آئنے سے نہ ڈرو اپنا سراپا دیکھو
آئنے سے نہ ڈرو اپنا سراپا دیکھو وقت بھی ایک مصور ہے تماشا دیکھو کر لو باور کوئی لایا ہے عجائب گھر سے جب کسی جسم پہ ہنستا ہوا چہرا دیکھو چاہیئے پانی تو لفظوں کو نچوڑو ورنہ خشک ہو جائے گا افکار کا پودا دیکھو شہر کی بھیڑ میں شامل ہے اکیلا پن بھی آج ہر ذہن ہے تنہائی کا مارا ...