قومی زبان

مصوری میں نفس پھونکنے کا فن بھی تو ہو

مصوری میں نفس پھونکنے کا فن بھی تو ہو کہ پیرہن ہو اگر ساز پیرہن بھی تو ہو تو صرف عکس نہیں اک صحیفۂ فن ہے اس آئنے میں کبھی گرمئی بدن بھی تو ہو وہ شاید اس لیے تصویر بن کے بیٹھا رہا فقط سخن ہی نہیں حسرت سخن بھی تو ہو میں آبی رنگ میں تھوڑی سی آب چاہتا ہوں اگر نگاہ پڑے آنکھ میں چبھن ...

مزید پڑھیے

مصرعے کے وسط میں کھڑا ہوں

مصرعے کے وسط میں کھڑا ہوں شاید میں اندھا ہو گیا ہوں سوئے ہوئے بیج جاگ جائیں کھیتوں میں اشک بو رہا ہوں دہلیز کے پاس سے کسی کے پھینکے ہوئے خواب چن رہا ہوں بستر میں رات سو رہی ہے میں تیرے حضور جاگتا ہوں ساری مردہ محبتوں کو حیرت سے چھو کے دیکھتا ہوں ٹوٹی ہوئی رقم کی طرح سے بے کار ...

مزید پڑھیے

خوشبو کا سفر

میری ماں موت کی آغوش میں بھی خوب صورت تھی مجسم شکر و ایثار و وفا جو زندگی بھر خود جھلس کر ہم کو ٹھنڈی چھاؤں دی تھی اب اس کی چاند سی روشن جبیں پر درد کی گہری شکن سی آ گئی تھی پھر بھی اس کا زرد چہرہ پر سکوں تھا وہ جب تک ہوش میں تھا اس کے ہونٹوں پر دعائیں اس کی آنکھوں میں محبت تھی مری ...

مزید پڑھیے

گھمنڈ

موج ہوا کو اب خبروں کے دام سے بھی چھٹ جانے دو گہرے دھوئیں اور گرد کے بادل میں کاغذ اور ریت کے ذرے آدھے سچ کے ساتھ چمٹ کر اب گھر گھر تک آ پہنچے ہیں اپنی سانسیں روک رہے ہیں بین سنانا شور مچانا خاک اڑانا کب تک کب تک یہ سب کو دھمکانا تم بھی صبر کرو جبراً خود کو کیا مظلوم بنانا ممکن ...

مزید پڑھیے

دنیا سے عقل و فہم کے آثار مر گئے

دنیا سے عقل و فہم کے آثار مر گئے سائے تو جی اٹھے در و دیوار مر گئے کشتیٔ زیست پار نہ لگ پائی لے کے وہ عقل و خرد کا ہاتھ میں پتوار مر گئے جن کو تھا خوف موت کا اپنی حیات میں اک بار کیا مرے وہ کئی بار مر گئے تھا امتحان شوق کیا نقد جاں قبول ہو کر خوشی سے ہم بڑے سرشار مر گئے خوشبو اڑا ...

مزید پڑھیے

الجھا اس کی دید میں

الجھا اس کی دید میں پڑا رہا تمہید میں بھول گیا اس بار بھی اثر نہیں تاکید میں سیکھا من کو مارنا افسر کی تائید میں رہنا پل پل دھیان میں ملنا عید کے عید میں نامہ بر لکھوائے گا تجھ سے نام رسید میں اس کی شکل اتار لوں گر آ جائے کشید میں کانچ تراشوں بیٹھ کر ہیرے کی تقلید میں ڈھونڈ ...

مزید پڑھیے

میز پہ چہرا زلفیں کاغذ پر

میز پہ چہرا زلفیں کاغذ پر دیکھ رہا ہے حیرت سے دفتر چہرے پر شکوہ کرتی آنکھیں آنکھوں میں آدھا خالی ساغر گال پہ تین لکیریں آنسو کی کانوں میں ہیرے کے دو کنکر باتوں میں موسیقی جیسی تال ساڑھے سات اور پندرہ کا چکر اب تو گھر سے باہر جانے دو چپک گیا ہے کھڑکی پر منظر عریانی کی بات ...

مزید پڑھیے

مرے خدا کوئی چھاؤں کوئی زمیں کوئی گھر

مرے خدا کوئی چھاؤں کوئی زمیں کوئی گھر ہمارے جیسوں کی قسمت میں کیوں نہیں کوئی گھر اے بے نیاز بتا حشر کب معین ہے بہت لرزنے لگا ہے تہ جبیں کوئی گھر کمر پہ لاد کے چلتے رہوگے تنہائی تمام عمر ملے گا نہیں کہیں کوئی گھر مکان بننے سے کوئی جگہ بچی ہی نہیں ہوا تو کرتا تھا پہلے کہیں کہیں ...

مزید پڑھیے

سورج تری دہلیز میں اٹکا ہوا نکلا

سورج تری دہلیز میں اٹکا ہوا نکلا یہ نقرئی سکہ کہاں پھینکا ہوا نکلا ہم نے کبھی کھینچا تھا جو انگلی سے ہوا پر وہ نقش تو دیوار پہ لکھا ہوا نکلا شام اپنے طلسمات میں جکڑی ہوئی آئی چاند اپنے خیالات میں ڈوبا ہوا نکلا وہ حشر ہوا ہے کہ ترے حشر کا منظر پہلے سے کئی مرتبہ دیکھا ہوا ...

مزید پڑھیے

پہلے جیسا نہیں رہا ہوں

پہلے جیسا نہیں رہا ہوں میں اندر تک ٹوٹ گیا ہوں جیسے کاغذ پھٹ جاتا ہے دو ٹکڑوں میں پڑا ہوا ہوں دوست مرا کیوں ساتھ نبھاتے جب میں ان کو چھوڑ چکا ہوں کتنا چھوٹا سا لگتا ہوں دور سے خود کو دیکھ رہا ہوں شیشے کی دیواروں والے اک کمرے میں قید پڑا ہوں لوگوں کے ظاہر باطن کو دیکھتا ہوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3906 سے 6203