قومی زبان

کھلے دلوں سے ملے فاصلہ بھی رکھتے رہے

کھلے دلوں سے ملے فاصلہ بھی رکھتے رہے تمام عمر عجب لوگ مجھ سے الجھے رہے حنوط تتلیاں شو کیس میں نظر آئیں شریر بچے گھروں میں بھی سہمے سہمے رہے اب آئنہ بھی مزاجوں کی بات کرتا ہے بکھر گئے ہیں وہ چہرے جو عکس بنتے رہے میں آنے والے دنوں کی زبان جانتا تھا اسی لیے مری غزلوں میں پھول ...

مزید پڑھیے

خرد کی چھاؤں میں نیند آ رہی ہے

خرد کی چھاؤں میں نیند آ رہی ہے کہاں غیرت جنوں کی کھو گئی ہے مجھے تیرے تصور نے سنبھالا جہاں بھی گردش دوراں ملی ہے ہوئی مدت جلا تھا آشیانہ نگاہوں میں ابھی تک روشنی ہے جہاں وہ چلتے چلتے رک گئے ہیں وہاں گردش فلک کی تھم گئی ہے مرے اشکوں کی تابانی سے ہمدم شب فرقت کی ظلمت کانپتی ...

مزید پڑھیے

تیسری آنکھ

تو پھر یوں ہوا ہم شکستہ دلوں نے سپر ڈال دی جتنے ناوک بدست اپنے احباب کوہ وفا پر کھڑے تھے ہمیں ان سبھی کی جگر داریوں بے غرض جرأتوں پر مکمل یقیں تھا مگر جاں نثاری کے اس معرکے میں صف ہم رہاں کو پلٹ کر جو دیکھا تو کوئی نہیں تھا سبھی نرغۂ دشمناں میں کھڑے تھے ہجوم کشیدہ سراں پا بہ زنجیر ...

مزید پڑھیے

تسلسل

ایک ہی بستر پر لیٹے ہوئے کبھی کبھار دو جسموں کے درمیان چند شکنوں کا فاصلہ صدیوں پر پھیل جاتا ہے اس لمحے کے پیکار میں باہم پیوست دو جسموں سے پیدا ہونے والا تیسرا بدن ساری عمر فراق کی گھڑیاں گنتے گنتے آخر اسی زنجیرے میں ایک نئی کڑی کا اضافہ بن جاتا ہے اور پھر وہی عمل پھر وہی ...

مزید پڑھیے

شاعری پورا مرد اور پوری عورت مانگتی ہے

تم جو لفظوں کے گورکھ دھندے میں الجھے بے رس شاعری کرتے ہو لغت سے لفظ اٹھاتے ہو اور دائیں بائیں ان کو چبا کر شعر اگلتے رہتے تم کو کیا معلوم کہ کیا ہے عشق اور اس کی حقیقت کیا ہے پیار ہے کیا اور چاہت کیا ہے تم نے کسی کے ہجر میں کب راتیں کاٹی ہیں...؟ کب تم وصل کے نشے سے سرشار ہوئے ہو تم کو ...

مزید پڑھیے

سفر دیوار گریہ کا

تمہیں اس شہر سے رخصت ہوئے کتنا زمانہ ہو چکا پھر بھی ابھی تک میرے کمرے میں تمہارے جسم کی خوشبو کا ڈیرا ہے بظاہر تو تمہارے بعد ابھی تک میں بہت ہی مطمئن اور شانت لگتا ہوں مگر جب رات کے پچھلے پہر کمرے میں آتا ہوں تو جانے کیوں اچانک میری آنکھوں میں نمی سی تیرنے لگتی ہے پلکیں بھیگ جاتی ...

مزید پڑھیے

سنہرے خواب آنکھوں میں بنا کرتے تھے ہم دونوں

سنہرے خواب آنکھوں میں بنا کرتے تھے ہم دونوں پرندوں کی طرح دن بھر اڑا کرتے تھے ہم دونوں الٰہی زندگی یونہی محبت میں گزر جائے نماز فجر پڑھ کر یہ دعا کرتے تھے ہم دونوں ہمیشہ ٹھنڈی ہو جاتی تھی چائے باتوں باتوں میں وہ باتیں جو ان آنکھوں سے کیا کرتے تھے ہم دونوں گزر جاتا تھا سارا دن ...

مزید پڑھیے

آدھا جسم سلگتا آدھا جل تھل ہے

آدھا جسم سلگتا آدھا جل تھل ہے جانے کیسی دھوپ ہے کیسا بادل ہے خوابوں کا اک شہر ہے میری آنکھوں میں اور اس شہر کے چاروں جانب جنگل ہے میرے ساتھ نہیں وہ پھر بھی جانے کیوں اس کے بچھڑ جانے کا دھڑکا پل پل ہے لمحہ لمحہ دھنستا جاتا ہے منظر شاید میری آنکھ میں کوئی دلدل ہے کاش اسے ہو جائے ...

مزید پڑھیے

خموش رہ کر پکارتی ہے

خموش رہ کر پکارتی ہے وہ آنکھ کتنی شرارتی ہے ہے چاندنی سا مزاج اس کا سمندروں کو ابھارتی ہے میں بادلوں میں گھرا جزیرہ وہ مجھ میں ساون گزارتی ہے کہ جیسے میں اس کو چاہتا ہوں کچھ ایسے خود کو سنوارتی ہے خفا ہو مجھ سے تو اپنے اندر وہ بارشوں کو اتارتی ہے

مزید پڑھیے

اداس شاموں بجھے دریچوں میں لوٹ آیا

اداس شاموں بجھے دریچوں میں لوٹ آیا بچھڑ کے اس سے میں اپنی گلیوں میں لوٹ آیا چمکتی سڑکوں پہ کوئی میرا نہیں تھا سو میں ملول پیڑوں اجاڑ رستوں میں لوٹ آیا خزاں کے آغاز میں یہ اچھا ہوا کہ میں بھی خود اپنے جیسے فسردہ لوگوں میں لوٹ آیا حسین یادوں کے چاند کو الوداع کہہ کر میں اپنے گھر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3939 سے 6203