قومی زبان

آپ نے قدر کچھ نہ کی دل کی

آپ نے قدر کچھ نہ کی دل کی اڑ گئی مفت میں ہنسی دل کی خو ہے از بس کہ عاشقی دل کی غم سے وابستہ ہے خوشی دل کی یاد ہر حال میں رہے وہ مجھے الغرض بات رہ گئی دل کی مل چکی ہم کو ان سے داد وفا جو نہیں جانتے لگی دل کی چین سے محو خواب ناز میں وہ بیکلی ہم نے دیکھ لی دل کی ہمہ تن صرف ہوشیارئ ...

مزید پڑھیے

حائل تھی بیچ میں جو رضائی تمام شب

حائل تھی بیچ میں جو رضائی تمام شب اس غم سے ہم کو نیند نہ آئی تمام شب کی یاس سے ہوس نے لڑائی تمام شب تم نے تو خوب راہ دکھائی تمام شب پھر بھی تو ختم ہو نہ سکی آرزو کی بات ہر چند ہم نے ان کو سنائی تمام شب بے باک ملتے ہی جو ہوئے ہم تو شرم سے آنکھ اس پری نے پھر نہ ملائی تمام شب دل خوب ...

مزید پڑھیے

حسن بے مہر کو پروائے تمنا کیا ہو

حسن بے مہر کو پروائے تمنا کیا ہو جب ہو ایسا تو علاج دل شیدا کیا ہو کثرت حسن کی یہ شان نہ دیکھی نہ سنی برق لرزاں ہے کوئی گرم تماشا کیا ہو بے مثالی کے ہیں یہ رنگ جو باوصف حجاب بے نقابی پر ترا جلوۂ یکتا کیا ہو دیکھیں ہم بھی جو ترے حسن دل آرا کی بہار اس میں نقصان ترا اے گل رعنا کیا ...

مزید پڑھیے

وہ چپ ہو گئے مجھ سے کیا کہتے کہتے

وہ چپ ہو گئے مجھ سے کیا کہتے کہتے کہ دل رہ گیا مدعا کہتے کہتے مرا عشق بھی خود غرض ہو چلا ہے ترے حسن کو بے وفا کہتے کہتے شب غم کس آرام سے سو گئے ہیں فسانہ تری یاد کا کہتے کہتے یہ کیا پڑ گئی خوئے دشنام تم کو مجھے ناسزا برملا کہتے کہتے خبر ان کو اب تک نہیں مر مٹے ہم دل زار کا ماجرا ...

مزید پڑھیے

ہمیں وقف غم سر بسر دیکھ لیتے

ہمیں وقف غم سر بسر دیکھ لیتے وہ تم کچھ نہ کرتے مگر دیکھ لیتے نہ کرتے کبھی خواہش سیر جنت جو واعظ ترا رہ گزر دیکھ لیتے رسائی کہاں بزم دشمن میں اپنی کہ ہم بھی انہیں اک نظر دیکھ لیتے تمنا کو پھر کچھ شکایت نہ رہتی جو تم بھول کر بھی ادھر دیکھ لیتے نہ رہتی خبر دین و دنیا کی حسرتؔ جو ...

مزید پڑھیے

اور تو پاس مرے ہجر میں کیا رکھا ہے

اور تو پاس مرے ہجر میں کیا رکھا ہے اک ترے درد کو پہلو میں چھپا رکھا ہے دل سے ارباب وفا کا ہے بھلانا مشکل ہم نے یہ ان کے تغافل کو سنا رکھا ہے تم نے بال اپنے جو پھولوں میں بسا رکھے ہیں شوق کو اور بھی دیوانہ بنا رکھا ہے سخت بے درد ہے تاثیر محبت کہ انہیں بستر ناز پہ سوتے سے جگا رکھا ...

مزید پڑھیے

درد آسانی سے کب پہلو بدل کر نکلا

درد آسانی سے کب پہلو بدل کر نکلا آنکھ کا تنکا بہت آنکھ مسل کر نکلا تیرے مہماں کے سواگت کا کوئی پھول تھے ہم جو بھی نکلا ہمیں پیروں سے کچل کر نکلا شہر کی آنکھیں بدلنا تو مرے بس میں نہ تھا یہ کیا میں نے کہ میں بھیس بدل کر نکلا مرے رستے کے مسائل تھے نوکیلے اتنے میرے دشمن بھی مرے ...

مزید پڑھیے

شوق سے آپ یہ انگریزی دوا بھی لیتے

شوق سے آپ یہ انگریزی دوا بھی لیتے ہم فقیروں سے مگر تھوڑی دعا بھی لیتے اس لئے ہنسنے ہنسانے کی بنا لی عادت میں جو روتا تو کئی لوگ مزا بھی لیتے تیرے بکنے کی خبر کاش کہ پہلے ہوتی اتنی دولت تو مری جان کما بھی لیتے اب کوئی بیس برس بعد یہ احساس ہوا چاہتے ہم تو کہیں ہاتھ چھڑا بھی ...

مزید پڑھیے

کسے ہم اپنا کہیں کوئی غم گسار نہیں

کسے ہم اپنا کہیں کوئی غم گسار نہیں ہمیں جب اپنے پرائے پہ اعتبار نہیں ہم اپنے دور کی سچائیوں کو لکھتے ہیں قلم ہمارا کسی کا تو مستعار نہیں جو بے وفا تھے وہی لوگ پا گئے اعزاز مری وفاؤں کا اب تک کہیں شمار نہیں ہمارے سر پہ برس جائیں گے کہاں پتھر تنک مزاجیٔ موسم کا اعتبار ...

مزید پڑھیے

جو بات حقیقت ہو بے خوف و خطر کہیے

جو بات حقیقت ہو بے خوف و خطر کہیے میں اس کا نہیں قائل شبنم کو گہر کہیے لفظوں کی حرارت سے اجسام پگھل جائیں سنجیدہ ذرا ہو کر اشعار اگر کہیے اپنوں نے پلائے ہیں زہراب کے گھونٹ اکثر ہونٹوں پہ جو خشکی ہے تلخی کا اثر کہیے بازار تصنع کے جلووں کی نمائش کو ٹوٹے ہوئے شیشوں کا ادنیٰ سا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3918 سے 6203