قومی زبان

پتھر میں فن کے پھول کھلا کر چلا گیا

پتھر میں فن کے پھول کھلا کر چلا گیا کیسے امٹ نقوش کوئی چھوڑتا گیا سمٹا ترا خیال تو گل رنگ اشک تھا پھیلا تو مثل دشت وفا پھیلتا گیا سوچوں کی گونج تھی کہ قیامت کی گونج تھی تیرا سکوت حشر کے منظر دکھا گیا یا تیری آرزو مجھے لے آئی اس طرف یا میرا شوق راہ میں صحرا بچھا گیا وہ جس کو ...

مزید پڑھیے

اک درد سا پہلو میں مچلتا ہے سر شام

اک درد سا پہلو میں مچلتا ہے سر شام جب چاند جھروکے میں نکلتا ہے سر شام بے نام سی اک آگ دہک اٹھتی ہے دل میں مہتاب جو ٹھنڈک سی اگلتا ہے سر شام کچھ دیر شفق پھولتی ہے جیسے افق پر ایسے ہی مرا حال سنبھلتا ہے سر شام یہ دل ہے مرا یا کسی کٹیا کا دیا ہے بجھتا ہے دم صبح تو جلتا ہے سر شام بنتا ...

مزید پڑھیے

لفظ سے جب نہ اٹھا بار خیال

لفظ سے جب نہ اٹھا بار خیال کیسے کیسے کیا اظہار خیال دل میں جب درد کی قندیل جلی تمتمانے لگے رخسار خیال روح کے زخم نہ مرجھائیں کبھی تا ابد مہکے چمن زار خیال غم پہ موقوف ہے تاثیر بیاں غم سے ہے رونق‌ بازار خیال راکب‌ فہم ہے بے بس تائبؔ اور منہ زور ہے رہوار خیال

مزید پڑھیے

اک نیا کرب مرے دل میں جنم لیتا ہے

اک نیا کرب مرے دل میں جنم لیتا ہے قافلہ درد کا کچھ دیر جو دم لیتا ہے رنگ پاتا ہے مرے خون جگر سے گل شعر سبزۂ فکر مری آنکھ سے نم لیتا ہے آبرو حق و صداقت کی بڑھا دیتا ہے جب بھی سقراط کوئی ساغر سم لیتا ہے رات کے سائے میں شبنم کے گہر ڈھلتے ہیں رات کی کوکھ سے خورشید جنم لیتا ہے ذہن بے ...

مزید پڑھیے

دل بے مدعا ہے اور میں ہوں

دل بے مدعا ہے اور میں ہوں مگر لب پر دعا ہے اور میں ہوں نہ ساقی ہے نہ اب وہ شے ہے باقی مرا دور آ گیا ہے اور میں ہوں ادھر دنیا ہے اور دنیا کے بندے ادھر میرا خدا ہے اور میں ہوں کوئی پرساں نہیں پیر مغاں کا فقط میری وفا ہے اور میں ہوں ابھی میعاد باقی ہے ستم کی محبت کی سزا ہے اور میں ...

مزید پڑھیے

او دل توڑ کے جانے والے دل کی بات بتاتا جا

او دل توڑ کے جانے والے دل کی بات بتاتا جا اب میں دل کو کیا سمجھاؤں مجھ کو بھی سمجھاتا جا ہاں میرے مجروح تبسم خشک لبوں تک آتا جا پھول کی ہست و بود یہی ہے کھلتا جا مرجھاتا جا میری چپ رہنے کی عادت جس کارن بد نام ہوئی اب وہ حکایت عام ہوئی ہے سنتا جا شرماتا جا یہ دکھ درد کی برکھا بندے ...

مزید پڑھیے

کل ضرور آؤ گے لیکن آج کیا کروں

کل ضرور آؤ گے لیکن آج کیا کروں بڑھ رہا ہے قلب کا اختلاج کیا کروں کیا کروں کوئی نہیں احتیاج دوست کو اور مجھ کو دوست کی احتیاج کیا کروں اب وہ فکر مند ہیں کہہ دیا طبیب نے عشق ہے جنوں نہیں میں علاج کیا کروں غیرت رقیب کا شکوہ کر رہے ہو تم اس معاملے میں سخت ہے مزاج کیا کروں ماسوائے ...

مزید پڑھیے

ہم ہی میں تھی نہ کوئی بات یاد نہ تم کو آ سکے

ہم ہی میں تھی نہ کوئی بات یاد نہ تم کو آ سکے تم نے ہمیں بھلا دیا ہم نہ تمہیں بھلا سکے تم ہی نہ سن سکے اگر قصۂ غم سنے گا کون کس کی زباں کھلے گی پھر ہم نہ اگر سنا سکے ہوش میں آ چکے تھے ہم جوش میں آ چکے تھے ہم بزم کا رنگ دیکھ کر سر نہ مگر اٹھا سکے رونق بزم بن گئے لب پہ حکایتیں رہیں دل ...

مزید پڑھیے

ان کو جگر کی جستجو ان کی نظر کو کیا کروں

ان کو جگر کی جستجو ان کی نظر کو کیا کروں مجھ کو نظر کی آرزو اپنے جگر کو کیا کروں رات ہی رات میں تمام طے ہوئے عمر کے مقام ہو گئی زندگی کی شام اب میں سحر کو کیا کروں وحشت دل فزوں تو ہے حال مرا زبوں تو ہے عشق نہیں جنوں تو ہے اس کے اثر کو کیا کروں فرش سے مطمئن نہیں پست ہے نا پسند ہے عرش ...

مزید پڑھیے

یہ کیسے نمو کے سلسلے ہیں

یہ کیسے نمو کے سلسلے ہیں شاخوں پہ گلاب جل بجھے ہیں پھیلی ہے ستم کی آگ ہرسو ہر سمت الاؤ جل رہے ہیں ہر آنکھ سوال کر رہی ہے ہر دل میں ہزار وسوسے ہیں برسی ہیں بلائیں آسماں سے دھرتی پہ عذاب اگ رہے ہیں محفوظ نہیں پناہ گاہیں کیا عقل رسا کے معجزے ہیں بازار لہو کی وحشتوں کے تہذیب کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4051 سے 6203