا جان کا خطرہ بتا کر لے گیا کٹ مرا اک شخص اپنی آن پر اور اپنا سر اٹھا کر لے گیا ایک دن دریا مکانوں میں گھسا اور دیواریں اٹھا کر لے گیا ہاتھ سورج کے نہ جب آئی ندی آگ پانی میں لگا کر لے گیا اڑتی چنگاری کو جگنو جان کر طفل دامن میں چھپا کر لے گیا مدتوں ...

مزید پڑھیے

ملی راہ وہ کہ فرار کا نہ پتہ چلا

ملی راہ وہ کہ فرار کا نہ پتہ چلا اڑا سنگ سے تو شرار کا نہ پتہ چلا جو کھنچے کھنچے مجھے لگ رہے تھے یہاں وہاں کسی ایک ایسے حصار کا نہ پتہ چلا رہا جاتے جاتے نہ دیکھ سکنے کا غم ہمیں وہ غبار اٹھا کہ سوار کا نہ پتہ چلا رہی ہجر میں جو اک ایک پل کی خبر مجھے تو وصال میں شب تار کا نہ پتہ ...

مزید پڑھیے

جو مجھ پہ بھاری ہوئی ایک رات اچھی طرح

جو مجھ پہ بھاری ہوئی ایک رات اچھی طرح تو پھر گزر بھی گئے سانحات اچھی طرح میں بار بار گرایا گیا بلندی سے مجھے تو ہو گیا حاصل ثبات اچھی طرح کتاب سا مرا چہرہ تری نگاہ میں ہے بیان کر مری ذات و صفات اچھی طرح تو اپنے سینے سے مجھ کو یوں ہی لگائے رکھ سمجھ لوں تاکہ ترے دل کی بات اچھی ...

مزید پڑھیے

کہیں کہیں سے پر اسرار ہو لیا جائے

کہیں کہیں سے پر اسرار ہو لیا جائے کہ اپنے حق میں بھی ہموار ہو لیا جائے وہ جس نے زخم لگائے رکھے گا مرہم بھی اسی کا دل سے طرف دار ہو لیا جائے یہی ہے نیند کا منشا کہ خواب غفلت سے صحیح وقت پہ بیدار ہو لیا جائے گرہ کشائی موج نفس بہانہ ہے کہ اس بہانے سے اس پار ہو لیا جائے کسی کی راہ ...

مزید پڑھیے

ٹھہر ٹھہر کے مرا انتظار کرتا چل

ٹھہر ٹھہر کے مرا انتظار کرتا چل یہ سخت راہ بھی اب اختیار کرتا چل سفر کی رات ہے ہر گام احتیاط برت پلٹ پلٹ کے اندھیروں پہ وار کرتا چل لیے جا کام تو اپنی فراخ دستی سے قدم قدم پہ مجھے زیر بار کرتا چل ادھر ادھر جو کھڑے ہو گئے ہیں تیرے لیے انہیں بھی اپنے سفر میں شمار کرتا چل کسی ...

مزید پڑھیے

صدا وہ دیتا بھی ہوگا تو کیا خبر مجھ کو

صدا وہ دیتا بھی ہوگا تو کیا خبر مجھ کو جو سننے دے یہ مشینوں کا شور و شر مجھ کو عجیب دشت ہوں میں بھی کہ ایک اک ذرہ اڑائے پھرتا ہے مدت سے در بدر مجھ کو ہر اک سے پوچھتا پھرتا ہے میرا نام و نشاں گزر گیا تھا کبھی سہل جان کر مجھ کو ہوا وہ دور سے دیتا ہے اپنے دامن کو قریب آتا نہیں جان کر ...

مزید پڑھیے

موجودگی کا اس کی اثر ہونے لگا ہے

موجودگی کا اس کی اثر ہونے لگا ہے سب اس کے سوا محو نظر ہونے لگا ہے اطراف مرے خاک اڑا کرتی ہے اکثر طے اب مری جانب بھی سفر ہونے لگا ہے پرکھوں سے چلی آتی ہے یہ نقل مکانی اب مجھ سے بھی خالی مرا گھر ہونے لگا ہے جلدی سے میں اب اس کی طرف رخ نہیں کرتا آئینہ مرا سینہ سپر ہونے لگا ہے ترتیب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4072 سے 6203