وہ پیچ و خم جہاں کی ہر اک رہ گزر میں ہے
وہ پیچ و خم جہاں کی ہر اک رہ گزر میں ہے خود کاروان وقت بھی اب تک سفر میں ہے یارو کہاں وہ جلوۂ شمس و قمر میں ہے جو نور جو ضیا مرے داغ جگر میں ہے ہے وعدۂ وصال صنم کی وہ سر خوشی ہر شے حسین اب مری فکر و نظر میں ہے منزل بغیر طے کئے لیتا نہیں ہوں چین یہ دم یہ حوصلہ ہی کہاں راہبر میں ...