قومی زبان

جھوٹ کا نتیجہ

احمد ببلو بابو سلمیٰ ایک جماعت کے یہ بچے اخلاقی گھنٹے میں دیکھو جمع ہوئے ہیں اک اک کر کے نظم و ضبط جماعت میں تھا اف نہیں کرتا تھا کوئی بچہ یہ جو کہانی کا تھا گھنٹہ سب کو شوق کہانی کا تھا دیکھو کلاس میں استاد آئے اٹھ کے کھڑے ہوئے سارے بچے سب نے کیا سلام اب ان کو بچے تھے سب من کے ...

مزید پڑھیے

عقل مند شکاری

گاؤں میں شیر کا اک شکاری بھی تھا کھاتا تھا دشت کی وہ ہمیشہ ہوا شیر کو اس نے قبضے میں اک دن کیا شام ہوتی گئی بڑھ گیا دھندلکا بکریوں کو بھی وہ پالتا تھا سدا گھاس بھی دشت سے ساتھ وہ لاتا تھا گھاس اور بکری بھی اس کے ہم راہ تھے شیر کے ساتھ دیکھو یہ دونوں چلے راہ میں ان کی پل ایک حائل ...

مزید پڑھیے

سفر اور مسافر

ہے کٹھن بچو یہ جیون کا سفر ہے نہایت پر خطر اک اک ڈگر راہبر کے بھیس میں ہیں راہزن اس سفر کی ہیں فضائیں پر فتن آندھیاں غم کی اٹھیں گی ہر قدم رکھنا اپنے حوصلوں کا تم بھرم غم کو سانچے میں خوشی کے ڈھالنا ہر بلا کو مسکرا کر ٹالنا کارواں کو بھی پرایا مانئے اس سفر میں خود کو تنہا ...

مزید پڑھیے

وصل کی شب تھی اور اجالے کر رکھے تھے

وصل کی شب تھی اور اجالے کر رکھے تھے جسم و جاں سب اس کے حوالے کر رکھے تھے جیسے یہ پہلا اور آخری میل ہوا ہو حال تو دونوں نے بے حالے کر رکھے تھے کھوج رہے تھے روح کو جسموں کے رستے سے طور طریقے پاگلوں والے کر رکھے تھے ہم سے نادانوں نے عشق کی برکت ہی سے کیسے کیسے کام نرالے کر رکھے ...

مزید پڑھیے

قدرت حق ہے صباحت سے تماشا ہے وہ رخ

قدرت حق ہے صباحت سے تماشا ہے وہ رخ خال مشکیں دل فرعوں ید بیضا ہے وہ رخ نور جو اس میں ہے خورشید میں وہ نور کہاں یہ اگر حسن کا چشمہ ہے تو دریا ہے وہ رخ پھوٹے وہ آنکھ جو دیکھے نگہ بد سے اسے آئینہ سے دل عارف کے مصفا ہے وہ رخ بزم عالم ہے توجہ سے اسی کے آباد شہر ویراں ہے اگر جانب صحرا ہے ...

مزید پڑھیے

طرہ اسے جو حسن دل آزار نے کیا

طرہ اسے جو حسن دل آزار نے کیا اندھیر گیسوئے سیہ یار نے کیا گل سے جو سامنا ترے رخسار نے کیا مژگاں نے وہ کیا کہ جو کچھ خار نے کیا ناز و ادا کو ترک مرے یار نے کیا غمزہ نیا یہ ترک ستم گار نے کیا افشاں سے کشتہ ابروئے خم دار نے کیا جوہر سے کام یار کی تلوار نے کیا قامت تری دلیل قیامت کی ...

مزید پڑھیے

رخ و زلف پر جان کھویا کیا

رخ و زلف پر جان کھویا کیا اندھیرے اجالے میں رویا کیا ہمیشہ لکھے وصف دندان یار قلم اپنا موتی پرویا کیا کہوں کیا ہوئی عمر کیوں کر بسر میں جاگا کیا بخت سویا کیا رہی سبز بے فکر کشت سخن نہ جوتا کیا میں نہ بویا کیا برہمن کو باتوں کی حسرت رہی خدا نے بتوں کو نہ گویا کیا مزا غم کے ...

مزید پڑھیے

جستہ جستہ موج طوفانی میں تھا

جستہ جستہ موج طوفانی میں تھا عکس اس کا ہم سفر پانی میں تھا کیا یہ مسجود ملائک ہے وہی خالق کونین حیرانی میں تھا تیغ پر جس کے تھا سورج کا لہو شام کو وہ مرثیہ خوانی میں تھا رخ پہ زلفوں کی گھٹا چھائی ہوئی چاند گویا نیم عریانی میں تھا تیرگی تھی بس چراغوں کے تلے اور گرد و پیش تابانی ...

مزید پڑھیے

واقعہ سچ ہی سہی ہم کہہ کے پچھتائے بہت

واقعہ سچ ہی سہی ہم کہہ کے پچھتائے بہت دوستوں نے پتھروں کے پھول برسائے بہت آنکھ اٹھا کے ہم نے دیکھا ہی نہیں خود کو کبھی گردش ایام نے آئینے دکھلائے بہت ایک دل ہے رنج و غم کی بستیوں کے درمیاں ایک گھر کے واسطے ہیں اتنے ہمسائے بہت جانے کیسا تھا سفر منزل کہاں پر رہ گئی ہم حدود ذات سے ...

مزید پڑھیے

رنج و غم لاکھ ہوں مسکراتے رہو

رنج و غم لاکھ ہوں مسکراتے رہو دوست دشمن سے ملتے ملاتے رہو یہ اندھیرے ہیں مہمان اک رات کے تم مگر صبح تک جگمگاتے رہو میں بھلانے کی کوشش کروں گا تمہیں تم مجھے روز و شب یاد آتے رہو راہ کے پیچ و خم خود سلجھ جائیں گے سوئے منزل قدم کو بڑھاتے رہو ابر بن کر برستے رہو ہر طرف عمر شادابیوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4024 سے 6203