قومی زبان

نقش کہن سب دل کے مٹاؤ

نقش کہن سب دل کے مٹاؤ پھر کوئی تصویر بناؤ بستی بستی خون خرابہ عقل کے مارو ہوش میں آؤ پتھر بن کر جینا کیا پھولوں کی ٹہنی بن جاؤ مصنوعی کردار کے لوگو سچائی کے روپ دکھاؤ رات اندھیری سر پر طوفاں سوچ سمجھ کر قدم بڑھاؤ اپنوں کو تم چھوڑ کے رہبرؔ کہاں چلے یہ راز بتاؤ

مزید پڑھیے

چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے

چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے ہم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانا یاد ہے باہزاراں اضطراب و صدہزاراں اشتیاق تجھ سے وہ پہلے پہل دل کا لگانا یاد ہے بار بار اٹھنا اسی جانب نگاہ شوق کا اور ترا غرفے سے وہ آنکھیں لڑانا یاد ہے تجھ سے کچھ ملتے ہی وہ بے باک ہو جانا مرا اور ترا دانتوں میں ...

مزید پڑھیے

قسمت شوق آزما نہ سکے

قسمت شوق آزما نہ سکے ان سے ہم آنکھ بھی ملا نہ سکے ہم سے یاں رنج ہجر اٹھ نہ سکا واں وہ مجبور تھے وہ آ نہ سکے ڈر یہ تھا رو نہ دیں کہیں وہ انہیں ہم ہنسی میں بھی گدگدا نہ سکے ہم سے دل آپ نے اٹھا تو لیا پر کہیں اور بھی لگا نہ سکے اب کہاں تم کہاں وہ ربط وفا یاد بھی جس کی ہم دلا نہ سکے دل ...

مزید پڑھیے

سیہ کار تھے باصفا ہو گئے ہم

سیہ کار تھے باصفا ہو گئے ہم ترے عشق میں کیا سے کیا ہو گئے ہم نہ جانا کہ شوق اور بھڑکے گا میرا وہ سمجھے کہ اس سے جدا ہو گئے ہم دم واپسیں آئے پرسش کو ناحق بس اب جاؤ تم سے خفا ہو گئے ہم ہوئے محو کس کی تمنا میں ایسے کہ مستغنئ ماسوا ہو گئے ہم انہیں رنج اب کیوں ہوا ہم تو خوش ہیں کہ مر کر ...

مزید پڑھیے

نہ سہی گر انہیں خیال نہیں

نہ سہی گر انہیں خیال نہیں کہ ہمارا بھی اب وہ حال نہیں یاد انہیں وعدۂ وصال نہیں کب کیا تھا یہی خیال نہیں ایسے بگڑے وہ سن کے شوق کی بات آج تک ہم سے بول چال نہیں مجھ کو اب غم یہ ہے کہ بعد مرے خاطر یار بے ملال نہیں عفو حق کا ہے میکشوں پہ نزول ریزش ابر برشگال نہیں ہم پہ کیوں عرض حال ...

مزید پڑھیے

بیکلی سے مجھے راحت ہوگی

بیکلی سے مجھے راحت ہوگی چھیڑ دیں آپ عنایت ہوگی وصل میں ان کے قدم چومیں گے وہ بھی گر ان کی اجازت ہوگی بے قراری کے مزے لوٹیں گے آج پھر درد کی شدت ہوگی ایک دن کھول کے جی رو لیں گے ضبط غم کی جو اجازت ہوگی قصۂ غم نہ کہوں گا حسرتؔ جور کی ان کے شکایت ہوگی

مزید پڑھیے

بھلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں

بھلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں الٰہی ترک الفت پر وہ کیونکر یاد آتے ہیں نہ چھیڑ اے ہم نشیں کیفیت صہبا کے افسانے شراب بے خودی کے مجھ کو ساغر یاد آتے ہیں رہا کرتے ہیں قید ہوش میں اے وائے ناکامی وہ دشت خود فراموشی کے چکر یاد آتے ہیں نہیں آتی تو یاد ان کی مہینوں تک نہیں ...

مزید پڑھیے

گھٹے گا تیرے کوچے میں وقار آہستہ آہستہ

گھٹے گا تیرے کوچے میں وقار آہستہ آہستہ بڑھے گا عاشقی کا اعتبار آہستہ آہستہ بہت نادم ہوئے آخر وہ میرے قتل ناحق پر ہوئی قدر وفا جب آشکار آہستہ آہستہ جلائے شوق سے آئینہ تصویر خاطر میں نمایاں ہو چلا روئے نگار آہستہ آہستہ محبت کی جو پھیلی ہے یہ نکہت باغ عالم میں ہوئی ہے منتشر ...

مزید پڑھیے

یہاں مضبوط سے مضبوط لوہا ٹوٹ جاتا ہے

یہاں مضبوط سے مضبوط لوہا ٹوٹ جاتا ہے کئی جھوٹے اکٹھے ہوں تو سچا ٹوٹ جاتا ہے نہ اتنا شور کر ظالم ہمارے ٹوٹ جانے پر کہ گردش میں فلک سے بھی ستارا ٹوٹ جاتا ہے تسلی دینے والے تو تسلی دیتے رہتے ہیں مگر وہ کیا کرے جس کا بھروسا ٹوٹ جاتا ہے کسی سے عشق کرتے ہو تو پھر خاموش رہیے گا ذرا سی ...

مزید پڑھیے

اب اسے چھوڑ کے جانا بھی نہیں چاہتے ہم

اب اسے چھوڑ کے جانا بھی نہیں چاہتے ہم اور گھر اتنا پرانا بھی نہیں چاہتے ہم سر بھی محفوظ اسی میں ہے ہمارا لیکن کیا کریں سر کو جھکانا بھی نہیں چاہتے ہم اپنی غیرت کے لئے فاقہ کشی بھی منظور تیری شرطوں پہ خزانہ بھی نہیں چاہتے ہم ہاتھ اور پاؤں کسی کے ہوں کسی کا سر ہو اس طرح قد کو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3919 سے 6203