قومی زبان

دور کے ڈھول سہانے ہیں

دور کے ڈھول سہانے ہیں صدیوں کے افسانے ہیں شمع محبت جل کے سمجھ ہم تیرے پروانے ہیں دل میں اتر کر دیکھ ذرا چاہت کے تہہ خانے ہیں مانگ رہے ہیں تجھ سے وفا ہم بھی کیا دیوانے ہیں یاروں کی بد نیت سے شرمندہ یارانے ہیں حافظؔ اب ٹکڑے ٹکڑے ذہن کے تانے بانے ہیں

مزید پڑھیے

کئی جلوے تری پہچان کے دھوکے سے نکلے ہیں

کئی جلوے تری پہچان کے دھوکے سے نکلے ہیں سیاست سینکڑوں چہرے ترے چہرے سے نکلے ہیں ہمارے دور کے بچے سبق پڑھتے ہیں چاہت کا کتابوں کے بجائے دل ہر اک بستے سے نکلے ہیں ہر اک بھائی کی خواہش ہے کہ بٹوارا ہو اب گھر کا ابھی ہم ملک کی تقسیم کے صدمے سے نکلے ہیں ادھر دیکھو یہاں ماں ہے ادھر ہے ...

مزید پڑھیے

یہ راز کوئی جاننے والا بھی نہیں ہے

یہ راز کوئی جاننے والا بھی نہیں ہے سورج کی وراثت میں اجالا بھی نہیں ہے سو رستے کمانے کے نظر آتے ہیں لیکن کھانے کے لیے ایک نوالہ بھی نہیں ہے لب نام ترا لینے سے کترانے لگے ہیں حالانکہ تجھے دل سے نکالا بھی نہیں ہے کیوں سرخ ہوا ہے یہ فلک آج سر شام میں نے تو لہو اپنا اچھالا بھی نہیں ...

مزید پڑھیے

ہم نے سیکھا ہے محبت کرنا

ہم نے سیکھا ہے محبت کرنا ایک اک دل پہ حکومت کرنا ہم بھی تاریخ بدل سکتے ہیں شرط ہے ہمت و جرأت کرنا زیب دیتا نہیں انسانوں کو کسی انساں کی عبادت کرنا رکھ کے خود اپنی ضرورت کو ادھار پوری اوروں کی ضرورت کرنا شب کی تاریکی میں سیکھا ہم نے چاند تاروں کی تلاوت کرنا آخری سانس تلک جیون ...

مزید پڑھیے

عقل سے کام کر

عقل سے کام کر دہر میں نام کر میں نے دیکھا اسے اپنا دل تھام کر قوم کا ہو بھلا ایسا اقدام کر اپنا ہر رنج و غم تو مرے نام کر زندگی ہے یہی صبح سے شام کر مول اپنا بڑھا مجھ کو بے دام کر دیر حافظؔ نہ ہو جلد ہر کام کر

مزید پڑھیے

آدمی نور ہے

آدمی نور ہے جلوۂ طور ہے رب ہے مختار کل بندہ مجبور ہے نشۂ حرص میں ہر کوئی چور ہے صالحوں کے لیے وعدۂ حور ہے کیا ہے صیہونیت ایک ناسور ہے مغلیہ سلطنت عزم تیمور ہے حافظؔ انسان سے زندگی دور ہے

مزید پڑھیے

چمن میں شب کو جو وہ شوخ بے نقاب آیا

چمن میں شب کو جو وہ شوخ بے نقاب آیا یقین ہو گیا شبنم کو آفتاب آیا ان انکھڑیوں میں اگر نشۂ شراب آیا سلام جھک کے کروں گا جو پھر حجاب آیا کسی کے محرم آب رواں کی یاد آئی حباب کے جو برابر کبھی حباب آیا شب فراق میں مجھ کو سلانے آیا تھا جگایا میں نے جو افسانہ گو کو خواب آیا عدم میں ...

مزید پڑھیے

اے صنم جس نے تجھے چاند سی صورت دی ہے

اے صنم جس نے تجھے چاند سی صورت دی ہے اسی اللہ نے مجھ کو بھی محبت دی ہے تیغ بے آب ہے نے بازوئے قاتل کمزور کچھ گراں جانی ہے کچھ موت نے فرصت دی ہے اس قدر کس کے لیے یہ جنگ و جدل اے گردوں نہ نشاں مجھ کو دیا ہے نہ تو نوبت دی ہے سانپ کے کاٹے کی لہریں ہیں شب و روز آتیں کاکل یار کے سودے نے ...

مزید پڑھیے

جوہر نہیں ہمارے ہیں صیاد پر کھلے

جوہر نہیں ہمارے ہیں صیاد پر کھلے لے کر قفس کو اڑ گئے رکھا جو پر کھلے شیشے شراب کے رہیں آٹھوں پہر کھلے ایسا گھرے کہ پھر نہ کبھی ابر تر کھلے کچھ تو ہمیں حقیقت شمس و قمر کھلے کس کج کلہ کے عشق میں پھرتے ہیں سر کھلے انصاف کو ہیں دیدۂ اہل نظر کھلے پردہ اٹھا کہ پردۂ شمس و قمر ...

مزید پڑھیے

یہ کس رشک مسیحا کا مکاں ہے

یہ کس رشک مسیحا کا مکاں ہے زمیں یاں کی چہارم آسماں ہے خدا پنہاں ہے عالم آشکارا نہاں ہے گنج ویرانہ عیاں ہے دل روشن ہے روشن گر کی منزل یہ آئینہ سکندر کا مکاں ہے تکلف سے بری ہے حسن ذاتی قبائے گل میں گل بوٹا کہاں ہے پسیجے گا کبھی تو دل کسی کا ہمیشہ اپنی آہوں کا دھواں ہے برنگ بو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4025 سے 6203