ظاہر مسافروں کا ہنر ہو نہیں رہا
ظاہر مسافروں کا ہنر ہو نہیں رہا چل بھی رہے ہیں اور سفر ہو نہیں رہا کیا حشر ہے کہ بارش نیساں کے باوجود پیدا کسی صدف میں گہر ہو نہیں رہا صبح وصال کب سے نمودار ہو چکی ناپید شام ہجر کا ڈر ہو نہیں رہا قائل تمام شہر ترے اعتبار کا ہونا تو چاہئے تھا مگر ہو نہیں رہا بیٹھے ہوئے ہیں دیر ...