نہ ہی زندگانی کمال ہے نہ ہی موت میرا زوال ہے
نہ ہی زندگانی کمال ہے نہ ہی موت میرا زوال ہے کہ جواب جس کا نہ مل سکا مرے ذہن میں وہ سوال ہے جسے ہم سمجھتے ہیں مرگ ہے وہ تو اک تغیر حال ہے جئے جس کے ہجر میں عمر بھر وہ ہی ایک لمحہ وصال ہے فقط اک سراب ہے زندگی کہ حسیں سا خواب ہے زندگی مرے خواب آنکھوں سے چھن گئے تو یہ زندگی بھی محال ...