قومی زبان

ہاتھ میں ہے اک پرانی ڈائری

ہاتھ میں ہے اک پرانی ڈائری کھولنے بیٹھا ہوں گرہیں یاد کی اس سے وعدہ ہے ملیں گے شام کو شام کتنی دیر کے بعد آئے گی ہم نے سوچا تھا چلیں گے سیر کو راستوں نے پھر سفیدی اوڑھ لی گرم کمروں سے نکلتا کون ہے محفلیں اجڑی ہوئی ہیں شہر کی چبھ رہی ہے میری آنکھوں میں بہت چار سو پھیلی ہوئی بے ...

مزید پڑھیے

نوید آمد فصل بہار بھی تو نہیں

نوید آمد فصل بہار بھی تو نہیں یہ بے دلی ہے کہ اب انتظار بھی تو نہیں جو بھول جائے کوئی شغل جام و مینا میں غم حبیب غم روزگار بھی تو نہیں مریض بادۂ عشرت یہ اک جہاں کیوں ہے سرور بادہ بقدر خمار بھی تو نہیں متاع صبر و سکوں جس نے دل سے چھین لیا وہ دل نواز ادا آشکار بھی تو نہیں قفس میں ...

مزید پڑھیے

فیض پہنچے ہیں جو بہاروں سے

فیض پہنچے ہیں جو بہاروں سے پوچھتے کیا ہو دل نگاروں سے آشیاں تو جلا مگر ہم کو کھیلنا آ گیا شراروں سے کیا ہوا یہ کہ خوں میں ڈوبی ہوئی لپٹیں آتی ہیں لالہ زاروں سے ان میں ہوتے ہیں قافلے پنہاں دل شکستہ نہ ہو غباروں سے ہے یہاں کوئی حوصلے والا کچھ پیام آئے ہیں ستاروں سے ہم سے مہر و ...

مزید پڑھیے

یہ غم نہیں ہے کہ اب آہ نارسا بھی نہیں

یہ غم نہیں ہے کہ اب آہ نارسا بھی نہیں یہ کیا ہوا کہ مرے لب پہ التجا بھی نہیں ستم ہے اب بھی امید وفا پہ جیتا ہے وہ کم نصیب کہ شائستۂ جفا بھی نہیں نگاہ ناز عبارت ہے زندگی جس سے شریک درد تو کیا درد آشنا بھی نہیں سمجھ رہا ہوں امانت متاع صبر کو میں اگرچہ اب نگہ صبر آزما بھی نہیں وہ ...

مزید پڑھیے

خزاں نصیب کی حسرت بروئے کار نہ ہو

خزاں نصیب کی حسرت بروئے کار نہ ہو بہار شعبدۂ چشم انتظار نہ ہو فریب خوردۂ الفت سے پوچھئے کیا ہے وہ ایک عہد محبت کہ استوار نہ ہو نظر کو تاب نظارہ نہ دل کو جرأت دید جمال یار سے یوں کوئی شرمسار نہ ہو قبا دریدہ و دامان و آستیں خونیں گلوں کے بھیس میں یہ کوئی دل فگار نہ ہو نہ ہو سکے ...

مزید پڑھیے

ان نگاہوں کو عجب طرز کلام آتا ہے

ان نگاہوں کو عجب طرز کلام آتا ہے ایسا لگتا ہے بہاروں کا پیام آتا ہے مرحلہ ہوتا ہے جب دار و رسن کا درپیش قرعۂ فال ہم ایسوں ہی کے نام آتا ہے اے مرے ناصح مشفق کبھی یہ بھی سوچا کون دنیا میں خوشی سے تہہ دام آتا ہے بادہ نوشی میں بھی ہے کیف سکوں بخش مگر ہائے وہ کیف جو بے منت جام آتا ...

مزید پڑھیے

اور اے چشم طرب بادۂ گلفام ابھی

اور اے چشم طرب بادۂ گلفام ابھی دل ہے بیگانۂ اندیشۂ انجام ابھی بادہ و ساقی و مطرب کا نہ لو نام ابھی گرد آلود ہے آئینۂ ایام ابھی دل ہے مجروح پر و بال شکستہ ہمدم دام سے چھوٹ کے بھی ہوں میں تہہ دام ابھی معنی و مقصد ہستی کا سمجھنا معلوم عقل ہے صرف پرستارئ اوہام ابھی عشرت جلوۂ بیباک ...

مزید پڑھیے

کچھ بھی دشوار نہیں عزم جواں کے آگے

کچھ بھی دشوار نہیں عزم جواں کے آگے آشیاں بنتے گئے برق تپاں کے آگے زندگی نغمۂ دلکش ہے مگر اے ناداں تو نے سیکھا ہی نہیں آہ و فغاں کے آگے قصۂ بزم طرب تذکرۂ موسم گل خوب ہیں یوں تو مگر سوختہ جاں کے آگے ہم ہیں اور فصل خزاں فصل خزاں ہے اور ہم ہم سے کیا پوچھتے ہو فصل خزاں کے آگے دسترس ...

مزید پڑھیے

نہ بیتابی نہ آشفتہ سری ہے

نہ بیتابی نہ آشفتہ سری ہے ہماری زندگی کیا زندگی ہے فریب آرزو کھائیں تو کیوں کر تغافل ہے نہ بیگانہ وشی ہے فروغ عشق ہے محرومیوں سے وفا کیشی بہ قدر نا رسی ہے مرے قصر تمنا کی نگہباں نگاہ ناز کی بیگانگی ہے محبت کے سوا جادہ نہ منزل محبت کے سوا سب گمرہی ہے محبت میں شکایت کیا گلہ ...

مزید پڑھیے

مجھ کو دماغ شیون و آہ و فغاں نہیں

مجھ کو دماغ شیون و آہ و فغاں نہیں اک آتش خموش ہوں جس میں دھواں نہیں کس سادگی سے کہتے ہو ہم رازداں نہیں وہ کون سا ہے راز جو تم پر عیاں نہیں وہ دشمن سکون دل و جاں یہی نہ ہو معصوم سی نگاہ کہ جس پر گماں نہیں ہے آگ سی لگی ہوئی رگ رگ میں کیا کہوں اک چشم انتظار ہی یاں خونچکاں نہیں یوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4052 سے 6203