قومی زبان

ظاہر مسافروں کا ہنر ہو نہیں رہا

ظاہر مسافروں کا ہنر ہو نہیں رہا چل بھی رہے ہیں اور سفر ہو نہیں رہا کیا حشر ہے کہ بارش نیساں کے باوجود پیدا کسی صدف میں گہر ہو نہیں رہا صبح وصال کب سے نمودار ہو چکی ناپید شام ہجر کا ڈر ہو نہیں رہا قائل تمام شہر ترے اعتبار کا ہونا تو چاہئے تھا مگر ہو نہیں رہا بیٹھے ہوئے ہیں دیر ...

مزید پڑھیے

آئینے کا منہ بھی حیرت سے کھلا رہ جائے گا

آئینے کا منہ بھی حیرت سے کھلا رہ جائے گا جو بھی دیکھے گا تجھے وہ دیکھتا رہ جائے گا ہم نے سب کچھ تج دیا تیری رفاقت کے لیے تجھ سے بچھڑے تو ہمارے پاس کیا رہ جائے گا مل سکیں گے کس طرح خوابوں میں ہم جب ہجر سے نیند ہو جائے گی رخصت رتجگا رہ جائے گا ہم اگر تیری رضا حاصل نہیں کر پائیں ...

مزید پڑھیے

ہم شاد ہوں کیا جب تک آزار سلامت ہے

ہم شاد ہوں کیا جب تک آزار سلامت ہے سر پھوڑ چکے پھر بھی دیوار سلامت ہے آیا ترے ہونٹوں پر اعلان جنوں کیوں کر جب تیرے گریباں کا ہر تار سلامت ہے انداز دکھائے ہیں کیا شوخئ طفلاں نے اس شہر میں اب کس کی دیوار سلامت ہے لٹتا ہے تو لٹ جائے سکھ چین فقیروں کا کیا فکر تجھے تیرا پندار سلامت ...

مزید پڑھیے

رضا

خودی کو لے گئے کچھ آدمی اتنی بلندی پر تکبر میں لگے کہنے مقام کبریا کیا ہے اب ایسی صورت حالات میں کیسے یہ ہے ممکن خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

مزید پڑھیے

فال

کلام شاعر مشرق سے فال اک روز لی میں نے ہوا دشوار جب جینا کرائے کے مکانوں میں کہاں جاؤں کروں کیا جب یہ پوچھا تو جواب آیا تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں

مزید پڑھیے

عقابی روح

ادھر جھپٹے ادھر پلٹے اسے جکڑا اسے پکڑا لہو کو گرم رکھنے کے بہانے ہیں اڑانوں میں ہر اک لڑکی نظر آتی ہے ان کو فاختہ جیسی عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں

مزید پڑھیے

ابر پارہ ہوں کوئی دم میں چلا جاؤں گا

ابر پارہ ہوں کوئی دم میں چلا جاؤں گا نقش بر آب ہوں لہروں میں سما جاؤں گا دھار پر اپنے تعقل کو چڑھا جاؤں گا رسم آزادیٔ افکار اٹھا جاؤں گا یہ عقائد ہیں چھلاوے انہیں افشا کر دے معنیٔ سیمیا دنیا کو بتا جاؤں گا سر میں سودوں کے بنا کرتا ہوں تانے بانے اہل تدبیر کو چکر میں پھنسا جاؤں ...

مزید پڑھیے

ڈگمگاتا لڑکھڑاتا جھومتا جاتا ہوں میں

ڈگمگاتا لڑکھڑاتا جھومتا جاتا ہوں میں تجھ تک اے باب فنا سینے کے بل آتا ہوں میں شہر کی باریکیوں میں پھنس گیا ہوں اس طرح چین کی اک سانس کی مہلت نہیں پاتا ہوں میں جب بھی ریگستانوں میں جانے کا ہوتا اتفاق گھٹنے گھٹنے ذات کی پرتوں میں دھنس جاتا ہوں میں چل کے باغ‌ سیب میں اوراق‌ ...

مزید پڑھیے

کیا بتائیں آپ سے کیا ہستیٔ انسان ہے

کیا بتائیں آپ سے کیا ہستیٔ انسان ہے آدمی جذبات‌ و احساسات کا طوفان ہے اشتراکیت مرا دین اور مرا ایمان ہے کاش موٹر لے سکوں میں یہ مرا ارمان ہے آہ اس دانش کدے میں کس قدر ہے قحط حسن جب سے آیا ہوں یہاں بزم نظر ویران ہے یہ کتابیں ہر طرف ہوں یا بتان منتخب برگزیدہ ہستیوں کا ایک ہی ...

مزید پڑھیے

پھرتا ہوں میں گھاٹی گھاٹی صحرا صحرا تنہا تنہا

پھرتا ہوں میں گھاٹی گھاٹی صحرا صحرا تنہا تنہا بادل کا آوارہ ٹکڑا کھویا کھویا تنہا تنہا پچھم دیس کے فرزانوں نے نصف جہاں سے شہر بسائے ان میں پیر بزرگ ارسطو بیٹھا رہتا تنہا تنہا کتنا بھیڑ بھڑکا جگ میں کتنا شور شرابہ لیکن بستی بستی کوچہ کوچہ چپا چپا تنہا تنہا سیر کرو باطن میں اس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4066 سے 6203