قومی زبان

وفاداریاں سخت نادانیاں ہیں

وفاداریاں سخت نادانیاں ہیں کہ ان کے نتیجے پشیمانیاں ہیں پشیمانیاں ہیں گناہوں پہ لیکن بڑے ہی مزے کی پشیمانیاں ہیں مری زندگی پر تعجب نہیں تھا مری موت پر ان کو حیرانیاں ہیں محبت کرو اور نباہو تو پوچھوں یہ دشواریاں ہیں کہ آسانیاں ہیں ندامت ہوئی حشر میں جن کے بدلے جوانی کی دو ...

مزید پڑھیے

جوانی کے ترانے گا رہا ہوں

جوانی کے ترانے گا رہا ہوں دبی چنگاریاں سلگا رہا ہوں مری بزم وفا سے جانے والو ٹھہر جاؤ کہ میں بھی آ رہا ہوں بتوں کو قول دیتا ہوں وفا کا قسم اپنے خدا کی کھا رہا ہوں وفا کا لازمی تھا یہ نتیجہ سزا اپنے کیے کی پا رہا ہوں خدا لگتی کہو بت خانے والو تمہارے ساتھ میں کیسا رہا ہوں زہے وہ ...

مزید پڑھیے

ہے ازل کی اس غلط بخشی پہ حیرانی مجھے

ہے ازل کی اس غلط بخشی پہ حیرانی مجھے عشق لافانی ملا ہے زندگی فانی مجھے میں وہ بستی ہوں کہ یاد رفتگاں کے بھیس میں دیکھنے آتی ہے اب میری ہی ویرانی مجھے تھی یہی تمہید میرے ماتمی انجام کی پھول ہنستے ہیں تو ہوتی ہے پشیمانی مجھے حسن بے پردہ ہوا جاتا ہے یا رب کیا کروں اب تو کرنی ہی ...

مزید پڑھیے

نگاہ آرزو آموز کا چرچا نہ ہو جائے

نگاہ آرزو آموز کا چرچا نہ ہو جائے شرارت سادگی ہی میں کہیں رسوا نہ ہو جائے انہیں احساس تمکیں ہو کہیں ایسا نہ ہو جائے جو ہونا ہو ابھی اے جرأت رندانہ ہو جائے بظاہر سادگی سے مسکرا کر دیکھنے والو کوئی کم بخت ناواقف اگر دیوانہ ہو جائے بہت ہی خوب شے ہے اختیاری شان خودداری اگر معشوق ...

مزید پڑھیے

عشق میں چھیڑ ہوئی دیدۂ تر سے پہلے

عشق میں چھیڑ ہوئی دیدۂ تر سے پہلے غم کے بادل جو اٹھے تو یہیں پر سے پہلے اب جہنم میں لیے جاتی ہے دل کی گرمی آگ چمکی تھی یہ اللہ کے گھر سے پہلے ہاتھ رکھ رکھ کے وہ سینے پہ کسی کا کہنا دل سے درد اٹھتا ہے پہلے کہ جگر سے پہلے دل کو اب آنکھ کی منزل میں بٹھا رکھیں گے عشق گزرے گا اسی راہ ...

مزید پڑھیے

آنے والے جانے والے ہر زمانے کے لیے

آنے والے جانے والے ہر زمانے کے لیے آدمی مزدور ہے راہیں بنانے کے لیے زندگی فردوس گم گشتہ کو پا سکتی نہیں موت ہی آتی ہے یہ منزل دکھانے کے لیے میری پیشانی پہ اک سجدہ تو ہے لکھا ہوا یہ نہیں معلوم ہے کس آستانے کے لیے ان کا وعدہ اور مجھے اس پر یقیں اے ہم نشیں اک بہانہ ہے تڑپنے تلملانے ...

مزید پڑھیے

وہ درد عشق جس کو حاصل ایماں بھی کہتے ہیں

وہ درد عشق جس کو حاصل ایماں بھی کہتے ہیں سیہ بختوں میں اس کو گردش دوراں بھی کہتے ہیں جو آغوش حیا میں ایک دل آویز نشتر ہے اسی موج نظر کو گلشن خنداں بھی کہتے ہیں حجابات نظر جلووں کی بے باکی سے کیا اٹھیں محبت کی نظر کو دیدۂ حیراں بھی کہتے ہیں نہ کھلوائیں زباں اچھا یہی ہے حضرت ...

مزید پڑھیے

جبیں نواز کسی کی فسوں گری کیوں ہے

جبیں نواز کسی کی فسوں گری کیوں ہے سرشت حسن میں اس درجہ دل کشی کیوں ہے کسی کی سادہ جبیں کیوں بنی ہے سحر طراز کسی کی بات میں اعجاز عیسوی کیوں ہے کسی کی زلف معنبر میں کیوں ہے گیرائی فدائے گیسوئے مشکیں یہ زندگی کیوں ہے ترے شعار تغافل پہ زندگی قرباں ترے شعار تغافل میں دل کشی کیوں ...

مزید پڑھیے

شرر افشاں وہ شرر خو بھی نہیں

شرر افشاں وہ شرر خو بھی نہیں کوئی تارا کوئی جگنو بھی نہیں جانے طے منزل شب ہو کیسے دور تک نور کی خوشبو بھی نہیں ہم سا بے مایہ کوئی کیا ہوگا اپنی آنکھوں میں تو آنسو بھی نہیں جس بیاباں میں جنوں لایا ہے اس میں تو یاد کے آہو بھی نہیں جانے اس ضد کا نتیجہ کیا ہو مانتا دل بھی نہیں تو ...

مزید پڑھیے

وہ جو تیری طلب میں ایذا تھی

وہ جو تیری طلب میں ایذا تھی میرے ہر درد کا مداوا تھی میں تماشا تھا اک جہاں کے لئے اس پہ بھی حسرت تماشا تھی لاکھ راہیں تھیں وحشتوں کے لیے کس لیے بند راہ صحرا تھی میری رسوائی تھی مری توقیر میری تنہائی تھی میری ساتھی تج کے دنیا کو جب چلے تائبؔ ساتھ اک آرزو کی دنیا تھی

مزید پڑھیے
صفحہ 4050 سے 6203