سمٹتی شام اگر درد کو جگائے گی
سمٹتی شام اگر درد کو جگائے گی تو صبح نوحۂ معتوب گنگنائے گی میں ہنس پڑوں گا تو پھر کسمسا اٹھے گی فضا ہوائے تند مری لو جو گدگدائے گی نمو میں موج بنے گی تمازت فردا ردائے تیرگی جتنے قدم بڑھائے گی زمین گائے گی آم اور جامنوں کے گیت برستی بدلی وہ سر تال آزمائے گی جہاں پہ چاند زمیں سے ...