قومی زبان

وہ پیچ و خم جہاں کی ہر اک رہ گزر میں ہے

وہ پیچ و خم جہاں کی ہر اک رہ گزر میں ہے خود کاروان وقت بھی اب تک سفر میں ہے یارو کہاں وہ جلوۂ شمس و قمر میں ہے جو نور جو ضیا مرے داغ جگر میں ہے ہے وعدۂ وصال صنم کی وہ سر خوشی ہر شے حسین اب مری فکر و نظر میں ہے منزل بغیر طے کئے لیتا نہیں ہوں چین یہ دم یہ حوصلہ ہی کہاں راہبر میں ...

مزید پڑھیے

پھر ان کی یاد کے دیپک جلائے ہیں میں نے

پھر ان کی یاد کے دیپک جلائے ہیں میں نے کہ خفتہ حسرت و ارماں جگائے ہیں میں نے زمانہ جن کے تصور سے ہی لرز اٹھے قلیل عمر میں وہ غم اٹھائے ہیں میں نے غم و الم کے سمندر میں ڈوب کر اکثر نشاط و عیش کے نغمات گائے ہیں میں نے نہیں نہیں ہے نہیں قابل یقیں کوئی خدا کے بندے بہت آزمائے ہیں میں ...

مزید پڑھیے

کون ہے جو نہ ہوا بندش غم سے آزاد

کون ہے جو نہ ہوا بندش غم سے آزاد جز مرے کون رہا دہر میں ناکام مراد سونپ دوں کیوں نہ بہ دامان تلاطم کشتی کس کی کب سنتے ہیں بے رحم کنارے فریاد مجھ سے مت چھین یہ جاگیر غم و رنج ندیم ہے فقط اس سے ہی کونین دل و جان آباد دل کے گلزار میں کھل اٹھتی ہے داغوں کی کلی جب بھی آتی ہے کسی گلرخ و ...

مزید پڑھیے

جتنے قریں تم آئے

جتنے قریں تم آئے بنتے گئے پرائے پاس آئے تم مرے یوں جیسے کہ خواب آئے کیا خضر کا بھروسہ آئے کہ وہ نہ آئے واعظ بنا ہے میکش کیا کیا تغیر آئے شاید قریں ہے منزل پھر پاؤں ڈگمگائے یاد آئیں چٹکی کلیاں تم جب بھی مسکرائے کہہ دو جمالؔ دل سے ہم سے نہ دل لگائے

مزید پڑھیے

تم آئے جب نہیں ناکام لوٹ جانے کو

تم آئے جب نہیں ناکام لوٹ جانے کو تو آؤ خاک کرو دل کے آشیانے کو بجھا بجھا سا ہے کیوں آج اداس اداس ہے دل ہے کوئی کوہ الم اور ٹوٹ جانے کو ہے آرزوئے دل سوگوار لکھتا رہوں تمام عمر ترے عشق کے فسانے کو بشر کی تنگ دلی اس سے بڑھ کے کیا ہوگی قفس سمجھتا رہے اپنے آشیانے کو یہ شعر و فن یہ مے ...

مزید پڑھیے

فیض دل سے مطرب کامل ہوا جاتا ہوں میں

فیض دل سے مطرب کامل ہوا جاتا ہوں میں باعث رنگینئ محفل ہوا جاتا ہوں میں کس لئے یہ شکوۂ محرومئ کیف و نشاط خوگر آلام خود اے دل ہوا جاتا ہوں میں اس قدر مخمور ہوں تیری نگاہ مست سے چاہ میں منزل کی خود منزل ہوا جاتا ہوں میں بحر ہستی میں مزا دینے لگے طوفاں بھی اب اے ندیم آسودۂ ساحل ہوا ...

مزید پڑھیے

اشکوں کا مری آنکھ سے پیغام نہ آئے

اشکوں کا مری آنکھ سے پیغام نہ آئے الزام یہ اے دوست تیرے نام نہ آئے کیا کیجیئے درمان مریض غم الفت جب کوئی دوا اور دعا کام نہ آئے پھر مجمع اغیار تہ بام کھڑا ہے اس شوخ سے کہہ دو کہ لب بام نہ آئے افسانہ مرا زیب لب بلبل و گل ہے ڈرتا ہوں کہیں آپ پہ الزام نہ آئے کیا درد کے ماروں پہ وہ ...

مزید پڑھیے

یہ کیا خبر تھی کہ جب تم سے دوستی ہوگی

یہ کیا خبر تھی کہ جب تم سے دوستی ہوگی قدم قدم پہ قیامت سی اک کھڑی ہوگی وہاں پہ گونجتی ہوگی خوشی کی شہنائی یہاں تو میت ارمان اٹھ رہی ہوگی جو بے خبر ہے ابھی تک خود اپنی منزل سے تو ایسے خضر سے کس طرح رہبری ہوگی بنا کے خاک سے خود خاک میں ملا دینا الٰہی تیری شریعت میں کچھ کمی ہوگی شب ...

مزید پڑھیے

خزاں میں اوڑھ کے قول و قرار کا موسم

خزاں میں اوڑھ کے قول و قرار کا موسم بہار ڈھونڈ رہی ہے بہار کا موسم وو میرے ساتھ نہیں ہیں تو دل کے صحرا پر سمے بکھیر رہا ہے بہار کا موسم فریب خود کو نا دے گا تو اور کیا دے گا نا راس آئے جسے اعتبار کا موسم تمہارے قرب کی مدھم سی اک حرارت سے ہے ڈھیر راکھ تلے انتظار کا موسم

مزید پڑھیے

کس کے خیال نے مجھے شوریدہ کر دیا

کس کے خیال نے مجھے شوریدہ کر دیا تنہا شبی کو اور بھی سنجیدہ کر دیا احساس نارسائی کی بنجر زمین کو کس کے خیال سبز نے بالیدہ کر دیا کل ہم نے طشت بام پہ شب خون مار کر بستر اچٹتی نیند کا خوابیدہ کر دیا بیتے غموں کو آج کی تلخی میں گھول کر مستقبل حیات کو لغزیدہ کر دیا ہر روز کی نئی نئی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3962 سے 6203