قومی زبان

سمٹتی شام اگر درد کو جگائے گی

سمٹتی شام اگر درد کو جگائے گی تو صبح نوحۂ معتوب گنگنائے گی میں ہنس پڑوں گا تو پھر کسمسا اٹھے گی فضا ہوائے تند مری لو جو گدگدائے گی نمو میں موج بنے گی تمازت فردا ردائے تیرگی جتنے قدم بڑھائے گی زمین گائے گی آم اور جامنوں کے گیت برستی بدلی وہ سر تال آزمائے گی جہاں پہ چاند زمیں سے ...

مزید پڑھیے

احساس نا رسائی سے جس دم اداس تھا

احساس نا رسائی سے جس دم اداس تھا شاید وہ اس گھڑی بھی مرے آس پاس تھا محفل میں پھول خوشیوں کے جو بانٹتا رہا تنہائی میں ملا تو بہت ہی اداس تھا ہر زخم کہنہ وقت کے مرہم نے بھر دیا وہ درد بھی مٹا جو خوشی کی اساس تھا انگڑائی لی سحر نے تو لمحے چہک اٹھے جنگل میں ورنہ رات کے خوف و ہراس ...

مزید پڑھیے

آئیے آسماں کی اور چلیں

آئیے آسماں کی اور چلیں ساتھ لے کر زمیں کا شور چلیں چاند الفت کا استعارہ ہے جس کی جانب سبھی چکور چلیں یوں دبے پاؤں آئی تیری یاد جیسے چپکے سے شب میں چور چلیں دل کی دنیا عجیب دنیا ہے عقل کے اس پہ کچھ نہ زور چلیں سبز رت چھائی یوں ان آنکھوں کی جس طرح ناچ ناچ مور چلیں تم بھی یوں مجھ ...

مزید پڑھیے

دل گراں بارئ وحشت میں جدھر جاتا ہے

دل گراں بارئ وحشت میں جدھر جاتا ہے شب مرحوم کے خوابوں سا بکھر جاتا ہے کوئی پیمان وفا صبر سے بھر جاتا ہے چار و ناچار کی دہشت میں گزر جاتا ہے دھانی آوازوں کے سر تال میں بہتے بہتے رقص صحرائی کے وہ بن میں اتر جاتا ہے ریت پر جلتے ہوئے دیکھ سرابوں کے چراغ اپنے بکھراؤ میں وہ اور سنور ...

مزید پڑھیے

سانپ کا سایہ خواب مرے ڈس جاتا ہے

کتنی دفعہ تو بڑھا، رکا میں اس کی جانب صدیوں وہ مہکا کر میرا ظاہر و باطن کئی یگوں تک، اس نے مجھ کو یاد کیا اور کہا یہ، ندی ہوں میں ناؤ بنو تم ڈولو مجھ پر جھوم اٹھو تن کی چاندی سونا پا کر لیکن میرے جسم کے ویرانے سے کوئی ہر دم مجھ کو تاک رہا ہے تن سے آگے من نگری میں جھانک رہا ہے نیند نشے ...

مزید پڑھیے

دھرتی کا اپہار ملا جب

خود میں اتر کر میں رویا تھا باہر منظر پھوٹ پھوٹ کر اتنا رویا ہر شے ڈوب گئی تھی اور میں اس پل اپنے تن کی کشتی کھیتا سات سمندر پار گیا تھا سورج تاروں اور امبر نے گلے لگا کر دھرتی کا اپہار دیا تھا سب کچھ مجھ پر وار دیا تھا

مزید پڑھیے

’’جب ترسیل بٹن تک پہنچی‘‘

کل، ترا نامہ جو ملتا تھا ہمیں اس کے الفاظ تلے مدتیں، معنی کی تشریحوں میں لطف کا سیل رواں رہتا تھا راتیں بستر پہ نشہ خواب کا رکھ دیتی تھیں عطر میں ڈوبی ہوئی دھوپ کی پیمائش پر چاندنی ،نیند کو لوری کی تھپک دیتی تھی ذہن میں صبح و مسا اک عجب فرحت نو رستہ سفر کرتی تھی لیکن اب۔۔۔ قربتیں ...

مزید پڑھیے

سلگتی یاد سے خوں اٹ نہ جائے

سلگتی یاد سے خوں اٹ نہ جائے دھوئیں سے دل کی کھائی پٹ نہ جائے نئی فکروں سے بھیجا پھٹ نہ جائے جو غم میرا ہے سب میں بٹ نہ جائے سرابوں کو جلائے رکھ کہ جب تک یہ چیخیں مارتی شب ہٹ نہ جائے مسلسل بارش افتاد سہہ کر سڑک پیمائشوں کی کٹ نہ جائے بدن کا گھر ہے دیمک پھیلنے سے یہ ڈر ہے دل کا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3961 سے 6203