قومی زبان

نہ ہی زندگانی کمال ہے نہ ہی موت میرا زوال ہے

نہ ہی زندگانی کمال ہے نہ ہی موت میرا زوال ہے کہ جواب جس کا نہ مل سکا مرے ذہن میں وہ سوال ہے جسے ہم سمجھتے ہیں مرگ ہے وہ تو اک تغیر حال ہے جئے جس کے ہجر میں عمر بھر وہ ہی ایک لمحہ وصال ہے فقط اک سراب ہے زندگی کہ حسیں سا خواب ہے زندگی مرے خواب آنکھوں سے چھن گئے تو یہ زندگی بھی محال ...

مزید پڑھیے

صید کو رشک چمن دام نے رہنے نہ دیا

صید کو رشک چمن دام نے رہنے نہ دیا نغمہ خواں قید بد انجام نے رہنے نہ دیا اپنے سائے کے تعاقب میں رہے تھے دن بھر وہ بھی اب تیرگئ شام نے رہنے نہ دیا کچھ مرے دل کا سکوں نذر غم یار ہوا جو بچا گردش ایام نے رہنے نہ دیا میں نے کب کی ہیں کسی غیر سے دل کی باتیں راز کو راز در و بام نے رہنے نہ ...

مزید پڑھیے

عشق وہ مشک ہے جو لاکھ چھپائے نہ چھپے

عشق وہ مشک ہے جو لاکھ چھپائے نہ چھپے داغ ہم سے بھی محبت کے لگائے نہ چھپے جلوہ گر جیسے پس ابر مہ کامل ہو رخ زیبا وہ ستم گر نہ دکھائے نہ چھپے حسن کو ہوش ربا نیم حجابی نے کیا وہ کبھی صاف مرے سامنے آئے نہ چھپے بے وفائی سے وہ اپنی رہے منکر لیکن ان کی آنکھوں میں بسے عکس پرائے نہ ...

مزید پڑھیے

جس کی سوندھی سوندھی خوشبو آنگن آنگن پلتی تھی

جس کی سوندھی سوندھی خوشبو آنگن آنگن پلتی تھی اس مٹی کا بوجھ اٹھاتے جسم کی مٹی گلتی تھی جس کو تاپ کے گرم لحافوں میں بچے سو جاتے تھے دل کے چولھے میں ہر دم وہ آگ برابر جلتی تھی گرم دوپہروں میں جلتے صحنوں میں جھاڑو دیتے تھے جن بوڑھے ہاتھوں سے پک کر روٹی پھول میں ڈھلتی تھی کسی کہانی ...

مزید پڑھیے

دل کے سونے صحن میں گونجی آہٹ کس کے پاؤں کی

دل کے سونے صحن میں گونجی آہٹ کس کے پاؤں کی دھوپ بھرے سناٹے میں آواز سنی ہے چھاؤں کی اک منظر میں سارے منظر پس منظر ہو جانے ہیں اک دریا میں مل جانی ہیں لہریں سب دریاؤں کی دشت نوردی اور ہجرت سے اپنا گہرا رشتہ ہے اپنی مٹی میں شامل ہے مٹی کچھ صحراؤں کی بارش کی بوندوں سے بن میں تن میں ...

مزید پڑھیے

سبز کھیتوں سے امڈتی روشنی تصویر کی

سبز کھیتوں سے امڈتی روشنی تصویر کی میں نے اپنی آنکھ سے اک حرف گہ تعمیر کی سن قطار اندر قطار اشجار کی سرگوشیاں اور کہانی پڑھ خزاں نے رات جو تحریر کی کچی قبروں پر سجی خوشبو کی بکھری لاش پر خامشی نے اک نئے انداز میں تقریر کی بچپنے کی درس گاہوں میں پرانے ٹاٹ پر دل نے حیرانی کی پہلی ...

مزید پڑھیے

عمر کی اولیں اذانوں میں

عمر کی اولیں اذانوں میں چین تھا دل کے کار خانوں میں لہلہاتے تھے کھیت سینے کے بانسری بج رہی تھی کانوں میں بانسری جس کی تان ملتی تھی خواب کے بے نمو جہانوں میں خواب جن کے نشان ملنا تھے آنے والے کئی زمانوں میں مسکراہٹ چراغ ایسی تھی روشنی کھل اٹھی مکانوں میں روشنی جس کا دل ...

مزید پڑھیے

اس کے گلابی ہونٹ تو رس میں بسے لگے

اس کے گلابی ہونٹ تو رس میں بسے لگے لیکن بدن کے ذائقے بے کیف سے لگے ٹوٹے قدم قدم پہ جو اپنی لچک کے ساتھ وہ دلدلوں میں ذات کی مجھ کو پھنسے لگے تمثیل بن گئے ہیں سمندر کی جھاگ کی صحرائے غم کی راکھ میں جو بھی دھنسے لگے جن کا یقین راہ سکوں کی اساس ہے وہ بھی گمان دشت میں مجھ کو پھنسے ...

مزید پڑھیے

آنکھوں پر پلکوں کا بوجھ نہیں ہوتا

آنکھوں پر پلکوں کا بوجھ نہیں ہوتا درد کا رشتہ اپنی آن نہیں کھوتا بستی کے حساس دلوں کو چبھتا ہے سناٹا جب ساری رات نہیں ہوتا من نگری میں دھوم دھڑکا رہتا ہے میرا میں جب میرے ساتھ نہیں ہوتا بن جاتے ہیں لمحے بھی کتنے سنگین وقت کبھی جب اپنا بوجھ نہیں ڈھوتا رشتے ناطے ٹوٹے پھوٹے لگے ...

مزید پڑھیے

نشہ کرنے کا بہانہ ہو گیا

نشہ کرنے کا بہانہ ہو گیا جب ذرا موسم سہانا ہو گیا تجھ سے ملنا تو کجا اے جان جاں تجھ کو دیکھے اب زمانہ ہو گیا مڑ کے دیکھا جب بھی پیچھے کی طرف آج دھندلا کل فسانہ ہو گیا گلستاں زادے بہت ہی شاد ہیں جب سے زنداں میں ٹھکانہ ہو گیا جیت حق کی ظالموں کے واسطے خوں بہانے کا بہانہ ہو گیا سچ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3960 سے 6203