قومی زبان

آئنے سے نہ ڈرو اپنا سراپا دیکھو

آئنے سے نہ ڈرو اپنا سراپا دیکھو وقت بھی ایک مصور ہے تماشا دیکھو کر لو باور کوئی لایا ہے عجائب گھر سے جب کسی جسم پہ ہنستا ہوا چہرا دیکھو چاہیئے پانی تو لفظوں کو نچوڑو ورنہ خشک ہو جائے گا افکار کا پودا دیکھو شہر کی بھیڑ میں شامل ہے اکیلا پن بھی آج ہر ذہن ہے تنہائی کا مارا ...

مزید پڑھیے

بیتے ہوئے لمحوں کے جو گرویدہ رہے ہیں

بیتے ہوئے لمحوں کے جو گرویدہ رہے ہیں حالات کے ہاتھوں وہی رنجیدہ رہے ہیں ان جلووں سے معمور ہے دنیا مرے دل کی آئینوں کی بستی میں جو نادیدہ رہے ہیں رندان بلا نوش کا عالم ہے نرالا ساقی کی عنایت پہ بھی نم دیدہ رہے ہیں برسوں غم حالات کی دہلیز پہ کچھ لوگ گل کر کے دئیے ذہنوں کے خوابیدہ ...

مزید پڑھیے

آئنوں سے پہلے بھی رسم خود نمائی تھی

آئنوں سے پہلے بھی رسم خود نمائی تھی دل شکار ہوتے تھے ایسی دل ربائی تھی پھول پھول بام و در راستے ہیں گل پیکر وہ ادھر سے گزرے تھے یا بہار آئی تھی پاس کا مسافر کیوں اٹھ کے دور جا بیٹھا نام پوچھ لینے میں ایسی کیا برائی تھی کچھ شفق شفق عارض کچھ افق افق چہرے آرزو نے بزم اپنی رات یوں ...

مزید پڑھیے

یوں ہی گزرے نہ رات خوشیوں کی

یوں ہی گزرے نہ رات خوشیوں کی کچھ تو کر ہم سے بات خوشیوں کی تھام لو تم خوشی کے دامن کو مختصر ہے حیات خوشیوں کی چھوڑ کر غم کے تذکرے سارے آؤ چھیڑیں گے بات خوشیوں کی غم نہ آئے تمہاری قسمت میں گر نکالو زکوٰۃ خوشیوں کی میں نے اپنوں پہ اعتماد کیا لٹ گئی کائنات خوشیوں کی جینا سیکھو ...

مزید پڑھیے

تجھ سا ملے گا ماں نہ کوئی معتبر مجھے

تجھ سا ملے گا ماں نہ کوئی معتبر مجھے رہنے دے زیر پا تو یوں ہی عمر بھر مجھے مجھ کو گزارتی رہی ماضی کی رہ گزر حسرت سے دیکھتا رہا مٹی کا گھر مجھے میری صدائیں برسر محفل نہ جب رہیں دنیا نے تنہا چھوڑ دیا خاک پر مجھے اک شعر جانے کس کے تصور میں کہہ دیا برسوں پکارتا رہا میرا ہنر ...

مزید پڑھیے

مری خطا سر محفل تلاش کرتا ہے

مری خطا سر محفل تلاش کرتا ہے بہانہ قتل کا قاتل تلاش کرتا ہے چبھو کے طنز کے نیزے ہماری رگ رگ میں وہ شدت خلش دل تلاش کرتا ہے چمن جلا کے پرندوں کا کر کے قتل عام وہ نغمہ ہائے عنادل تلاش کرتا ہے رموز نقد و نظر سے جو آشنا بھی نہیں غزل میں نقص وہ جاہل تلاش کرتا ہے وہ خون حسرت دل سے نواز ...

مزید پڑھیے

نظر میں منظر رفتہ سما بھی سکتا ہے

نظر میں منظر رفتہ سما بھی سکتا ہے کوئی بھلایا ہوا یاد آ بھی سکتا ہے میں اس سے روٹھ گیا ہوں مگر یہ حق ہے اسے منانا چاہے تو مجھ کو منا بھی سکتا ہے میں اس کے رحم و کرم پر ہوں ایک مدت سے جلا بھی سکتا ہے مجھ کو بجھا بھی سکتا ہے یہ اختیار اسے دے دیا گیا ہے کہ وہ ہنسا بھی سکتا ہے مجھ کو ...

مزید پڑھیے

دشت میں پھول کھلا رکھا ہے

دشت میں پھول کھلا رکھا ہے ہم نے دل دل سے ملا رکھا ہے تیری خاطر تجھے معلوم کہاں ہم نے کس کس کو بھلا رکھا ہے بس ترا ذکر نئی فکر کے ساتھ ہجر میں اور تو کیا رکھا ہے کیا خبر آج ہی کر ڈالیں ہم کام جو کل پہ اٹھا رکھا ہے اس نے رکھا ہے سکوں نیکی میں اور گناہوں میں مزا رکھا ہے آئینہ دیکھ ...

مزید پڑھیے

کوئی دانائیوں کو ہیچ جانے

کوئی دانائیوں کو ہیچ جانے کوئی نادانیوں سے خوش نہیں ہے کبھی گھبرا اٹھے دل مشکلوں سے کبھی آسانیوں سے خوش نہیں ہے گلوں سے ہے گلا شاخ شجر کو سمندر پانیوں سے خوش نہیں ہے کوئی ہنگامہ آرائی پہ نالاں کوئی ویرانیوں سے خوش نہیں ہے دلا میری طبیعت ان دنوں کچھ تری من مانیوں سے خوش نہیں ...

مزید پڑھیے

خواب میں تیرا آنا جانا پہلے بھی تھا آج بھی ہے

خواب میں تیرا آنا جانا پہلے بھی تھا آج بھی ہے تجھ سے اک رشتہ انجانا پہلے بھی تھا آج بھی ہے رنگ بدلتی اس دنیا میں سب کچھ بدل گیا لیکن میرے لبوں پر تیرا فسانہ پہلے بھی تھا آج بھی ہے اپنے دکھ سکھ کہہ لینا کبھی ہنس لینا کبھی رو لینا تنہائی سے اپنا یارانہ پہلے بھی تھا آج بھی ہے جس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3899 سے 6203