قومی زبان

خود کو اتنا جو ہوا دار سمجھ رکھا ہے

خود کو اتنا جو ہوا دار سمجھ رکھا ہے کیا ہمیں ریت کی دیوار سمجھ رکھا ہے ہم نے کردار کو کپڑوں کی طرح پہنا ہے تم نے کپڑوں ہی کو کردار سمجھ رکھا ہے میری سنجیدہ طبیعت پہ بھی شک ہے سب کو بعض لوگوں نے تو بیمار سمجھ رکھا ہے اس کو خود داری کا کیا پاٹھ پڑھایا جائے بھیک کو جس نے پرسکار سمجھ ...

مزید پڑھیے

ہمارے دوستوں میں کوئی دشمن ہو بھی سکتا ہے

ہمارے دوستوں میں کوئی دشمن ہو بھی سکتا ہے یہ انگریزی دوائیں ہیں ری ایکشن ہو بھی سکتا ہے کسی ماتھے پہ ہر دم ایک ہی لیبل نہیں رہتا بھکاری چند ہفتوں میں مہاجن ہو بھی سکتا ہے سیاست نقلی نوٹوں کی طرح دھوکے سے چلتی ہے جسے رہبر سمجھتے ہو وہ رہزن ہو بھی سکتا ہے مرے بچوں کہاں تک باپ کے ...

مزید پڑھیے

وہ ایک رات کی گردش میں اتنا ہار گیا

وہ ایک رات کی گردش میں اتنا ہار گیا لباس پہنے رہا اور بدن اتار گیا حسب نسب بھی کرائے پہ لوگ لانے لگے ہمارے ہاتھ سے اب یہ بھی کاروبار گیا اسے قریب سے دیکھا تو کچھ شفا پائی کئی برس میں مرے جسم سے بخار گیا تمہاری جیت کا مطلب ہے جنگ پھر ہوگی ہماری ہار کا مطلب ہے انتشار گیا تو ایک ...

مزید پڑھیے

ذرا سی چوٹ لگی تھی کہ چلنا بھول گئے

ذرا سی چوٹ لگی تھی کہ چلنا بھول گئے شریف لوگ تھے گھر سے نکلنا بھول گئے تری امید پہ شاید نہ اب کھرے اتریں ہم اتنی بار بجھے ہیں کہ جلنا بھول گئے تمہیں تو علم تھا بستی کے لوگ کیسے ہیں تم اس کے بعد بھی کپڑے بدلنا بھول گئے ہمیں تو چاند ستاروں کو رسوا کرنا تھا سو جان بوجھ کے اک روز ...

مزید پڑھیے

تری مدد کا یہاں تک حساب دینا پڑا

تری مدد کا یہاں تک حساب دینا پڑا چراغ لے کے مجھے آفتاب دینا پڑا ہر ایک ہاتھ میں دو دو سفارشی خط تھے ہر ایک شخص کو کوئی خطاب دینا پڑا تعلقات میں کچھ تو درار پڑنی تھی کئی سوال تھے جن کا جواب دینا پڑا اب اس سزا سے بڑی اور کیا سزا ہوگی نئے سرے سے پرانا حساب دینا پڑا اس انتظام سے کیا ...

مزید پڑھیے

ہمارے خواب سب تعبیر سے باہر نکل آئے

ہمارے خواب سب تعبیر سے باہر نکل آئے وہ اپنے آپ کل تصویر سے باہر نکل آئے یہ اہل ہوش تو گھر سے کبھی باہر نہیں نکلے مگر دیوانے ہر زنجیر سے باہر نکل آئے کوئی آواز دے کر دیکھ لے مڑ کر نہ دیکھیں گے محبت تیرے اک اک تیر سے باہر نکل آئے در و دیوار بھی گھر کے بہت مایوس تھے ہم سے سو ہم بھی ...

مزید پڑھیے

بڑے حساب سے عزت بچانی پڑتی ہے

بڑے حساب سے عزت بچانی پڑتی ہے ہمیشہ جھوٹی کہانی سنانی پڑتی ہے تم ایک بار جو ٹوٹے تو جڑ نہیں پائے ہمیں تو روز یہ ذلت اٹھانی پڑتی ہے مجھے خریدنے ایسے بھی لوگ آتے ہیں کہ جن کے کہنے سے قیمت گھٹانی پڑتی ہے ملال یہ ہے کہ یہ دونوں ہاتھ میرے ہیں کسی کی چیز کسی سے چھپانی پڑتی ہے تم اپنا ...

مزید پڑھیے

امیر شہر سے مل کر سزائیں ملتی ہیں

امیر شہر سے مل کر سزائیں ملتی ہیں اس ہسپتال میں نقلی دوائیں ملتی ہیں ہم ایک پارٹی مل کر چلو بناتے ہیں کہ تیری میری بہت سی خطائیں ملتی ہیں پرانی دلی میں دل کا لگانا ٹھیک نہیں نہ دھوپ اور نہ تازہ ہوائیں ملتی ہیں اب ان کا نام و نسب دوسرے بتاتے ہیں عروج ملتے ہی کیا کیا ادائیں ملتی ...

مزید پڑھیے

کھلا یہ راز کہ یہ زندگی بھی ہوتی ہے

کھلا یہ راز کہ یہ زندگی بھی ہوتی ہے بچھڑ کے تجھ سے ہمیں اب خوشی بھی ہوتی ہے وہ فون کر کے مرا حال پوچھ لیتا ہے نمک حراموں کی کیٹگری بھی ہوتی ہے مزاج پوچھنے والے مزا بھی لیتے ہیں کبھی جو درد میں تھوڑی کمی بھی ہوتی ہے یہی تو کھولتی ہے دشمنی کا دروازہ خراب چیز میاں دوستی بھی ہوتی ...

مزید پڑھیے

نظر نہ آئے ہم اہل نظر کے ہوتے ہوئے

نظر نہ آئے ہم اہل نظر کے ہوتے ہوئے عذاب خانہ بدوشی ہے گھر کے ہوتے ہوئے یہ کون مجھ کو کنارے پہ لا کے چھوڑ گیا بھنور سے بچ گیا کیسے بھنور کے ہوتے ہوئے یہ انتقام ہے یا احتجاج ہے کیا ہے یہ لوگ دھوپ میں کیوں ہیں شجر کے ہوتے ہوئے تو اس زمین پہ دو گز ہمیں جگہ دے دے ادھر نہ جائیں گے ہرگز ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3920 سے 6203