قومی زبان

وہ بھی چپ چاپ ہے اس بار یہ قصہ کیا ہے

وہ بھی چپ چاپ ہے اس بار یہ قصہ کیا ہے تم بھی خاموش ہو سرکار یہ قصہ کیا ہے صرف نفرت ہی تھی میرے لیے جن کے دل میں ہو گئے وہ بھی طرف دار یہ قصہ کیا ہے سامنے کوئی بھنور ہے نہ تلاطم پھر بھی چھوٹتی جائے ہے پتوار یہ قصہ کیا ہے بیٹھتے جب ہیں کھلونے وہ بنانے کے لیے ان سے بن جاتے ہیں ہتھیار ...

مزید پڑھیے

دل میں جو محبت کی روشنی نہیں ہوتی

دل میں جو محبت کی روشنی نہیں ہوتی اتنی خوب صورت یہ زندگی نہیں ہوتی دوست پہ کرم کرنا اور حساب بھی رکھنا کاروبار ہوتا ہے دوستی نہیں ہوتی خود چراغ بن کے جل وقت کے اندھیرے میں بھیک کے اجالوں سے روشنی نہیں ہوتی شاعری ہے سرمایا خوش نصیب لوگوں کا بانس کی ہر اک ٹہنی بانسری نہیں ...

مزید پڑھیے

پیار کا پہلا خط لکھنے میں وقت تو لگتا ہے

پیار کا پہلا خط لکھنے میں وقت تو لگتا ہے نئے پرندوں کو اڑنے میں وقت تو لگتا ہے جسم کی بات نہیں تھی ان کے دل تک جانا تھا لمبی دوری طے کرنے میں وقت تو لگتا ہے گانٹھ اگر لگ جائے تو پھر رشتے ہوں یا ڈوری لاکھ کریں کوشش کھلنے میں وقت تو لگتا ہے ہم نے علاج زخم دل تو ڈھونڈ لیا لیکن گہرے ...

مزید پڑھیے

صرف خیالوں میں نہ رہا کر

صرف خیالوں میں نہ رہا کر خود سے باہر بھی نکلا کر لب پہ نہیں آتیں سب باتیں خاموشی کو بھی سمجھا کر عمر سنور جائے گی تیری پیار کو اپنا آئینہ کر جب تو کوئی قلم خریدے پہلے ان کا نام لکھا کر سوچ سمجھ سب طاق پہ رکھ کر پیار میں بچوں سا مچلا کر

مزید پڑھیے

شیشے کے مقدر میں بدل کیوں نہیں ہوتا

شیشے کے مقدر میں بدل کیوں نہیں ہوتا ان پتھروں کی آنکھ میں جل کیوں نہیں ہوتا قدرت کے اصولوں میں بدل کیوں نہیں ہوتا جو آج ہوا ہے وہی کل کیوں نہیں ہوتا ہر جھیل میں پانی ہے ہر اک جھیل میں لہریں پھر سب کے مقدر میں کنول کیوں نہیں ہوتا جب اس نے ہی دنیا کا یہ دیوان رچا ہے ہر آدمی پیاری ...

مزید پڑھیے

اس بار ملے ہیں غم کچھ اور طرح سے بھی

اس بار ملے ہیں غم کچھ اور طرح سے بھی آنکھیں ہیں ہماری نم کچھ اور طرح سے بھی شعلہ بھی نہیں اٹھتا کاجل بھی نہیں بنتا جلتا ہے کسی کا غم کچھ اور طرح سے بھی ہر شاخ سلگتی ہے ہر پھول دہکتا ہے گرتی ہے کبھی شبنم کچھ اور طرح سے بھی منزل نے دیئے طعنے رستے بھی ہنسے لیکن چلتے رہے اکثر ہم کچھ ...

مزید پڑھیے

ڈھونڈا ہے ہر جگہ پہ کہیں پر نہیں ملا

ڈھونڈا ہے ہر جگہ پہ کہیں پر نہیں ملا غم سے تو گہرا کوئی سمندر نہیں ملا یہ تجربہ ہوا ہے محبت کی راہ میں کھو کر ملا جو ہم کو وہ پا کر نہیں ملا دہلیز اپنی چھوڑ دی جس نے بھی ایک بار دیوار و در ہی اس کو ملے گھر نہیں ملا ساری چمک ہمارے پسینے کی ہے جناب ورثے میں ہم کو کوئی بھی زیور نہیں ...

مزید پڑھیے

چراغ دل کا مقابل ہوا کے رکھتے ہیں

چراغ دل کا مقابل ہوا کے رکھتے ہیں ہر ایک حال میں تیور بلا کے رکھتے ہیں ملا دیا ہے پسینہ بھلے ہی مٹی میں ہم اپنی آنکھ کا پانی بچا کے رکھتے ہیں ہمیں پسند نہیں جنگ میں بھی مکاری جسے نشانے پہ رکھیں بتا کے رکھتے ہیں کہیں خلوص کہیں دوستی کہیں پہ وفا بڑے قرینے سے گھر کو سجا کے رکھتے ...

مزید پڑھیے

اس کی آنکھیں ہرے سمندر اس کی باتیں برف

اس کی آنکھیں ہرے سمندر اس کی باتیں برف پھر بھی نقش ہوا ہے دل پر اس کا اک اک حرف کوئی بھرے کانٹوں سے دامن کوئی پھول چنے اپنا اپنا دامن سب کا اپنا اپنا ظرف اس کی چاہ میں رانجھا بن کر بیلا بیلا گھومے دھوپ کے اس صحرا میں اپنی عمر ہوئی ہے صرف اک دوجے کو دیکھ نہ پائے برسوں بیت ...

مزید پڑھیے

میں نے اس کو برف دنوں میں دیکھا تھا

میں نے اس کو برف دنوں میں دیکھا تھا اس کا چہرہ سورج جیسا لگتا تھا یوں بھی نظریں آپس میں مل لیتی تھیں وہ بھی پہروں چاند کو تکتا رہتا تھا وہ گلیاں وہ رستے کتنے اچھے تھے جب وہ ننگے پاؤں گھوما کرتا تھا چاروں جانب اس کی خوشبو بکھری تھی ہجر کا اک موسم بھی اس کے جیسا تھا دور کہیں آواز ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3900 سے 6203